مودی کا پراسرار دورہ لاہور اور کشمیر

حامد میر
حامد میر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

کوئی باخبر صحافی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ یہ سب اچانک ہوا۔ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی 25ء دسمبر کو اچانک لاہور پہنچ گئے۔ وہ پاکستان کا دل کہلانے والے شہر میں چند گھنٹے گزار کر خوب داد وصول کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کا دفتر خارجہ یہ وضاحتیں کرتا رہا کہ مودی کا دورہ طے شدہ نہیں تھا۔ انہوں نے 25ء دسمبر کی صبح ساڑھے گیارہ بجے وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلیفون پر بات کی اور سہ پہر چار بجے کابل سے لاہور پہنچ گئے۔ اسلام آباد کے کئی صحافی سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کی وضاحتیں سن کر صرف مسکرانے نہیں بلکہ قہقہے لگانے پر مجبور ہیں کیونکہ ان صحافیوں کو کافی دن پہلے 25 دسمبر کی دوپہر ایک سینئر بھارتی سفارت کار نے لنچ پر مدعو کر رکھا تھا۔ 22 دسمبر کی صبح اس لنچ پر مدعو تمام مہمانوں کو یاد دہانی کرائی گئی کہ 25 دسمبر کو ان سب کا لنچ پر انتظار کیا جائے گا لیکن اسی شام سات بجے کے قریب سب مہمانوں کو یہ پیغام ملا کہ ایک اہم ’’آفیشل ورک‘‘ کی وجہ سے 25 دسمبر کی دوپہر رکھے گئے لنچ کو ملتوی کیا جا رہا ہے اور اب یہ 27 دسمبر کو ہو گا۔ 25 دسمبر کو چھٹی کے دن ایک سفارتکار کو کیا کام ہو سکتا ہے؟

یقیناً اس سفارتکار کو تین دن پہلے بتا دیا گیا تھا کہ 25 دسمبر کو نریندر مودی پاکستان آنے والے ہیں لہٰذا اس نے باقی تمام کام ملتوی کر دیئے۔ مودی نے پاکستان میں اپنے سفارتی عملے کو 22 دسمبر کو آگاہ کر دیا کہ وہ 25 دسمبر کو لاہور آئیں گے۔ یہ سفارتی عملہ لاہور ایئرپورٹ پر ان کے استقبال کیلئے موجود تھا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان کی حکومت کو مودی کی آمد کا پتہ 25 دسمبر کی صبح ساڑھے گیارہ بجے چلا؟

میں اس بحث کو یہیں چھوڑ دیتا ہوں کیونکہ مجھے مودی کے پاکستان آنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ وہ پاکستان آئے اور ان کے مختصر دورے کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا اعلان ہوا۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ڈیڈ لاک کا خاتمہ اور مذاکرات کا دوبارہ آغاز خوش آئند ہے لیکن اس سارے معاملے کو ’’پراسرار‘‘ نہ بنایا جاتا تو بہت اچھا ہوتا۔ جو کام بھی چھپ چھپا کر کیا جائے اس کے بارے میں سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ مودی کے اچانک دورہ پاکستان پر ہندوستان میں بھی کئی سوالات کئے جا رہے ہیں۔ کچھ اپوزیشن جماعتوں نے مودی کے دورہ پاکستان پر تنقید بھی کی ہے لیکن یہ تنقید آگے چل کر مودی کی طاقت بن جائے گی۔

ہندوستان میں مودی کے دورہ پاکستان پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے ابھی تک دائود ابراہیم کو ہندوستان کے حوالے نہیں کیا۔ ممبئی حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ حافظ محمد سعید بھی گرفتار نہیں ہوئے پھر پاکستان کے ساتھ کیسی دوستی؟ ہندوستان میں مودی کی لاہور یاترا کو بی جے پی کی پاکستان پالیسی میں ایک بڑا ’’یو ٹرن‘‘ بھی کہا جا رہا ہے لیکن مغربی میڈیا میں مودی کی خوب تعریف کی جا رہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک امریکی و برطانوی میڈیا میں بھارت کی اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کی مذمت کی جا رہی تھی، بھارت کے لبرل اور سیکولر طبقے کی طرف سے سرکاری اعزازات کی واپسی کو مودی کیلئے باعث شرم قرار دیا جا رہا تھا اور یہ طنز بھی کیا جا رہا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا وزیراعظم غیر ملکی دوروں کا بڑا شوقین ہے لیکن اپنے ہمسایہ ممالک میں نہیں جا سکتا۔

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن مودی نے لاہور میں صرف ڈھائی گھنٹے گزار کر اپنے ناقدین کے منہ کافی حد تک بند کر دیئے ہیں۔ انہیں لاہور سے جو کچھ ملا ہے وہ اسے پوری دنیا میں کئی دن تک سمیٹتے رہیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا ملا؟ پاکستان کے کرکٹ بورڈ کے سربراہ ہندوستان کے ساتھ ایک کرکٹ سیریز کا سوال لے کر نگر نگر گھومتے رہے۔ پھر ان کا سوال کشکول بن گیا۔ بہت سے پاکستانیوں نے کہنا شروع کر دیا کہ ہمیں ہندوستان کے ساتھ کرکٹ سیریز کی بھیک نہیں چاہئے۔

