.

ایرانی تیل کی معیشت کی بحالی، ایک سخت چیلنج

کامیلا انتخابی فرد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم (اوپیک) کے ویانا میں۳ دسمبر کو ہونے والے ۱۶۸ویں وزارتی میں ایرانی وزیر پیٹرولیم بیژن نامدار زنگنه کے اس بیان سے ایک ہلچل مچ گئی کہ آئندہ جنوری میں متوقع عالمی پابندیاں اٹھائے جاتے ہی ایران تیل کی پیداوار میں پانچ لاکھ بیرل یومیہ کا فوری اضافہ کر دے گا۔

ایران کی معیشت کا انحصار ہمیشہ سے تیل کی پیداوار پر رہا ہے، مگر عالمی پابندیوں سے نہ صرف ایرانی معیشت مفلوج ہو کر رہ گئی بلکہ تیل کی پیداواری صلاحیت بھی متاثر ہوئی۔ ایران کی تیل کی پیداوار ۲۰۱۲ تک چالیس لاکھ بیرل یومیہ تھی جو پابندیوں کے بعد گھٹ کر اب ۲۷ لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے۔ ملکی معیشت کو اس کے نقصانات میں ایرانی فارن بینک اکأونٹس کے منجمد ہونے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی واپسی نے مذید اضافہ کیا۔

یہی وجہ تھی کہ ۲۰۱۳ میں اعتدال پسند حسن روحانی کو صدر منتخب کیا گیا جن کا قوم سے وعدہ تھا کہ وہ ان نقصانات کا ازالہ اور گرتی ہوئی معیشت کو سنواریں گے۔

سب کی نظریں تیل کی وزارت پر

معیشت کی بحالی کے لئے ایرانی سیاستدان پہلے تو سارا بوجھ وزارت خارجہ پر ڈالتے رہے کہ وہ مغربی طاقتوں سے ایٹمی معاہدے کے لئے مذاکرات شروع کرے۔ مگر اب ایٹمی معاہدے کے بعد تمام نظریں تیل کی وزارت پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ اپنا کام شروع کرے۔ چنانچہ زنگنه نے میڈیا سے ابتدائی بات چیت میں یہ اعلان بھی کیا کہ ایران پابندیاں اٹھنے کے فوری بعد تیل کی پیداوار میں پانچ لاکھ بیرل یومیہ کا اضافہ کر دے گا اور یہ جنوری میں متوقع ہے۔

زنگنه ویانا میں بنیادی طور پر پبلسٹی مہم کے لئے گئے تھے، جس کا مقصد تیل کے عالمی صارفین کی توجہ اس جانب مبذول کرانا تھا کہ ایران پوری طاقت سے تیل کی مارکیٹ میں واپس آنے والا ہے۔ تیل کی عالمی منڈی میں پیداوار پہلے ہی ضرورت سے زیادہ ہے مگر تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک اس میں کمی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اس سے قیمتوں میں اضافہ ہو گا اور یوں ایران کے تیل کی کھپت کے لئے گنجائش پیدا ہو جائے گی۔

مگر ضروری نہیں کہ تیل کی اضافی پیداوار ایرانی معیشت کو ترقی کے لئے مطلوبہ قوت محرکہ فراہم کر سکے کیونکہ پیداواری کوٹے کی عدم موجودگی کے نتیجے میں قیمتوں کی حالیہ سطح بہت گر چکی ہے اور اگر ایران ماضی کی چالیس لاکھ بیرل یومیہ کی حد تک بھی پہنچ جائےتب بھی وہ مطلوبہ زر مبادلہ نہیں کما سکے گا۔ توانائی کے شعبے میں بڑے پیدواری ممالک کا مقابلہ کرنے کے لئے ایران کو ابھی کافی فاصلہ طے کرنا باقی ہے۔

زنگنه کہ کوشش ہے کہ غیر ملکی تیل کمپنیوں کو پرکشش معاہدوں کی صورت میں ترغیت پیش کی جائے مگر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے قواعد وضوابط میں کئی تبدیلیاں درکار ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے درکار پرکشش ماحول پیدا کرنے کے لئے بھی کئی اہم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ حال ہی میں ایرانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر بلاجواز من مانی گرفتاریوں سے بھی عالمی سرمایہ کاروں کو منفی پیغام ملا ہے۔

علاقائی کشیدگی

ہمسایہ ممالک میں بداعتمادی بھی ایران کا ایک منفی پہلو ہے جو تیل کی منڈی اور کارٹیل کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ شام کی خانہ جنگی میں آج ایران اور روس اتحادی ہیں، مگر جلد ہی عالمی پابندیاں اٹھنے اور ایران کے مسابقتی دوڑ میں شامل ہونے کے بعد یہ ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ دونوں ممالک کی دوستی موجودہ سطح پر باقی رہے گی، کیونکہ پابندیاں اٹھنے کے بعد ایران تیل کی منڈی میں اپنی سابقہ جگہ کے حصول کے لئے سخت لڑائی لڑے گا۔

ایران بھی یہ سمجھتا ہے کہ اوپیک پیداوار کی حالیہ سطح کو برقرار رکھے گا چنانچہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لئے اسے دوسرے طریقے اختیار کرنے ہوں گے۔ یہ سرمایہ ایران کو اپنی فرسودہ پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے قابل بنا سکے گا۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کی کان کنی کی صنعت اس کے لئے تیل سے زیادہ منافع بخش ہو سکتی ہے بالخصوص اس وقت جب تیل منڈی میں پہلے ہی بہتات ہے اور وہ امریکی شیل تیل پیدا کرنے والوں کے ساتھ ایک سخت مسابقت کی حالت میں ہے۔

ویانا میں ۴ دسمبر کو بند کمرے میں سات گھنٹے طویل گفت وشنید کے بعد اوپیک کے وزرا باہر آئے تو تھکے ہوئے لگ رہے تھے مگر انہوں نے میڈیا سے کوئی بات چیت نہیں کی۔ ممکن ہے جب شام کے مسئلے پر مذاکرات ختم ہو جائیں گے تو پھر تیل پر بات کرنے کی ضرورت پیدا ہو جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.