امریکا میں تہذیبی ٹکرائو کے آثار: داعش اور اسرائیل

رانا عبد الباقی
رانا عبد الباقی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

یہ امر حیران کن ہے کہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکا میں بالخصوص اور یورپ میں بالعموم مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک اور خصوصی طور پر ایٹمی پاکستان کیخلاف تہذیبی ٹکراؤ کو مہمیز دینے میں نام نہاد اسلامی تحریک 'داعش' اسرائیل اور بھارت کے مخصوص مفادات میں اشتراک عمل کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ پیرس دہشت گردی کے بعد کیلی فورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں ہونے والے دہشت گردی کے حالیہ بہیمانہ واقعات کا یقینا اسلام یا اسلامی ممالک سے کوئی تعلق نہیں۔ محض ایک انتہا پسند دہشت گرد تنظیم کی اسلامی تعلیمات کے منافی سرگرمیوں کو مغرب سے اسلام کا تہذیبی ٹکراؤ قرار دیتے ہوئے اسلام اور مسلم ممالک کے خلاف منظم پروپیگنڈہ کی داغ بیل ڈالنا کسی طرح بھی احسن اقدام نہیں جبکہ داعش کی خارجی سرگرمیوں کے خلاف مسلم ممالک کا ردعمل دہشت گرد عناصر کی سرکوبی کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے چونتیس ملکی اتحاد سے بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے ۔

حقیقت یہی ہے کہ امریکی میڈیا میں اسرائیل کی حمایت یافتہ یہودی لابی انتہائی منظم اور زور آور ہے جس کے بارے میں وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی ریاستی اداروں کی پالیسیوں پر پوری طرح حاوی ہو چکی ہے ۔چناچہ وقت گزرنے کے ساتھ امریکہ میں غیر جابندار تجزیہ نگاروں کی تعدادمحدود ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے دنیا میں مخصوص صہیونی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے دولت کا استعمال ہے ،وہ اس کے باوجود امریکہ میں اچھائی کی آواز بدستور بلند کر رہے ہیں اور دنیا کو بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر مسلم ممالک اور اسلام کے خلاف مغربی میڈیا کی مہم جوئی بدستور جاری رہی تو یہ خود امریکا کے لیے بھی انتہائی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔دوسری جانب جنوبی ایشیا میں انتہا پسند بھارتی میڈیا چھایا ہوا نظر آتا ہے جس کی جڑیں اب اسرائیل تک استوار ہو چکی ہیں چناچہ بھارتی میڈیا مسلم ممالک اور بالخصوص پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم جوئی یا ڈس انفارمیشن کو پھیلانے میں پیش پیش ہے ۔

البتہ امریکا میں غیر جانبدار مبصرین کو اس امر پر بے حد تشویش ہے کہ انفرادی جرائم یا مخصوص جرائم رکھنے والی تنظیموں کے جرائم کو انتہائی خطرناک دہشت گردی کی صورت میں بڑھا چڑھا کر اسلام، مسلم ممالک اور پاکستان کے خلاف منظم پراپگنڈے کو ہوا دیکر امریکی شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا انتہائی نا مناسب ہے کیونکہ ایسے مادر پدر آزاد پروپیگنڈےکے باعث خود امریکہ میں مسلمانوں سے ٹکراؤکی کیفیت نا صرف امریکی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے بلکہ یقینا داعش کیلیے امریکا اور یورپ میں نئے ریکروٹ پیدا کرنے میں بھی معاون ہو سکتی ہے ۔درحقیقت جس طرح بھارت میں اعلیٰ ذات کے انتہا پسند متعصب ہندو بھارتی فوج اور پولیس میں غلبہ حاصل کر چکے ہیں اسی طرح امریکی فوج اور پولیس میں بھی سیاہ فام امریکیوں اور ایشیائی باشندوں سے تعصب برتنے والی قوتیں زور پکڑ رہی ہیں۔

امریکی قوانین کے مطابق لائسنس کی پابندیاں نہ ہونے کے باعث امریکی شہریوں کے پاس قانونی اور غیر قانونی زرائع سے حاصل کردہ اسلحہ کی فراوانی ہے جس کے سبب امریکا کے تعلیمی اداروں اور پبلک مقامات پر فائرنگ اور قتل و غارت گری کے واقعات کثیر تعداد میں ہوتے رہتے ہیں لیکن امریکی میڈیا ان وارداتوں کو دہشت گردی سے منسوب کرنے اور شہریوں میں سنسنی پھیلانے سے گریز کرتا ہے۔ ہر سال ایسے بہت سے واقعات ہوتے ہیں جنہیں دہشت گردی سے تعبیر نہیں کیا جاتا البتہ ایسے کسی بھی جرم میں کالے امریکی یا ایشیائی مسلمان کی شرکت ہو تو امریکی میڈیا جس پر یہودی لابی کی مہر لگی ہوئی ہے ایسے واقعات کو اسلامی دہشت گردی کا لبادہ پہنانے سے گریز نہیں کرتا۔ ایسی ہی صورتحال دو دسمبر بدھ کے دن کیلفورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں پیش آئی جب معذور افراد کے ادارے میں فائرنگ کے واقعہ میں درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ میڈیا بریکنگ نیوز میں اسے چشم دید گواہوں کے حوالے سے سفید چمڑی والے تین مسلح افراد کی کارروائی سے تعبیر کیا گیا لیکن بعد میں پولیس مقابلے میں ایک تیز رفتار گاڑی جس میں سید رضوان فاروق اور تاشفین ملک کی موجودگی ظاہر کی گئی اور وہ پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کے پاس اس امر کا کوئی مؤثر جواب نہیں تھا کہ مبینہ دہشت گردی میں ملوث ہونے پر تفتیش کے لیے زندہ گرفتار کرنے کے بجائے انہیں کیوں قتل کیا گیا ؟جبکہ میڈیا نے موقع پر پہنچنے کے بعد بتایا کہ لاشوں کو ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔

