.

سمیرالقنطار کوئی ہیرو ہے اور نہ حزب اللہ مزاحمت

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری المیے نے عرب سیاسی منظر نامے کے بہت سے چہروں سے نقاب اتار دیے ہیں۔ حزب اللہ کا ایک ستارہ سمیرالقنطار حال ہی میں وہاں مارا گیا ہے۔کسی کو اس موت کی پروا نہیں ہے۔ البتہ حزب اللہ نے انھیں شہید قرار دیا ہے اور ان کے بہت بڑے جنازے کا اہتمام کیا۔

قبل ازیں حزب اللہ نے انھیں ایک ہیرو بنایا تھا کیونکہ وہ اسرائیلی جیل میں قید رہے تھے۔جو بھی اپنے شہداء کی شہادت پر خوشیاں منا رہے ہیں،وہ حزب اللہ کے ملازم ارکان ہیں۔انھیں متوفیوں کی موت پر بیانات جاری کرنے کی ذمے داری سونپی گئی ہے لیکن کوئی بھی یہ بیان دوبارہ شائع نہیں کرنا چاہتا ہے۔

حزب اللہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سمیرالقنطار کو اسرائیلیوں نے ہلاک کیا ہے لیکن اس پر یقین کرنا محال نظر آتا ہے کیونکہ اسرائیلی ایسے کسی بھی شخص کو کیوں ہلاک کریں گے جو ان کی جانب سے لڑرہا ہو اور پھر وہ اپنی سرحد سے دور دراز دمشق کے نواح میں رہ رہا ہو۔وہ اس کو کیسے قتل کریں گے؟یہ بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ سمیرالقنطار روس کے فضائی حملے میں غلطی سے مارے گئے ہیں جبکہ بعض کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ سے منحرف ہوگئے تھے۔

مگر سب سے معقول دعویٰ شامی حزب اختلاف کا نظر آتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے چھے منزلہ عمارت کو گولہ باری کرکے زمین بوس کردیا تھا اور سمیر قنطار اسی عمارت کے ملبے میں زندہ دفن ہوگئے تھے۔کسی کو بھی اس کی پروا نہیں ہے کہ انھیں کس نے ہلاک کیا ہے کیونکہ وہ ایران ،شامی رجیم اور حزب اللہ کا دفاع کرتے ہوئے مارے گئے ہیں۔

ٹوٹا پھوٹا بیانیہ

ان کی موت کے سبب سے متعلق پیدا ہونے والے اختلافات سے حزب اللہ اور اسی طرح کی دوسری تنظیمیں شاید اس حقیقت کا ادراک کرلیں کہ اب اسرائیل کے خلاف اس سیاہ مزاحمتی کامیڈی اور لبنان ،شام اور فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کے مبینہ دفاع کے لیے بیانیے کے خاتمے کا وقت آگیا ہے۔کوئی بھی اس بیانیے پر اب زیادہ یقین کرنے کو تیار نہیں۔حزب اللہ نے اپنے لیے جو امیج بنا رکھا ہے اور جس پر بیشتر عرب اور لبنانی یقین رکھتے رہے ہیں،اب تار تار ہوچکا ہے،سوائے جنوبی لبنان کے رہنے والوں کے لیے جو اس کی بھاری قیمت چکا چکے ہیں۔

شام میں جاری المیے اور اسد رجیم کی چیرہ دستیوں نے لاکھوں عربوں کو صدمے سے دوچار کردیا ہے۔وہ اب حیران وپریشان ہیں کہ وہ جن کو ہیروز سمجھتے رہے تھے،وہ حقیقی معنوں میں ہیرو تھے یا غیر ملکی منصوبوں کے لیے ایجنٹ کا کردار ادا کررہے تھے۔وہ اس بات پر بھی حیران ہیں کہ آیا انھیں سالہا سال سے جو کچھ بتایا جاتا رہا تھا ،اس میں کچھ حقیقت بھی ہے یا نہیں؟ یا یہ سب کچھ افسانہ ہی تھا؟کیا سمیر قنطار ہیرو بننے کے حق دار ہیں کیونکہ انھوں نے ایک اسرائیلی خاندان کے تین افراد کو قتل کیا تھا اور ان میں ایک بچہ بھی شامل تھا یا وہ ایک مجرم ہیں کیونکہ انھوں نے تین لاکھ شامیوں کے قتل عام کے عمل میں شرکت کی تھی۔

