.

بھارتی ہائیڈروجن بم اور ہم ؟

سحر صدیقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں امریکی جریدے ''فارن پالیسی'' نے ایک انتہائی چشم کشا رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق بھارت ہائیڈروجن بم تیار کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے بھارت کا ٹاپ سیکریٹ نیو کلئیر سٹی 2012 کے اوائل سے بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹکا میں تعمیر کیا جارہا ہے اور یہ منصوبہ براہ راست بھارتی وزیر اعظم کی نگرانی میں ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت کی طرف سے ہائیڈروجن بم کی تیاری اور یہ طاقت حاصل کرنے سے پاکستان اور چین میں تشویش کی لہر دوڑ جائے گی اور وہ ردعمل میں ایسی ہی جوہری طاقت حاصل کرنے کے لیے پیش رفت کریں گے۔ جریدے کے مطابق بھارت کے مذکورہ خفیہ منصوبے سے بھارت کے باہر کی دنیا ابھی تک لاعلم ہے لیکن میرے خیال میں یہ تاثر حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ 2012 میں جنوبی کرناٹکا کے ایک خانہ بدوش قبیلے لمبانی کے افراد نے یہ شکایت کی تھی کہ ان کو اس علاقے میں جانے سے روکا جا رہا ہے حالانکہ وہ ایک عرصہ سے وہاں پر آتے جاتے رہے ہیں۔ اسی طرح کالالی نامی گاؤں کے ایک کاشتکار پتہ رنگا سیتی اوراس کے ساتھیوں نے شکات کی تھی کہ وہ جس کنویں سے پانی حاصل کرتے رہے ہیں،اس تک رسائی اب ممکن نہیں رہی کیونکہ وہاں پر خاردار تار لگا دی گئی ہے۔ جب یہ شکایات متعلقہ حکام تک پہنچائی گئی تو انہوں نے پہلے تو خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن آخر میں یہ جواب دیا کہ اس سلسلے کو ختم تصور کیا جائے کیونکہ آپ لوگ اپنے سوالات کا جواب حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

جب اس علاقہ میں تعمیراتی کام غیر معمولی تیزی سے شروع ہوا تو اس راز کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا کہ یہاں پر کوئی انتہائی حساس تنصیبات پر کام ہو رہا ہے چناچہ اب ہر کوئی جانتا ہے کہ یہاں پر بھارت کا ہائیڈروجن بم تیار کرنے کا پروگرام زور و شور سے جاری ہے بلکہ یہ بات بھی زبان زدعام ہے کہ ملک(بھارت ) کے دو اہم خفیہ ادارے ناصرف موقع پر ہونے والے تعمیراتی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں بلکہ وہ اس سارے علاقے پر کڑی نگاہیں بھی مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 2017تک یہاں فوجی مقاصد کے لیے ہتھیار، ایٹمی سینٹری فیوجز،ایٹمی ریسرچ لیبارٹریز کا سامان اور ہائیڈروجن بم کی تیاری کا کام شروع ہو جائے گا۔ ایسے منصوبے پر بھی کام شروع کیا جا چکا ہے جو بھارت کی نئی آبدوزوں کی تیاری ان کو توانائی فراہم کرنے کی خاطر کلیدی اور نتیجہ خیز کردار ادا کریں گے۔ واشنگٹن اور لندن ایسے اہم بین الاقوامی سفارتی مراکز میں کام کرنے والے بھارتی ریٹائرڈ افسران کے مطابق نئی دہلی کی کو شش ہے کہ یورینیم کی افزودگی کا سلسلہ اس قدر وسیع اور گہرا کیا جائے کہ اس کے زخیرے سے ہائیڈروجن بم کی تیاری کے مراحل آسانی کے ساتھ طے ہو جائیں۔اور وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ بھارتی ہائیڈروجن بم منصوبے کی کامیابی کی صورت میں پاکستان اور چین کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کے ایٹمی پروگرام کی خشت اول تو اس کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے اوئل برسوں ہی میں رکھ دی تھی لیکن اس پروگرام کی کامیابی دنیا کے سامنے اس وقت نمایاں ہوئی جب 18مئی 1974ء کو بھارت نے ایٹمی تجربہ کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب وطن عزیز میں ذوالفقار علی بھٹو سقوط مشرقی پاکستان کے سانحہ کے بعد ایک ''نئے پاکستان'' کی تعمیر اور ترتیب میں مصروف تھے چنانچہ انہوں نے بھارتی عزائم کو بھانپتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا۔ ادھر بھارت نے 11 اور 13 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے کئے تو پاکستان نے اس کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے یکے بعد دیگرے 6 ایٹمی دھماکے کئے۔ اب یہ تاریخی واقعات اس امر کا ناقابل تردید ثبوت بن چکے ہیں کہ اگر بھارت نے ہائیڈروجن بم تیار کیا تو پاکستان اس بالادستی کو قبول اور برداشت نہیں کرے گا۔ بھارت نے آج تک اپنے ایٹمی پروگرام کو انتہائی خفیہ رکھا لیکن اس کے باوجود Center for (CPI) public Integrity نے بعض ایسے حقائق کو بے نقاب کیا ہے جو اس امر کو اجاگر کرتے ہیں کہ بھارت کا ایٹمی پروگرام اپنی وسعت اور اثرپذیری کے اعتبار سے خطے کے لئے نہایت خطرناک ہے۔ اسی طرح سٹاک ہوم میں قائم ایک خود مختار ریسرچ ادارے (SIPRI) کے مطابق بھارت کے پاس پہلے 90 تا 110 ایٹمی عدم پھیلاؤ کے ایک ماہر جان کارلسن کا کہنا ہے کہ بھارت کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کے لئے مطلوبہ مواد کی تیاری کے سلسلے میں متحرک اور سرگرم ہیں۔

