دہشت گردی کی جنگ کا نظریاتی پہلو

ظہیر اختر بیدری
ظہیر اختر بیدری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

اکیسویں صدی کو جدید علوم سائنس اور ٹیکنالوجی کی ناقابل یقین ترقی کی صدی کہا جا رہا ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ بیسویں صدی میں شروع ہونے والی یہ ترقی اکیسویں صدی کے آغاز ہی میں ایسی تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے کہ اس کے آخر تک ماضی کی دنیا محض خوابوں کی دنیا میں بدل جائے گی۔ چاند کے بعد اب کرہ ارض کا انسان مریخ پر کمند ڈال رہا ہے اور کائنات کے اسرار سے اس طرح پردے ہٹارہا ہے کہ آنے والے دنوں کا انسان بیسویں صدی کے انسان سے بالکل مختلف نظر آئے گا۔ لیکن اس مثبت پہلو کے ساتھ ساتھ یہ منفی پہلو بھی ہے کہ آج دنیا دہشت گردی اور مذہبی انتہاپسندی کی دلدل میں تیزی کے ساتھ دھنستی جا رہی ہے۔

مذہبی انتہا پسندی کی یہ وبا بھی اکیسویں صدی ہی کا تحفہ ہے، جس کی ذمے داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، امریکا کے حکمران طبقے نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے پاکستان کے حکمران ضیا الحق کے ساتھ ساتھ مسلم انتہا پسندوں کو بلا سوچے سمجھے اس طرح استعمال کیا کہ انھوں نے روس کو افغانستان سے نکالنے میں تو کامیابی حاصل کرلی لیکن اس کامیابی نے مذہبی انتہا پسندوں کے ذہنوں میں یہ خیال بھی مضبوط کردیا کہ وہ اب دنیا پر اپنی نظریاتی حکمرانی قائم کرسکتے ہیں۔ یہی خیال اب دہشت گردی کی شکل میں ساری دنیا میں پھیل رہا ہے اور امریکا اور اس کے اتحادی اب دہشت گردی کے نام سے اس حد تک خوفزدہ ہیں کہ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف مہم شروع کی اور پاکستان کو اس مہم کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا دیا۔ پاکستان کو اس ’’اعزاز‘‘ کی قیمت 50 ہزار پاکستانیوں کی قربانی کی شکل میں ادا کرنی پڑی۔

امریکا کی دہشت گردی کے خلاف مہم یا جنگ جس میں کھربوں ڈالر پھونک دیے گئے اس لیے ناکام ہوگئی کہ یہ جنگ صرف جدید ہتھیاروں سے لڑی گئی جب کہ اس جنگ کی بنیاد نظریاتی ہے۔ حیرت ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مشورہ دینے والے جنگی ماہرین اور تھنک ٹینکوں نے یہ سمجھنے کی ذرہ برابر کوشش نہیں کی کہ خود کو خودکش حملوں میں مارنے والوں کی نظریاتی اساس بھی ہوسکتی ہے۔ مغرب کے ماہرین حرب یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے جسموں سے بارودی جیکٹ باندھ کر خود کو ایک دہشت ناک موت کے حوالے کیوں کر رہے ہیں۔

مغرب کے تھنک ٹینک اس بات پر غور کرنے سے قاصر رہے ہیں کہ مغربی ملکوں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنا وطن اپنا گھر بار چھوڑ کر داعش جیسی تنظیم میں شامل ہونے کے لیے عراق اور شام کیوں جا رہے ہیں۔ مغربی ماہرین حرب اس بات پر غور نہ کر سکے کہ اس قدر سخت سیکیورٹی کے باوجود مذہبی انتہا پسند امریکا روس، جرمنی، فرانس، برطانیہ، چین سمیت کئی مغربی ملکوں میں پہنچ کر دہشت گردی کی کارروائیوں میں کیوں کامیاب ہو رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے بھی قاصر رہے کہ ان کے تباہ کن فضائی حملوں کے باوجود دہشت گرد عراق، شام، یمن، افغانستان کے کئی شہروں پر کس طرح قابض ہورہے ہیں۔

