.

ایران، روس، ہمہ یاراں دوزخ کی عملی مثال

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ چند ماہ کے دوران یہ تیسرا موقع ہے کہ میں میڈیا کی خبروں میں گردش کرنے والے روس اور ایران کے مبینہ تنازع کے بارے میں لکھ رہا ہوں۔ مگر ابھی تک میرے لئےان خبروں پر یقین کرنا مشکل ہے اور ایسی تمام خبروں کو من گھڑت سمجھتا ہوں جن کا مقصد شام میں روسی جارحیت کے مقاصد پر پردہ ڈالنا اور عرب ممالک میں روس کے خلاف پھیلنے والی نفرت کو ٹھنڈا کرنا ہے۔

حال ہی میں عرب میڈیا میں پھر روس۔ایران تنازع کا شور اٹھا ہے اور اس مرتبہ یہ غلغلہ بغداد سے بلند ہوا ہے جو اپنی گوناگوں وابستگیوں کی وجہ سے عرب دنیا میں خبروں کا ایک قابل اعتماد مرکز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ابھی تک ان خبروں میں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی ہے جس سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ ماسکو اور تہران میں کشیدگی کا کوئی وجود ہے۔ ہاں اگر دستیاب حقائق سے کوئی چیز ثابت کی جا سکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ شام کی خانہ جنگی میں روس اور ایران کی سیاسی قوتیں اور فوجیں ایک ہی مورچے میں بیٹھی ہوئی ہیں۔

شام کے میدان جنگ میں دونوں ممالک کی فوجوں نے اپنا اپنا کام سہولت کے ساتھ تقسیم کیا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہاں روس کی زمینی فوج اور ایران کی فضائی فوج نہیں ہے، اور اس تقسیم کار نے دونوں فوجوں کو ایک مکمل فوج کے روپ میں پیش کیا ہے۔ اگر روزمرہ کےجنگی اہداف میں کوئی اختلاف ہوتا بھی ہے تو وہ کسی بھی جنگ میں کسی بھی فوج کے لئے ایک معمول کی بات ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان اختلافات کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ ایرانی افواج کو بعض مقامات سے ہٹ جانے پر مجبور کیا جاتا ہے یا روسی طیارے غلطی سے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاوں پر بمباری کردیتے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان شام کی خانہ جنگی میں مفادات کے ٹکراو کی افواہیں یا تو خیالی پلاؤ ہیں، یا پھر ماسکو کے اس پروپیگنڈے کا حصہ ہیں جو اس وقت سے کیا جا رہا ہے جب وہ بشار الاسد کو بچانے کے لئے ایران کے پیچھے اس جنگ میں کود گیا تھا۔

ٹھوس تعلقات

دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مضبوط ہیں۔ اگر کوئی تنازع ہوتا تو تین ہفتے قبل روسی صدر پیوٹن صدر حسن روحانی سے ملاقات کے لئے ایران کا دورہ کیوں کرتے؟یہ آٹھ سال میں ان کا پہلا دورہ ایران تھا جس میں انہوں نے سپریم لیڈر خامنہ ای سے بھی ملاقات کی جنہوں نے ان کو قران کا ایک قدیم نسخہ تحفے میں دیا۔ پیوٹن نے حسن روحانی سے پانچ ارب ڈالر کی برآمدات کا وعدہ کیا اور دونوں ملکوں نے کئی معاہدوں پر دستخط کیے جن میں فوجی معاہدے بھی شامل ہیں۔ یہ اشارے مضبوط باہمی تعلقات کے ہیں اور ایسے میں کسی تنازع کی خبروں پر یقین کرنا مشکل ہے۔ دونوں اتحادیوں کے مابین تنازع کے بارے میں عراق سے آنے والی ایسی خبروں کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور حقیقت اس کے برعکس ہے۔

شام نہیں بلکہ عراق وہ ملک ہے جو بین الاقوامی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان جاری شدید قسم کی رسہ کشی اور کشیدگی کا مرکز ہے۔ امریکی فوج رمادی میں بر سر پیکار ہے، روسی ،شمال مشرقی علاقے میں پیشقدمی کر رہے ہیں، ایرانی فوج اور اس کی حمایت یافتہ ملیشیائیں بغداد اور جنوبی علاقوں میں ہیں، ترک فوج کردستان اور موصل کے نواح میں ہے، جبکہ داعش مغربی شہروں اور موصل میں اپنے مورچی قائم کر رہی ہے۔ واشنگٹن نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام کے ساتھ ملنے والی عراقی سرحد پر فوج تعینات کرے گا اور الانبار کے سنّی قبائل کی مدد کرے گا جو اس امر کا اشارہ ہے کہ اقتدار کے مختلف محوروں کے درمیان تصادم میں مزید شدت پیدا ہوگی۔

اگرچہ سیاست میں کوئی چیز ناممکن نہیں ہے، لیکن یہ یقین کرنا بہت مشکل ہے کہ روس اور ایران میں کوئی تنازع ہے۔ ان افواہوں پراصرار اور تسلسل محض نفسیاتی جنگ کا ایک ہتھیار ہے۔
-------------------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا ان کے نقطہ نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.