مشرق وسطیٰ میں اقتدار کی کشمکش اور ترکی کا کردار

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ترکی کے خلاف عراقی حکام کی حالیہ سخت تنقید، جو صدام حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ دیکھنے میں آئی، کی وجہ محض ترک فوجوں کی عراقی حدود میں موجودگی تھی، ان کا خیال غلط ہے۔ ترک فوجیوں کی تعداد صرف ۱۵۰ ہے اور وہ موصل شہر کے قرب و جوار میں ہیں جس پر ڈیڑھ سال سے داعش کا قبضہ ہے۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شام کی شمالی سرحد پر موجود ترک افواج کودرپیش روسی حملے کا بڑھتا ہوا خطرہ صرف ترکوں تک محدود ہے، ان کا خیال بھی غلط ہے کیونکہ یہ علاقہ دنیا بھر سے آئی فوجوں اور ملیشیأوں کی کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے۔

ترکی کے خلاف ایران، عراق اور روس کا تیزی سے بڑھتا ہوا جنگی دبأو اس منصوبے کی جانب اشارہ کرتا ہے جس کا ہدف ترکی کا علاقائی کردار محدود کر کے اسے خطے کی سیاست سے باہر نکالنا ہے تاکہ شام اور عراق میں صرف ایران کو فیصلہ سازی کا اختیار حاصل ہو جائے اور تہران یہ حیثیت ترکی سے براہ راست مقابلہ کئے بغیر حاصل کر سکے۔ اس پانچ سالہ تنازع میں اس منصوبہ پر بتدریج عملدرآمد ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں اب امریکا یہاں سے پسپائی اختیار کر گیا ہے اور محض یکجہتی کے بیانات جاری کرنے تک محدود ہو گیا ہے۔

موصل کے باہر موجود ترک فوج کی بٹالین موصل کے سابق گورنر کی دعوت پر شہر کے ان نوجوانوں کی تربیت کے لئے یہاں آئی تھی جو عراقی فوج کے فرار ہو نے کے بعد شہر کا دفاع کرنا چاہتے تھے کیونکہ دہشت گرد دیہی علاقوں تک آ چکے تھے۔ موصل کو داعش کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا اور داعش کے خلاف سر گرم شیعہ ملیشیا 'الحشد الشعبی' نے بھی سنی اکثریت والے اس شہر کو آزاد کرانے کے ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس ملیشیا کو ایران نے عراقی فوج کے متبادل کے طور پر بنایا تھا اور یہ تربیت، اسلحہ کی فراہمی اور اہداف کے چنأو کے لیے ایران کی کمان میں تھی۔

سچ تو یہی ہے کہ ترکی کے علاقائی کردار کو محدود کرنے اور خطے کی سیاست سے باہر کرنے کے ایران اور روس کے منصوبے پر بلا روک ٹوک عملدارآمد کا سارا الزام ان دونوں ملکوں پر عائد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پچھلے کئی سال سے جاری اس وسیع علاقائی کشمکش میں خود ترکی نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کوئی قابل ذکرقدم نہیں اٹھایا۔

یہ ناقابل فہم ہے کہ ترکی ان خطرات سے لاعلم تھا یا اسے بالکل پتہ نہ چل سکا کہ ایران اور روس اس کے گرد گھیرا تنگ کرتے جا رہے ہیں جس سے خطے کے حالات میں ایسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جو اس کے مفادات کو سخت نقصان پہنچائیں گی۔ یہ سلسلہ یہیں پر رک نہیں جائے گا بلکہ اگلا نشانہ لازماً ترکی ہوگا کیونکہ ایران اور روس اس وقت تک عراق اور شام پر اپنے غلبے پر مطمئن نہیں ہوں گے جب تک وہ ترکی کے ممکنہ جوابی اقدام سے بچنے کی لیے اسے داخلی مسائل میں نہ الجھا دیں۔

ترکی کی موجودہ پالیسیوں کے اہداف علاقائی کشمکش میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے کیونکہ وہ میڈیا کے پیدا کردہ معمولی مسائل میں الجھا ہوا ہے یا پھر مصر کے ساتھ اختلافات اور اخوان المسلمون جیسے اپوزیشن گروپوں کی حمایت پر توجہ مرکوز کئے ہوے تھا جو اس کی قومی سلامتی کے لئے غیر اہم تھے۔ خطے کے معاملات میں اخوان المسلمون اور ترکی کے لئے مصر کا خطرہ دونوں کی حیثیت صفر کے برابر ہے، اور انقرہ کا ایسی پالیسیوں پر اصرار بلا جواز ہے۔

ایران کے خطے میں بالادستی حاصل کرنے کے منصوبے اب بہت واضح ہو چکے ہیں۔ ایران نے امریکا اور نیٹو کی بنیادی شرط یعنی ایٹمی پروگرام کے فوجی مقاصد کو ترک کر کے ان کے خطرا ت کو بے اثر کر دیا، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ پھر ایران نے عراق پر غلبہ حاصل کر لیا باوجود اس کے کہ اس کا سب سے بڑا ایجنٹ نوری المالکی اقتدار میں نہیں رہا اور بے صلاحیت وزیر اعظم حیدر العبادی کی وجہ سے تہران وہاں کی فیصلہ ساز قوت بن چکا ہے۔

اسی دوران شام میں پہلی فوجی طاقت قائم کی گئی جو ایران، عراق، لبنان اور افغانستان سے لائے گئے ایک لاکھ سے زیادہ جنگجووں پر مشتمل تھی۔ ایران نے روس کے ساتھ اپنے اتحاد کو متحرک کر کے خطے میں اپنے اثر ورسوخ میں بے انتہا اضافہ کیا جس کے لئے روس نے شام میں فضائی اور بحری افواج کے دستے اس سے بڑی تعداد میں بھیجے جو اس نے سرد جنگ کے دوران پورے خطے میں بھیجے تھے۔

ترکی جو ایران کی ہم پلہ علاقائی فوجی طاقت ہے اس کی عراق میں موجودگی کا خاتمہ اور شام میں اس کی طاقت کو مفلوج کر کے اس کو نشانے پر رکھ لیا گیا ہے۔ اکیلا ترکی ہی مشرق وسطی کے عرب ممالک میں بڑھتی ہوئی ایرانی۔روسی اتحاد کی یلغار کو روکنے کا ذمہ دار نہیں ہے، اگرچہ ترکی اس مقصد کے لیے ایک اہم ملک ہے۔ اگر ترکی نے اس جنگ کی اس سر نو حکمت عملی طے نہ کی تو وہ جلد ہی بڑی مشکلات میں پھنس جائے گا۔

ایران کی توسیع پسندی کا مقابلہ کرنے لئے ترکی کی اولین ضرورت یہ ہے کہ علاقائی صف بندیوں کو بحال اور از سرنو استوار کیا جائے۔ لیکن وہ اس وقت تک ایسا نہیں کر سکتا جب تک اس کی ترجیحات کا مرکز اخوان المسلمون جیسی تنظیموں کے اہداف رہیں گے۔ اخوان پچھلے ۳۰ سال سے ایران کی اتحادی ہے اور تہران نے انور سادات اور حسنی مبارک کے ادوار میں اخوان کو اقتدار میں لانے کی کوششیں کی تھیں ، جو ناکام رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size