دس، بیس،تیس سال پیچھے نظر دوڑائیے تو آپ کو پتا چلے گا کہ یہ سب ایک کتاب کے ابواب تھے جس کا شام اختتام ہے۔''مزاحمت'' اس کہانی کا عنوان ہے۔جب ہم اس کہانی کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ شواہد کو چھپا لیا گیا ہے اور حقائق کو مسخ کردیا گیا ہے۔ اصطلاح ''جارحیت کا سامنا'' لبنانی ریاست پر قبضے کے لیے وضع کی گئی تھی۔''مزاحمت'' کی اصطلاح حقیقی مزاحمت کو چھپانے کے لیے بھی وضع کی گئی تھی۔یہ محاذ ایران کے ساتھ اتحاد سے تشکیل دیا گیا تھا تاکہ پورے خطے پر کنٹرول کیا جا سکے۔

ہم خبروں کو الگ الگ پڑھتے ہیں۔اگر ہم انھیں ایک کہانی کے طور پر اکٹھے پڑھیں تو ہمیں سمجھ آ جاتی ہے کہ جس نے تین لاکھ شامیوں کو قتل کیا ہے،اسی نے دس سال قبل دسیوں لبنانی شخصیات کو قتل کیا تھا۔

اس نے ان کو اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے منصوبے کے تحت قتل کیا تھا۔ رفیق حریری سے جبران ٹوئنی ،جارج حاوی اور دوسروں کے قتل میں اسی کا ہاتھ کارفرما ہے۔ قبل ازیں اس کے آدمیوں نے مرحوم امیر کویت کو قتل کرنے کی سازش کی تھی اور خلیج اور عرب کی سیاحت اور فضائی کمپنیوں کو حملوں میں نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

جب ہم ماضی کے واقعات کا ترتیب وار مطالعہ کرتے ہیں تو ہم تمام کہانی سمجھ سکتے ہیں۔1980ء کے عشرے میں ایران اور شام نے اسرائیلی جارحیت کا سامنا کرنے کا بیانیہ وضع کیا۔یہ دراصل لبنان میں قیام کا ایک بہانہ تھا۔ انھیں جب تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) سے نکال باہر کیا گیا تو انھوں نے غیر ملکیوں کو اغوا اور قتل کرنا شروع کردیا۔

اسرائیل نے برطانیہ میں 1982ء میں اپنے ایک سفیر پر قاتلانہ حملے کی کوشش کے بعد لبنان پر چڑھائی کردی تھی۔دمشق اور تہران نے اس صورت حال کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا کیونکہ انھوں نے لبنان پر قبضے کو جواز فراہم کرنے کے لیے مزاحمت کا ڈھونگ رچایا تھا۔اس کے اداروں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور اپنی گماشتہ تنظیموں کے ذریعے دنیا کو ڈرایا دھمکایا۔

ایران اور شام نے فلسطینیوں کے نام پر لبنان میں اپنی بالادستی قائم کر لی اور عراق ،خلیج ،یمن اور شام میں لڑنے کے لیے دوسرے عرب شہریوں کو تربیت دینے کی غرض سے کیمپ کھول لیے۔یہ ایران کے علاقائی منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز تھا۔

آج اسرائیل کی مزاحمت کی کہانی کو بیچنے کا سلسلہ مزید جاری رکھنا ممکن نہیں رہا ہے۔مجھے نہیں پتا کہ ایران ،حزب اللہ اور دمشق اس بات سے آگاہ ہیں کہ شام نے ایک نئی تاریخ کا آغاز کردیا ہے۔شام خطے کی تاریخ کے سب سے خوف ناک قتل عام کے تجربے سے گزر رہا ہے۔اس پر قابو پانا اور اس کو آسانی سے فراموش کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ مزاحمت کی کہانی ،جو کبھی درست نہیں تھی،اب لد چکی ۔فلسطینی المیے کا یہ استحصال اب ختم ہوا چاہتا ہے۔
-------------------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا ان کے نقطہ نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.