.

ٹرمپ صاحب کو سلام

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مجھے اس سے غرض نہیں، نہ مجھے کوئی خوشی اور راحت محسوس ہوتی ہے کہ امریکہ کے اگلے صدارتی الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کے متوقع امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کی دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ نے بہت کچھ کہا ہے مگر اب وہ ہر حد پار کر گیا ہے، اس نے کہا ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں کا داخلہ بند کر دینا چاہئے۔ سب سے دلچسپ تبصرہ وائٹ ہائوس کا ہے، اس نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا بیان ا سے صدارتی دوڑ سے باہر کر سکتا ہے، وہ الیکشن لڑنے کا اہل نہیں رہا۔

ٹرمپ نے پہلے کہا کہ امریکہ میں مسجدوں کی نگرانی کی جائے۔ ٹرمپ نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکی مسلمانوں کا ڈیٹا بیس بنایا جائے۔

سوال یہ ہے کہ ٹرمپ جو کچھ کہہ رہا ہے کیا امریکی حکومت پچھلے تیرہ برس سے اسی حکمت عملی پر عمل پیرا نہیں ہے۔ نائن الیون کے بعد صدربش نے کہا کہ نئی صلیبی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر افغانستان پر یلغار کردی، اس نے دنیا کے سامنے ایک چوائس رکھا کہ یا تو وہ امریکہ کا ساتھ دیں ورنہ انہیں دشمن تصور کیا جائے گا۔

امریکہ نے عراق پر یلغار کی اور محض اس مفروضے پر کہ صدام حسین کے پاس ایٹمی اور کیمیاوی اسلحے کا ڈھیر ہے، یہ رپورٹ برطانوی انٹیلی جنس نے گھڑی اور اب برطانیہ اعتراف کر چکا ہے کہ یہ رپورٹ غلط تھی، ٹونی بلیئر نے اس جھوٹ پر معافی بھی مانگی ہے، ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ جس برطانوی انٹیلی جنس افسر نے یہ رپورٹ گھڑی، اسے فوری طور پر پراسرار انداز میں قتل کر دیا گیا۔عراق پر امریکی یلغار کی خود امریکیوں نے مخالفت کی، یورپ میں مخالفت کی گئی، ایشیا میں مخالفت کی گئی مگر امریکی افواج نے عراق کا فلوجہ بنا ڈالا۔

پاکستان کا نائن الیون کے سانحے سے دور دراز کا تعلق نہ تھا مگر اس پر دہشت گرد چھوڑ دیئے گئے، پچھلے ایک عشرے میں ساٹھ ہزار جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ امریکی ڈرون طیارے پاکستانی علاقوں پر دندناتے رہے اور امریکی افواج نے ایک برق رفتار آپریشن کر کے ایبٹ ا ٓباد میں اسامہ بن لادن کو شہید کر دیا۔ امریکی افواج نے سلالہ کی پاکستانی چوکی کو روندا۔

شام کے بشارالاسد ایک قانونی حکمران تھے مگر ایک دنیا ان کا تختہ الٹنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، ترکی اور نہ جانے کن کن ملکوں کے بمبار طیارے شامی بے گناہوں کا قتل عام کر رہے ہیں، داعش اور دیگر انتہا پسندوں کو امریکہ نے کھلم کھلا اسلحہ بھی دیا اور پیسہ بھی۔

لیبا پر کرنل قذافی کی جائز اور قانونی حکومت کوختم کرنے کا فریضہ نیٹو طیاروں نے انجام دیا، یہاں القاعدہ کی پیٹھ تھپکی گئی اورا سے امریکہ اور یورپی ملکوں نے قذافی کی افواج سے لڑنے کے لئے اسلحہ اور سرمایہ فراہم کیا۔

میں مصر کی بات نہیں کرتا، یہاں کے حکمران حسنی مبارک کو پنجرے میں بند کیا گیا، پھر ایک الیکشن ہوا اور اس میں جیت کر نئی جمہوری منتخب حکومت بنانے والے صدر مرسی کو بھی پنجرے میں بند کر دیا گیا ہے، اب وہاں فوج کے کمانڈر انچیف کا دور دورہ ہے۔

میں فلسطین کی بات نہیں کرتا کہ یہ بات سننے کے لئے کوئی تیار ہی نہیں، فلسطینیوں کی تین نسلیں خیمہ بستیوں میں پید اہوئیں اور وہیں مر کھپ گئیں جو باقی بچے ہیں، انہیں اسرائیلی بمبار روزانہ میزائلوں سے ختم کر رہے ہیں۔

