.

16دسمبر....سقوطِ اختیاراتِ رینجرز!

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اے سندھ حکومت مبارک ہو! آپ کے ’’بڑوں‘‘ نے 16 دسمبر 1971 کو ’’سقوطِ ڈھاکا‘‘ کے جس گہرے زخم سے ہمارے دلوں کو دائمی درد میں مبتلا کیا تھا اُس میں ’’تاریخ کا لحاظ‘‘ رکھتے ہوئے آپ نے کیا خوب اضافہ فرمایا ہے ـ....اِس بار بھی وہی 16دسمبر تھی، اِس بار بھی ایک اسمبلی تھی اور اِس بار بھی ’’جمہوری اقدارکے تحفظ‘‘ کا پرفریب نعرہ تھا... معصوم بچوں کی شہادت کو جس دن ایک برس بیتا آپ نے اُسی دن سندھ اسمبلی سے رینجرز کے اختیارات میں ’’مشروط‘‘لفظ کا اضافہ فرما کرایک ایسی قررادار کو منظورکرالیا جس نےبلاشبہ آپ کے ’’جمہوری قد کاٹھ‘‘ میں تو اضافہ کیا لیکن دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہر ایک فرد کو ’’کاٹ‘‘ کے رکھ دیا.... مبارک ہو! کہ دنوں کے انتخاب میں آپ کبھی نہیں چوکے....مبارک ہوکہ آپ نے شہدائےپشاور کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے .... مبارک ہو کہ اب پوری اسمبلی ہی (اپوزیشن کے سوا) ’’سہولت کار‘‘ بن چکی ہے .... مبارک ہوکہ آپ نے ڈاکٹر عاصم جیسے ایک نہیں کئی چہروں سے ایک ہی دن قوم کو شناسا کرادیا....مبارک ہوکہ اپنے دل کی بات ’’قرارداد‘‘ تک لانے کے لئے ہر اک ’’منتخب نفس‘‘ نے درست وقت کا انتخاب کیا، وہی وقت کہ جب پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے آڈیٹوریم میں کشتوں کے پشتے لگائے جارہے تھے اور سبز سویٹر میں ملبوس علم کی شمع سے محبت کے طالب بے دردی سے بھونے جارہے تھے.... مبارک ہو کہ آپ نے قومی یکجہتی کے دن جنت کے پھولوں کو زبردست نذرانہ عقیدت پیش کیا اور اُنہیں یہ باور کرادیا کہ تمہارا خون سستا ہے لیکن ہمارا ’’ڈاکٹر‘‘ بہت مہنگا ہے ....