شہریار خان نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ سیریز کھیلنے کے تحریری وعدے کا پاس نہ کیا تو ہم ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلنے ہندوستان نہیں جائیں گے۔ شہریار خان کی یہ دھمکی بھی کام نہ آئی اور ہندوستان نے دبئی یا سری لنکا میں بھی پاکستان کے ساتھ کرکٹ سیریز کھیلنے سے انکار کر دیا۔ ہندوستان نے بڑی کامیابی کے ساتھ کرکٹ کے کھیل کو پاکستان کے ساتھ تنازعات کا حصہ بنا دیا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان تو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلنے ہندوستان جائے گا لیکن ہندوستانی ٹیم پاکستان تو دور کی بات کسی تیسرے ملک میں بھی ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلنے کیلئے تیار نہیں۔ ہندوستان کا وزیراعظم لاہور آ سکتا ہے لیکن ہندوستان کی کرکٹ ٹیم لاہور آ کر میچ نہیں کھیل سکتی۔

مجھے معلوم ہے کہ میرے کچھ کرم فرما یہ کہیں گے کہ میں پاک بھارت دوستی کے رنگ میں بھنگ ڈال رہا ہوں۔ یہ خاکسار ایک دفعہ پھر واضح کرنا چاہتا ہے کہ پاک بھارت تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات کا اعلان بہت خوش آئند ہے لیکن یہ آغاز جس انداز سے ہو رہا ہے اس کے انجام سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھارت کے ساتھ مذاکرات جیسے اہم معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا۔ سب جانتے ہیں کہ کئی داخلی معاملات پر کچھ ریاستی اداروں کے مابین مثالی تعلقات موجود نہیں وفاق اور سندھ میں محاذ آرائی شروع ہو چکی ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت بھی وفاق کے رویئے سے مطمئن نہیں۔ داخلی معاملات پر اختلافات کا گرد وغبار خارجہ پالیسی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

کچھ دن پہلے بنکاک میں مجھے ایک پاکستانی وفد کے ہمراہ بھارتی وفد کے ساتھ ٹریک ٹو ڈپلو میسی میں شرکت کا موقع ملا۔ اس ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے فوراً بعد بنکاک میں پاکستان اور ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیروں نے بھی ملاقات کی۔ مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔ ہندوستان کی طرف سے مذاکرات پر آمادگی دراصل پاکستانی حکومت کیلئے ایک بہت بڑے امتحان کا آغاز ہے۔ ہندوستان ان مذاکرات میں دہشت گردی کے الزامات کو آگے رکھے گا اور پاکستان کیلئے مسئلہ کشمیر اجاگر کرنا مشکل بنا دیا جائے گا۔ دائود ابراہیم اور حافظ محمد سعید کے خلاف کارروائی کے مطالبے میں امریکہ اور کچھ دیگر مغربی ممالک کی تائید بھی شامل ہو جائے گی۔

دوسری طرف سے افغانستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرے گا۔ پاکستان کہے گا کہ افغانستان میں پناہ گزین ملا فضل اللہ کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پاکستان کو ان پیچیدہ معاملات میں الجھا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ پاکستان جب بھی مسئلہ کشمیر اٹھائے گا تو مودی حکومت کہے گی ہم تو صرف آزاد کشمیر پر بات کریں گے۔ جب پاکستان بہت اصرار کرے گا تو آخر میں بڑے نخرے کرنے کے بعد احسان جتلانے کے انداز میں کہا جائے گا کہ چلو ٹھیک ہے ہم پرویز مشرف کے فارمولے پر بات کر لیتے ہیں۔

کشمیری عوام کی اکثریت مشرف فارمولے کو مسترد کر چکی ہے کیونکہ اس فارمولے کے تحت لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد تسلیم کر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور پاکستان کے آئین کی دفعہ 257 کی نفی کی گئی۔ اس فارمولے کے تحت ہندوستان کو کچھ نہیں دینا پڑے گا۔ وہ آزاد کشمیر پر انپے دعوے سے دستبردار ہو کر ہم پر احسان کرے گا لیکن پاکستان سب کچھ ہار دے گا۔ نواز شریف حکومت کو مشرف فارمولے پر اپنی پوزیشن واضح کرنی ہو گی کیونکہ بیک ڈور چینل میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اسی فارمولے کو کشمیر امن فارمولے کا نام دے کر آگے بڑھایا جائے۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات بہت اچھی بات ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد تنازعات کا منصفانہ حل ہونا چاہئے۔ مذاکرات کے ذریعے کسی نا انصافی کو قبول کرنا پاکستان کے وجود کی نفی کے مترادف ہو گا۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
----------------------------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size