.

وہ بیتے دن یاد ہیں

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں نے بڑی دلچسپی کے ساتھ ڈاکٹر عبداللہ المدنی کی کتاب 'آرامکو ٹی وی' کا مطالعہ کیا ہے جو خلیج کے پہلےعرب ٹی وی چینل کی روداد بیان کرتی ہے۔ عریبین امریکن آئل کمپنی (آرامکو) نے اس خطے کی زندگی پر گہرے اور مثبت اثرات چھوڑے ہیں، جن میں یہ ٹی وی چینل بھی شامل ہے، اگرچہ بہت سے لوگ اس بات کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے۔

ڈاکٹر مدنی لکھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں پہلا ٹی وی چینل بغداد میں قائم ہوا اور اس کے دو ماہ بعد سعودی عرب میں آرامکو ٹی وی چینل قائم ہوا۔ آرامکو کا قیام سنہ ۱۹۵۷ میں ہوا اور یہ سعودی عرب کے مشرقی علاقے اور خلیج کی بیشتر ریاستوں کے حالات کور کرتا تھا۔ امریکہ سے باہر سب سے بڑی امریکی تیل کمپنی ہونے کی وجہ سے اسے دنیا بھر میں امریکی اداروں میں ایک ممتاز حیثیت حاصل تھی۔

آرامکو تیل کی آمدنی سے سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرتی تھی۔ بہت سے لوگوں کی نظر میں یہ کمپنی تمدن کے ایک مینارے کی حیثیت رکھتی تھی کیونکہ وہ خطے کے عوام اور ان کے پڑوس میں رہنے والے لوگوں کو میڈیا کے اداروں، آرامکو ٹی وی اور اخبار الخلیفہ، کے ذریعے علم وشعور سے روشناس کراتی تھی۔

اس کا اخبار بعد میں ایک جریدہ بنا دیا گیا تھا۔ اگر اس وقت آرامکو ٹی وی سعودی عرب کے مزید شہروں تک پہنچ جاتا تو ایک بڑی سماجی اور فکری تبدیلی برپا کر چکا ہوتا، لیکن اس کی نشریات ملک کے مشرقی علاقون تک محدود رہیں۔بہت بھاری اخراجات اور مقامی طور پر غربت کا دور دورہ ہونے کی وجہ سے اس دور میں ٹی وی چینل چلانا تقریباً ناممکنات میں سے تھا۔

مجھے اس سے خوشی ہوئی کہ ڈاکٹر مدنی نے یہ مشاہدہ کیا کہ اس چینل نے مغربی کلچر کو فروغ نہیں دیا حالانکہ بہت سے لوگوں کا یہی خیال ہے، بلکہ اس چینل نے عرب کلچر کو فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ آرامکو ٹی وی ایسی مصری فلمیں نشر کرتا تھا جن میں سیاسی مواد موجود ہوتا تھا جو ڈاکٹر مدنی کے خیال میں حب الوطنی کو مستحکم کرنے اور نو آبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کرنے کی آگاہی کو پھیلانے میں بہت مددگار ثابت ہوا۔

وہ لکھتے ہیں "کہ مصری فلمیں امریکی فلموں کے مقابلے میں بہت زیادہ مقبول تھیں اور مقبولیت کا حال یہ تھا کہ کئی علاقوں کے نام فلموں کے ناموں پر رکھ دئے گئے تھے۔" ڈاکٹر مدنی لکھتے ہیں "کہ آرامکو چینل مقامی کلچر کا بہت خیال رکھتا تھا اور نشر کرتے وقت فلموں اور پروگراموں میں سے ایسے مناظر اور مواد نکال دیتا تھا جو مذہبی اور سماجی طور پر ناقابل قبول ہوتے تھے۔"

۱۹۶۲ میں ایک فلم ‘دی ایمپٹی پلو’ (خالی تکیہ) جس کا مرکزی کردار گلوکار اور اداکار عبدالحلیم حافظ نے ادا کیا تھا آرامکو پر اتفاق سے سینسر کے بغیر نشر ہو گئی۔ اس پر ناظرین اور عوام کی بھاری اکثریت نے بڑی پسندیدگی کا اظہار کیا، جس کے بعد چینل نے ایڈیٹنگ کے سخت معیارات کو نرم کرنے کا فیصلہ کیا۔

آرامکو نے سعودی ٹی وی چینل کے قیام کے ایک سال کے بعد ۱۹۷۰ میں اپنا چینل بند کر دیا۔ میرا خیال ہے کہ آرامکو ٹی وی ریاض کی باضابطہ درخواست کے نتیجے میں بند کیا گیا جس نے فیصلہ کیا تھا کہ اتنا اہم ذریعہ ابلاغ غیر ملکی کمپنی کے ہاتھ میں نہیں رہنا چاہیے۔

یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ مصنف اس کتاب کو ڈیجٹل لائبریری میں رکھ دیں تاکہ یہ آسانی سے لوگوں کی پہنچ میں آ سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.