چند فائلوں سے اتنا پریشان کیوں ہیں جناب! ابھی تو ویسے بھی نامۂ اعمال ’’بائیں ہاتھ‘‘ میں پکڑائے جانے کا وقت ہی نہیں آیا ہے ،قومی مفاد کی خاطر’’محتاط زبانیں‘‘ تو اب بھی ’’خاموش‘‘ ہیں....بیان تو ’’ایان‘‘ کے بھی لئے جاسکتے تھے لیکن بقول ’’شخصے‘‘ کہ ’’وہ جب میری چڑیا کا کچھ نہیں بگاڑ سکے تو میرے شیر کا کیا اُکھاڑ لیں گے ‘‘....بے شک آپ کے ’’شیر‘‘ کا کچھ اُکھاڑنا ’’ہدف‘‘ بھی نہیں تھا ، اب شیر اگر آپ سے خود ہی ’’اکھڑ‘‘ جائے تو اِس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کا کیا قصور؟اور پھر آپ کے ساتھ ہوا ہی کیا ہے؟اربوں روپے سے بھری لانچیں، گھروں سے برآمد ہونے والی ہر جنسی کرنسی(یعنی ڈالر، یورو، درہم و دینار) کوڑیوں کے مول زمینوں کی الاٹمنٹ، دہشت گردوں کے علاج معالجے کے لئے ’’اچھی شہرت‘‘ والے اسپتال....گھپلے، فراڈ اور چوریاں چکاریاں، ابھی کچھ بھی تو بے نقاب نہیں ہوا ہے .... اورپھر آپ ہی نے تو فرمایاتھا کہ ’’ہم نےہمیشہ رہنا ہے ‘‘ اور ’’آپ نے تین سال بعد چلے جانا ہے ‘‘ پھر گھبراہٹ کیسی؟ یہ تلملاہٹ کیوں؟.... یقیناً دیگر صوبوں میں ’’فرشتے‘‘ نہیں بستے لیکن کوڑا تو پورے گھرمیں پھیلا ہوا ہے نا! پھر ’’صفائی والے ‘‘کون سا کونا پہلے چُن کر کیڑوں کو چُنتےہیں یہ آپ اُن ہی پر چھوڑ دیجیے، واللہ کوئی بچ نہیں پائے گا یقین رکھیےلیکن خواہ مخواہ ’’ کسی ‘‘ کو بچا کر ڈیسکیں بجانےسے جو اب تلک بچے ہوئے ہیں وہ بچ نہیں پائیں گے....میں تو حیران ہوں کہ اعتراض تو ایم کیو ایم کو کرنا چاہیےتھا، اُن کا توپہلے دن ہی سے ایسی تمام گرفتاریوں کے خلاف کہ جس کے بعد ملزمان کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتاکھلا اورواضح مؤقف ہے اور اُن ہی کے بقول کہ وہ سب سے زیاد ہ متاثر ہوئے ہیں لیکن اُنہوں نے تو اسمبلی میں اپنی سیاسی بصیرت کا بھرپورمظاہرہ کیا اور رینجرز کے اختیارات پر (جو اُن کے مطابق اُن ہی کے خلاف استعمال ہورہے ہیں) سندھ حکومت کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کی مخالفت کر کے ’’باشعور‘‘ ہونے کا ثبوت بھی دے دیالیکن آپ نے شہدائے پشاور کو یاد کرنے کے بجائے اپنی پوری توجہ اُن ’’یادوں‘‘ کی جانب رکھی جو ڈاکٹر عاصم نے ’’اداروں‘‘ کو ’’یاد‘‘ کرادی ہیں....

استدلال بھی ’’جان دار‘‘ ہے کہ ’’فوج اور رینجرز محترم ادارے ہیں، اُنہیں ایسے کام پر نہیں لگانا چاہیے کہ اُن پر تنقید ہو‘‘....درست فرمایا!مگر حضورِ والا ’’ایسے کام‘‘ بھی تو درجنوں کے حساب سے ہوئے ہیں، آپ کو ضرورت ہی کیا تھی کہ ’’ایسے کام‘‘ کرتے اور نہ صرف کرتے بلکہ ’’ایسے ایسوں‘‘ سے کراتے کہ جو کیچڑ میں ننگے پاؤں اُترنے کے بعد پاؤں دھوئے بنا ہی آپ کے ’’ہاؤس‘‘ تک چلے آتے ہیں اب بے چارہ کھوجی بھی کرے تو کیا کرے....وہ تو صرف قدموں کے نشان کی سمت ہی آگے بڑھ رہا ہے اگر یہ آگے جاکر آپ کے ’’قالینوں‘‘ تک جاپہنچتےہیں توگردن پکڑنے ’’جیسے کام‘‘ تو ’’ایسے کام‘‘ کے بعد کرنے پڑیں گے نا!

