.

ذرا اسرائیل تک - آخری قسط

سحر صدیقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب خوشید احمد قصوری وطن عزیز کے وزیر خارجہ تھے تواس وقت عنان حکومت جنرل پرویز مشرف نے سنبھال رکھی تھی چنانچہ اب جو قصوری صاحب نے اسرائیل کے ساتھ رابطے اور اپنے خفیہ دوے کا انکشاف کیا تو سابق صدر نے بھی گوہر افشانی کرنا ضروری سمجھا۔ موصوف نے ایک نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ان کے دور حکومت میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بارے حکمت عملی یہ تھی کہ جب تک فلسطین کے معاملے پر پیش رفت نہ ہو، اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ (تاہم سابق صدر نے اسرائیل کے ساتھ رابطے کی حکمت عملی کی ''حکمت''بیان کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی)۔

حقائق خواہ کچھ بھی ہوں لیکن یہ بات بہر حال طے ہے کہ اسرائیل کا پاکستان کے بارے میں رویہ غیر معمولی ہے۔ ایک غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق اسرائیل کی حکومت کی جانب سے پاکستانی باشندوں اور پاسپورٹ رکھنے والوں کو اسرائیل میں داخلے کے وقت سرحد یا ایئرپورٹ پر موجود ایمیگریشن کے عملے کے پاس اپنا پاسپورٹ جمع کرانے کے بعد ایک عارضی دستاویز فراہم کر دی جاتی ہے جو ان کے قیام کے دوران ان کی شناخت اور اجازت نامے یعنی ویزا کے مترادف تصور کی جاتی ہے۔ واپسی پر یہ دستاویز جمع کراکے اپنا اصل پاکستانی پاسپورٹ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مذکوہ پاکستانی کی اسرائیل میں آمد اور واپسی کا کوئی دستاویزی ثبوت نہ رہے۔ دوسری طرف یہ بھی شنید ہے کہ اسرائیل میں سیکورٹی فورسز کو کسی پاکستانی کو دیکھتے ہی گولی ماردینے کا حکم ہے۔ بہر حال اگر یہ بات سچ ہو تو پھر بھی اس پر کسی پاکستانی اور خاص طور پر کسی مسلمان کو ملال نہیں کرنا چاہیے۔ آخر پاکستان میں بھی تو یہی ہوتا ہے کہ اگر کسی کی انتہا درجے کی توہین اور بے عزتی کرنا مقصود ہوتو اس کو ''یہودی ایجنٹ'' قرار دیا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ خورشید احمد قصوری اور پرویز مشرف نے یہ بات کسی ''حکمت عملی'' کے تحت ہی فراموش کررکھی ہے۔

یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ کسی اسرائیلی یا یہودی کو پاکستان آنے کے لئے کوئی خاص تردد نہیں کرنا پڑتا۔ مجھے یاد ہے کہ 80 کے عشرے کے آخری برسوں میں ایک شام میں اپنے دوست ڈاکٹر یاسین رضوی (مرحوم) کے ساتھ اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہم دونوں اردگرد کے ماحوال سے بے نیاز ''باہمی دلچسپی کے امور'' بارے تبادلہ خیال کررہے تھے۔ اچانک ڈاکٹر صاحب کی نگاہ ایک ایسے شخص پر پڑی جو کچھ دور، لفٹ کی طرف گامزن تھا۔ موصوف نے نہایت بے تکلفی کے ساتھ لفظ ''سوری'' میری گود میں پھینک دیا اور خود ایک شعلے کی طرح اس شخص کا پیچھا کیا۔ وہ کچھ دیر کے بعد واپس آئے اور ایک گہرا سانس لے کر اپنی نشست پر نیم دراز ہوگئے۔ ڈاکٹر صاحب نے چند ثانیوں کے بعد مسکراتے ہوئے کہا ''یار! معاف کرنا۔ میں آپ کو کچھ بتائے بغیر چلا گیا تھا۔

دراصل میں نے جس شخص کا تعاقب کیا وہ مشہور عرب تاجر عدنان خشونگی کے ذاتی سٹاف میں شامل ہے۔ یہ شخص میرا بہت اچھا دوست ہے لیکن اس میں ایک ہی خرابی ہے کہ وہ یہودی ہے''۔ میں نے محض زچ کرنے کے لئے جواب دیا ''ڈاکٹر صاحب ، کیا یہ یہودی اسلام آباد میں آپ کے تعاقب کی تمنا لے کر آیا ہے؟۔ اس پر ڈاکٹر صاحب نے پہلے تو ایک بھر پور قہقہہ لگایا اور پھر گویا ہوئے ''صرف یہ ہی نہیں بلکہ اس جیسے بے شمار یہودی اسی ہوٹل میں آکر بلاخوف قیام کرتے ہیں اور بیشتر مجھ سے ملاقات کے بغیر ہی، کسی اور سے ملاقات کرکے واپس چلے جاتے ہیں''۔

ایسے ہی دنوں میں میرے ایک اور دوست مشتاق ملک نے مجھے بتایا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ اسلام آباد کے بعض گیسٹ ہاؤس میں فرضی ناموں پر اسرائیل کے ایجنٹ قیام پذیر ہیں۔ مشتاق ملک نے بھی ایسے ہی انکشاف کئے تھے جن کا مفہوم بجا طور پر یہی تھا کہ اسرائیلی اور یہودی باشندے پاکستان میں حسب منشا اور حسب ضرورت قیام کرنے کا یارا کھتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس کا ایک سبب یہ ہو کہ ان میں سے بیشتر کے پاس امریکی اور برطانوی پاسپورٹ ہوتے ہیں جن پر عموماً داخلے اور محدود مدت کے قیام کے لئے پاکستان کے ویزے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ ماضی قریب کے حالات اور وقعات نے یہ حقیقیت بھی بے نقاب کردی ہے کہ اگر امیگریشن کے قوانین کے تحت ویزے کی ضرورت آن پڑے تو حسین حقانی ایسے سفارت کار پاکستان کے لئے ویزے کے حصول کو ناقابل یقین حد تک سہل اور آسان بنا دیتے ہیں۔ ایسے کئی چشم کشا واقعات بیان کئے جا سکتے ہیں کہ اسرائیل کے لئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھنے والے بہر حال ہمارے ہی ہم وطن ہیں۔ بشکریہ روزنامہ 'جہان پاکستان'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.