میں کشمیریوں کی بات نہیں کرتا، پاکستان کی کل فوج سے بھی زیادہ بھارتی فوج اس چھوٹی سی وادی میں چند لاکھ مسلمانوں کے سر پہ سنگینیں تانے کھڑی ہے، پچھلے تیس برس میں ایک لاکھ کشمیری نوجوانوں کی قبریں سری نگر کے نواح میں اگ آئی ہیں۔

میں سنکیانگ کی بات نہیں کرتا، جو چین کی آزادی تک ایک خودمختار ملک تھا مگر چین کا حصہ بننے کے بعد اب یہاں کے مسلمانوں کو نماز روزے سے روک دیا گیا ہے۔

میں چیچنیا کی بات نہیں کرتا جس کی آزادی کے لئے صدیوں سے جنگ لڑی جا رہی ہے مگر جدید اسلحے سے لیس روسی افواج نے ان کو کچل کے رکھ دیا۔

ٹرمپ صاحب کو تو سلام کرنا چاہئے کہ انہوں نے مسلمانوں کو صرف امریکہ میں داخلے سے روکنے کی بات کی ہے، ان کو بش، اوبامہ کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے تہہ تیغ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔

یہ مسلمانوں کی بد قسمتی ہے کہ بھارت میں ایک نریندر مودی اقتدار میں آگیا ہے، وہ درندگی، شقاوت اور بہیمیت کی شہرت رکھتا ہے، امریکہ نے اسے دہشت گرد قرار دے کر ویزہ دینے سے انکار کئے رکھا مگر آج یہی مودی امریکی حکومت کی میزبانی سے لطف اٹھاتا ہے۔ اس مودی کے دور اقتدار میں بھارتی مسلمانوں کی زندگی عذاب بنا دی گئی ہے۔ اور وہ بھی ایک جانور گائے کے پیچھے۔

امریکی صدر بش، اور صدر اوبامہ نے جو پالیسیاں ا ختیار کیں، ان کے نتیجے میں ایک طرف عالم اسلام میں انتہا پسندی کو ہوا ملی، دوسری طرف خود امریکہ میںٹرمپ جیسا شخص سامنے آ گیا ہے جو مسلم دشمنی میں آخری انتہا پر چلا گیا ہے، اگر پچھلے دو عشروںمیں بش اور اوبامہ نے مسلمانوںکے خلاف ہولو کاسٹ کے جرم کا ارتکاب نہ کیا ہوتا تو کسی امریکی کو کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ وہ امریکہ میںمسلمانوں کے داخلے پر پابندی کی تجویز دیتا۔

مگر وہ جو کچھ کہہ رہا ہے، ا س پر امریکی حکومت پہلے ہی حرف بحرف عمل کر رہی ہے، ڈیٹا بیس صرف امریکی مسلمانوں ہی کا نہیں، پوری دنیا کا تیار کیا جا چکا ہے، دنیا کا کوئی شخص ایسا نہیں جو اس ڈیٹا بیس سے مستثنیٰ ہو، جرمنی کی لیڈر مرکل کی جاسوسی کی جا رہی ہے، سابق امریکی صدر اکانوے سالہ ضعیف جمی کارٹر کہتے ہیں کہ وہ حکومتی نگرانی کے عمل سے بچنے کے لئے کسی کو ای میل نہیں بھیجتے، اپنے ہاتھ سے خط لکھتے ہیں اور خود پیدل چل کر اسے پوسٹ بکس میں ڈالتے ہیں، امریکی قانون کے مطابق کسی گھر میں بغیر اطلاع اور اجازت کے چھاپہ مارا جا سکتا ہے۔

اور سان فرانسسکو فائرنگ کے سانحے پر تقریر کرتے ہوئے امریکی صدر اوبامہ نے کہا ہے کہ امریکی شہریوں کی زندگی کو پر امن بنانے کے لئے دنیا کے ہر ملک میں آپریشن کیا جائے گا۔ واضح رہے یہ ٹرمپ نے نہیں کہا، امریکی صدر نے کہا ہے اور اسکی تقریر وائٹ ہائوس کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہے۔

میں نہیں مانتا کہ برطانوی وزیر اعظم نے ٹرمپ کی مذمت کی ہے، یا نئے کینیڈین وزیر اعظم نے ٹرمپ کی مذمت کی ہے، امریکہ کے لاکھوں لوگوں نے ٹرمپ کی مذمت کی ہے۔ یہ سب زبانی جمع خرچ ہے، مسلمانوں سے جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، وہ اس سے بد تریں ہے جو ٹرمپ نے تجویز کیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.