یہ بھی بجا فرمایا کہ ’’تحریری اجازت میں حرج ہی کیا ہے ‘‘....بھئی آپ کبھی غلط کہہ سکتےہیں؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا....یہ رینجرز والے بھی عجیب ہیں، پتہ نہیں اِنہیں ’’غفلت‘‘ میں ملزمان کو اپنی گرفت میں لینے کا اتنا شوق کیوں ہے ؟....یہ ایک انتہائی ناکارہ ادارہ ہے ، پوری دنیا میں کہیں بھی اِس طرح ’’خطرناک ملزمان‘‘ یا اُن کے ’’سہولت کاروں‘‘ کو گرفتار نہیں کیا جاتا....اِس کے لئے ضروری ہےکہ کم از کم ایک ہفتے پہلے ’’مشتبہ شخص‘‘ کو باقاعدہ اطلاع دی جائے ، اگر اُس کا نام ای سی ایل میں موجود ہے تو فوری طور پر اُسے وہاں سے نکلوایا جائے، اپنی روزانہ کی کارروائی سے اُسے آگاہ کیا جاتا رہے ، جتنے ثبوت اکھٹے کیے جاچکے ہیں اُنہیں سب سے پہلے اُسی سے ’’شیئر‘‘ کیا جائے، تمام ممکنہ دفعات اور مقدمے کے سلسلے میں ضروری اندراجات سے اُسے لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھا جائے ،وہ کس سے ملتا ہے ، کہا ںجاتاہے ، کیا کرتا ہے ، اِن سب معاملات سے اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھا جائے اور پھر جب وہ ’’آرام‘‘ سے ملک سے ’’بھاگ‘‘ جائے تو مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی جائے تاکہ ’’انصاف کے تقاضوں‘‘ کو ٹھیس نہ پہنچے....

محترم میجر جنرل بلال اکبر صاحب! ’’معزز اراکینِ سندھ اسمبلی ‘‘ کی منظور کردہ ’’سرکاری‘‘ قرارداد کی روشنی میں اب آپ پر لازم ہے کہ آپ تمام ’’سہولت کاروں‘‘ کو ’’بھرپور سہولت ‘‘ فراہم کریں،ہر ایک ملزم اور بالخصوص’’ اُن ‘‘کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ہر ’’بلند دستار‘‘ شخص پرہاتھ ڈالنے سے پہلے’’اجازت کے ہاتھ پر بیعت‘‘ کرنے کے بعد اُن کے وضع کرد ہ قواعد و ضوابط کی روشنی میں ’’ضابطے‘‘ کی کارروائی کی تیاری کریں تاکہ ’’رابطے‘‘ کے ذریعے مطلوب کو طالب پر غالب آنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جاسکے .... بالفرض بلکہ یقیناً اگر آپ کو اجازت نہ ملے تو آپ پر ’’واجب‘‘ ہے کہ آپ تمام ثبوت آپریشن کے کپتان کے قدموں میں نچھاور کردیں کہ یہی ’’بزرگوں‘‘ کے احترام کا ایک بہترین طریقہ ہے .... اوریہ بھی یاد رکھیے گا کہ اجازت لینے کا بھی کوئی ’’وقت‘‘ ہوتا ہے ، یہ آپ کے لئے قطعاً مناسب نہیں کہ آپ ’’بھنگ میں رنگ‘‘(معاف کیجیے گا ) رنگ میں بھنگ ڈال کر اپنے فرائض کی ادائیگی کی انجام دہی کا رونا روئیں....یہ صوبہ بھی ’’اُن‘‘ کا ہے اور اجازت دینے والا ’’عجوبہ‘‘ بھی اُن ہی کے احکامات کا پابند ہے ....بدعنوانی کی گنجان آباد گلیوں میں پھنسے ’’ڈھیٹ غلاموں‘‘ کو جب آزادی کی خواہش نہیں تو آپ کیوں اجازت لے کر اُن گلیوں میں جانا چاہتے ہیں کہ جہاں بکھرے پڑے ہیں اِن کے متعفن کرتوت لیکن اُنہیں بے نقاب کرنے کی یہاں اجازت ہے مشروط....!!!!

بشکریہ روزنامہ"جنگ"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.