حیران کن بات یہ ہے کہ وقوعہ کی مناسب تفتیش کے بغیر ہی یہودی لابی کے زیر اثر امریکی اور بھارتی میڈیا نے پاکستان، اسلام اور امریکا میں مقیم پاکستانیوں کے خلاف دہشت گردی کے حوالے سے مذموم پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے ۔ حیرت ہے امریکا میں مقیم پاکستانی سفیر بھی سان برنارڈینو دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو کرتے وقت غیر جانبدار تحقیق کیے بغیر امریکی پروپیگنڈا مشن سے ہی متاثر دکھائی دیے۔ اس شدید پروپیگنڈے کے باعث امریکی مسلمانوں میں خوف و ہراس کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ رضوان اور تاشفین کی لاشوں کو دفنانے کے لئے پولیس کی اپیل پر ان کے قریبی رشتہ داروں، کسی مسلمان تنظیم یا پاکستانی سفارتی مشن کے اپنی اخلاقی ذمے داری کو محسوس نہیں کیا چنانچہ ان لاشوں کو مسلم مسلک کے مطابق دفنانے کا انتظام مجبوراً ایف بی آئی کو کرنا پڑا۔ البتہ ایف بی آئی کے ترجمان نے یہ کہنے سے گریز نہیں کیا کہ ان دونوں افراد کا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق ہونے کا کوئی ثبوت تاحال نہیں ملا۔

درج بالا تناظر میں کچھ حقائق جو اب تک سامنے نہیں آئے ہیں انتہائی اہم ہیں ۔ سان برنارڈینو دہشت گردی کے حوالے سے امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی، سی آئی اے سے تعلق رکھنے والے سابق کنٹریکڑ اسٹیون ڈی یلی نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں دعوی کیا کہ انہیں یقین ہے کہ اس دہشتگردی میں رضوان اور تاشفین ملوث نہیں ہیں بلکہ یہ واردات امریکی فوج سے منسلک نجی ایجنسی کرافٹ انٹرنیشنل کے کرائے کے فوجیوں کی کارستانی ہے جس کا تذکرہ چشم دید گواہ بشمول شیلے مغیث کے CBS میڈیا چینل پر لائیو انٹرویو کی شکل میں آ چکا ہے کہ اس واردات میں لمبے قد کے تین سفید فام نقاب پوش فوجیوں کو معذوروں کے ادارے میں فائرنگ کرتے دیکھا گیا تھا جبکہ مختصر وزن اور چھوٹے قد کی تاشفین کا اس فائرنگ سے کوئی تعلق نہیں جڑتا۔ اسٹیون کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ کرائے کے فوجیوں کی یہ تنظیم ابھی ایسے بہت سے ٹیلرڈ حملے کرا سکتی ہے جن کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ ایک مقتدر بزرگ امریکی صحافی اور اس کا ڈاکٹر کیون بیرٹ اس سے قبل اپنی تحقیق میں یہی نتیجہ اخذ کر چکے ہیں۔ البتہ کیون بیرٹ نے اپنے تجزیہ میں یہ بات کھل کر کہی ہے کہ سان برڈینیو کے واقعہ کو اسلامی دہشت گردی سے تعبیر کرکے امریکی عوام میں خوف وہراس پیدا کرنے والے مذموم پروپیگنڈے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔

ایک اور امریکی کالم نگار کین گووڈ نے کیلی فورنیا دہشت گردی میں مبینہ طور پر ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کے مسلم مخالف بیانات کے پیش منظر میں لکھا ہے کہ امریکی عوام میں منظم مسلم مخالف جذبات کا پیدا کیا جانا امریکی سلامتی کے لیے خطرہ کا باعث بن سکتا ہے۔ جس کا فائدہ داعش جیسی انتہا پسند تنظیمیں بھی اٹھا سکتی ہیں۔ قانونی ماہرین کے لیے یہ امر بھی ناقابل فہم ہے کہ کیلی فورنیا پولیس نے بھی فائرنگ کے وقوعہ کے بعد تاشفین کے گھر سے مبینہ طور پر 4000 راونڈ ،بم بنانے کی مشین اور پائپ بم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا اس کے دو دن کے بعد ہی صحافیوں کی ایک ٹیم نے پولیس کی اجازت کے بغیر تاشفین کے گھر کی تلاشی کیونکر لی جہاں انہوں نے تاشفین رضوان کے گھر میں غیر متعلقہ کریڈٹ کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، سوشل سیکیورٹی کارڈ اور بچوں کے فوٹو موجود پائے جس پر چینلز پر تبصرہ کیا گیا اور پولیس پر ناقص تفتیش کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے جن کا جواب پولیس کے پاس نہیں تھا۔ اس تمام احوال سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم دنیا کے خلاف بھارت، اسرائیل پروپیگنڈے کو ہوا دینے کیلئے پولیس نے ٹیلرڈ آپریشن کے ذریعے رضوان تاشفین کو اپنی' کسٹڈی' میں لیکر قتل کیا ہے جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ بشکریہ روزنامہ 'جہان پاکستان'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size