.

کیمرون نے شامی صدر کو کیسے ناکام بنایا؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں سعودی سفارتکار شہزادہ ترکی الفیصل کا ایک بیان نظر سے گزرا جو کئی معنی لیے ہوئے تھا۔ انہوں نے کہا: "یورپ، شامی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کا شکوہ کرتا ہے۔ اس کا بہت آسان حل ہے۔ صرف ایک شامی پناہ گزین کو لے جائیں اور وہ ہے شام کا صدر بشار الاسد، پھر آپ کو دس ملین شامی پناہ گزینوں سے نجات مل جائے گی۔"

یہ حقیقتاً درست ہے، کیونکہ شام کا سارا فساد ہی بشار کی وجہ سے ہے۔ اس مسئلے کے کئی براہ راست حل ہیں، لیکن سیاستدان مختلف پیچیدہ حل تلاش کر رہے ہیں جو بنیادی مسئلے سے تعلق ہی نہیں رکھتے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا بیان، جس میں فری سیرئین آرمی [ایف ایس اے] کی حمایت اور تعاون کا مطالبہ کیا گیا ہے، بھی اس مسئلے کا ایک براہ راست حل ہے۔ داعش کے خلاف فوجی کارروائی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام میں تقریباً ستّر ہزار بشار مخالف جنگجو ہیں، جو بنیادی طور پر 'ایف ایس اے' ہی ہیں، جن کا تعلق انتہا پسند گروپوں سے نہیں ہے اور ہم ان کے ساتھ مل کر داعش پر حملے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ 'ایف ایس اے' کی اکثریت شامی فوج سے منحرف ہونے والے فوجیوں پر مشتمل ہے جن کا انتہا پسند نظریات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دس گھنٹے کی بحث

کیمروں کا بیان دارلعوام میں شام کے مسئلے پر دس گھنٹے طویل گرما گرم بحث کے بعد آیا جس میں انہوں نے پارلیمنٹرینز کو داعش پر برطانوی فضائی حملوں کی حمایت کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ شامی صدر بشار الاسد نے کیمرون کے بیان کو ناکام بنانے کی کوشش اس طرح کی کہ انہوں نے بی بی سی کو اس بحث کے بعد ایک انٹرویو دیا جو اسی دن نشر بھی ہوا مگر وہ پھر بھی ناکام رہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے بشار الاسد کی کوششوں کو ناکام بنا دیا اور پارلیمنٹ کے ارکان نے فوجی مداخلت کے حق میں ووٹ بھی دے دیا۔ فوجی مداخلت کے لئے ان کے دلائل اور مسئلے کے بارے میں ان کا موقف بہت واضح تھا۔ انہوں نے کہا کہ "شام کےمسئلے کی وجہ حکومت اور دہشت گرد تنظیمیں دونوں ہیں۔ جب تک برطانیہ، یورپ اور دنیا کے تحفظ کے لیے داعش سے لڑنا ضروری ہے، اس وقت تک مسئلے کا حل 'ایف ایس اے' جیسے شامی قوم پرستوں کی حمایت کرنا ہے اور یہ اس مسئلے کے حل کے لئے بنیادی قدم بن سکتا ہے۔"

بشارالاسد سے تعاون بے سود

شام کے مسئلے کا جو حل روس چاہتا ہے اور جس پر کئی مغربی حکومتوں کو اعتراض نہیں ہے، وہ بشار کے تعاون کے ذریعے داعش سے لڑنا ہے۔ تاہم یہ کارگر ثابت نہیں ہو گا۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ کامیاب ہو جاتا ہے تب بھی اس کے ذریعے آدھا مسئلہ حل ہو گا اور صرف دہشت گرد گروپ ختم ہوں گے۔ لیکن در حقیقت یہ شام کے مسئلے کی بنیاد کو پھر بھی جوں کا توں باقی رکھے گا جو اس ساری کشیدگی کی جڑ ہے، یعنی وہ حکومت جو شامی عوام کی دشمن بن چکی ہے، جس نے تین لاکھ معصوم افراد کو قتل کیا ہے، ایک کروڑ سے زیادہ کو بے گھر اور زیادہ تر شہروں کو تباہ کر کے کھنڈر بنا دیا ہے۔

اس طرح خواہ جو کچھ بھی کیا جائے یہ دہشت گردی کبھی ختم نہیں ہو سکتی جب تک اس کی جڑ کو ختم نہ کر دیا جائے۔ کیمرون کا مطالبہ یہی ہے کہ شام کی قوم پرست قوتوں کی حمایت کی جائے جو اپنے ملک کے دفاع کے لیے دہشت گردوں سے لڑنا چاہتی ہیں اور تمام شامی باشندوں کا نمائندہ ایک نیا حکومتی نظام بھی قائم کر سکتی ہیں۔

شام کی صورتحال بلا شبہ پیچیدہ ہو چکی ہے لیکن اس کے حل کا روسی طریقہ، یعنی داعش کو کچلنا اور بشارالاسد حکومت کواقتدار میں باقی رکھنا، اس کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ یہ طریقہ حقیقتاً آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہو گا۔ روسیوں کا یہ طریقہ بالکل وہی ہے جو ایران کی پالیسی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اب روسیوں کو اسے بدل دینا چاہئے کیونکہ وہ اب زمینی حقائق ان کے سامنے واضح ہو چکے ہیں۔ ڈیوڈ کیمرون نے بھی اپنے حالیہ بیان میں اسی جانب ایک بالواسطہ اشارہ کیا ہے جب انہوں نے کہا کہ روسیوں نے بھی اب 'ایف ایس اے' سے ڈیل کرنا شروع کر دیا ہے اور اس کے وجود کو تسلیم کر لیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.