بھارتی ہائیڈروجن بم کی تیاری کے حوالے سے مستند اور معتبر معلومات رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں بھارتی شہر میسور کے قریب واقع علاقے چالاکری کے جنوب کی جانب 160 میل کے فاصلے پر ایک بے حد خفیہ مقام پر جاری ہے۔ گذشتہ سال یعنی 2014ء میں اس علاقے کی سیٹلائٹ سے جو تصاویر حاصل کی گئیں اس سے یہ انکشاف ہوا کہ وہاں پر یورینیم کی افزودگی کا ایک نیا پلانٹ موجود ہے اور اس کے علاوہ بھی ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لئے کئی مطلوبہ سہولیات قائم ہیں۔ ماہرین یہ نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ مذکورہ علاقہ ہائیڈروجن بم کی تیاری کے حوالے سے نہایت متحرک دکھائی دیتا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ اکتوبر 2012ء میں جب میسور کے مذکورہ علاقے میں تعمیرو تنصیبات کا کام شروع ہوا تو ابتدائی طور پر اس منصوبے کے لئے 100 ملین امریکی ڈالر کی رقم فراہم کی گئی تھی۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری ااور امور سے متعلق افراد کے لئے گیری سیمور کا نام بہت معروف ہے۔ موصوف نے 13-2009ء میں وائٹ ہاؤس میں تخفیف اسلحہ اور وسیع پیمانے پر ہلاکت پھیلانے والے ہتھیاروں کی روک تھام کے کوآرڈینیٹر کے طور پر فرائض انجام دیئے۔ اس امریکی ماہر کا کہنا ہے کہ ہائیڈروجن بم تیار کرنے کے لئے بھارت کی کوششیں اور منصوبے دراصل چین کے مقابلے میں اس کے تذویراتی دیتانت کا تقاضا ہیں۔

بھارت کے ہائیڈروجن بم کی تیاری کے عنوان سے یہ معلومات اور تجزیات سپرد قلم کرتے وقت مجھے اچانک خیال آیا کہ ایک اخباری اطلاع کے مطابق ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سترہ دسمبر کو شیر گڑھ میں ایک تقریب میں اظہار خیال کے دوران کہا کہ مجھے اس بات کا بے حد دکھ ہے کہ میری صلاحیتوں کی قدر نہیں کی گئی بلکہ ان صلاحیتوں کا صرف پندرہ فیصد استعمال کیا گیا۔ میں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے علاوہ بھی بہت کچھ کر سکتا ہوں لیکن مجھ سے استفادہ نہیں کیا جا رہا۔ حیرت انگیز طور پر اسی روز امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے خارجہ امور نے کہا کہ پاکستان دنیا کی تیسری بڑی ایٹمی قوت بننے کی کوشش میں ہے اس لیے اس کی امداد بند کی جائے۔ کمیٹی کے چئیرمین ایڈروئس کا کہنا تھا کہ پاکستان سب سے زیادہ جوہری ہتھیار رکھنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک بننے کی ڈگر پر ہے ۔اور اس کے چھوٹے جوہری ہتھیار اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل زیادہ تشویش کا باعث ہیں۔ موصوف نے اجلاس میں موجودہ افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے رچرڈ اولسن سے کہا کہ وہ پاکستانی حکومت کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ پاکستان کو ایک سچے شراکت دار کے طور پر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر کانگریس کے بعض ارکان اس ملک (پاکستان) کے لیے تمام امریکی امداد کو ختم کرنے کے لیے زور دے سکتے ہیں۔ بشکریہ روزنامہ"جہان پاکستان"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.