وہ اس حقیقت کا ادراک بھی نہ کر سکے کہ دہشت گردی کی یہ جنگ حربی سے زیادہ نظریاتی ہے۔ وہ افریقہ کے مختلف ملکوں میں بڑھتی اور پھیلتی مذہبی انتہا پسندی کے نظریاتی پہلوؤں کو سمجھنے سے بھی قاصر رہے۔ وہ اس حقیقت کے عوامل جاننے سے بھی معذور رہے کہ پاکستان جیسے انتہائی محتاط ملک میں داعش کا لٹریچر اور وال چاکنگ کیوں ہو رہی ہے اور یہ کام کون کر رہے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو بھی محسوس نہیں کرسکے کہ پاکستان سمیت کئی مسلم ملکوں میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو قیامت سے پہلے ساری دنیا میں اسلامی نظام کے نفاذ کی طاقت داعش جیسی تنظیم کو سمجھ رہے ہیں اور اسی پس منظر میں وہ مذہبی انتہا پسندوں کے سہولت کاروں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکا اور مغربی ممالک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سی غلطیاں کی ہیں جس کی وجہ سے یہ جنگ بہت زیادہ پھیل گئی ہے۔ حقائق کو دیکھا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس جنگ کی وجہ سے مسلم ملکوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ خصوصاً شام، عراق، لیبیا، یمن اور صومالیہ خانہ جنگی کا شکار ہوئے۔ سوڈان دو حصوںمیں تقسیم ہو گیا۔ افغانستان کی صورت حال سب کے سامنے ہے۔ یہاں اب تک لڑائی جاری ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ امریکا اور مغربی ممالک کی پالیسیوں میں نظریاتی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اصولی طور پر دہشت گردی کی لڑائی کو مذہبی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔ یہ رنگ بھی امریکا اور اس کے حواریوں کی پالیسیوں کی وجہ سے ملا ہے۔ امریکا اور اس کے حواریوں کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ اس نظریاتی جنگ میں ان کو فتح نہیں ملے گی بلکہ یہ کئی اور ملکوں کی تباہی کا پیش خیمہ بن جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جنگ کو پھیلنے سے روکا جائے۔

بلاشبہ پاکستانی افواج نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر شمالی وزیرستان اور سوات میں دہشت گردوں کو بے دست وپا کر دیا، لیکن پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے بھی دہشت گردوں کی نظریاتی اساس کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ کرپشن کے سنگین الزامات لگانے اور اس کا دفاع کرنے کی کوششوں میں دہشت گردی کی معاونت کو بھی استعمال اور رد کیا جارہا ہے۔ آج کراچی میں داعش کی معاونت کرنے والی تنظیموں اور اس کو چلانے والی خواتین کے نام میڈیا میں آرہے ہیں اور ہمارا حکمران طبقہ پاکستان میں داعش کی موجودگی ہی سے انکار کر رہا ہے۔

اس حقیقت میں ذرہ برابر غلطی نہیں ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کی اساس نظریاتی ہے اور کسی بھی نظریاتی جنگ کو محض ہتھیاروں سے نہیں لڑا جا سکتا۔ اس جنگ کو جیتنے کے لیے نظریاتی محاذ پر ایک منظم اور منصوبہ بند مہم کی ضرورت ہے اور اس جنگ میں سب سے زیادہ اہم کردار میڈیا ادا کرسکتا ہے۔ آج الیکٹرانک میڈیا کی رسائی دنیا کے ہر ملک اور ملکوں کے چپے چپے تک ہوگئی ہے، کیا اس نظریاتی جنگ میں مغرب سمیت کسی ملک نے میڈیا کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا؟ اس سوال کا بدقسمتی سے جواب نفی میں آتا ہے۔ دہشت گردی کے مراکز میں تعلیم سے محروم قبائلی علاقے پیش پیش ہیں۔ قبائلی علاقوں میں رہنے والے عوام تاریخی طور پر قدامت پرست ہے، قدامت پرستی نہ بری ہوتی ہے نہ خطرناک، جب کہ وہ پرامن ہو لیکن یہ اس وقت خطرہ بلکہ سنگین خطرہ بن جاتی ہے جب وہ تشدد کے راستے پر چلی جاتی ہے۔

ہمارے سادہ لوح عوام کو دہشت گرد یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ خدا کے دین کو ساری دنیا پر نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اس گمراہ کن پروپیگنڈے کے جواب میں یہ سوال نہیں پوچھا جا رہا ہے کہ دنیا بھر میں اسلام کا نفاذ کرنے والوں نے پاکستان میں 50 ہزار سے زیادہ مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ کیوں رنگے ہیں۔ آج عراق اور شام میں عقائد کے نام پر لاکھوں مسلمانوں کو قتل اور بے وطن کرنے والے کون ہیں۔ آج افریقی ملکوں میں ہر روز سیکڑوں مسلمانوں کو ذبح کرکے انتہائی سفاکی سے موت کے حوالے کرنے والے کون ہیں۔ اسلام میں ایک انسان کے قتل کو سارے عالم کا قتل اور ایک مسلمان کا خون دوسرے مسلمان پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس ہدایت کے برخلاف لاکھوں مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ سرخ کرنے والے کون ہیں؟

مغرب نے دہشت گردی کے خلاف ہتھیاروں کی جنگ میں اب تک کھربوں ڈالر پھونکا دیے، اگر اس کا دس فیصد حصہ بھی نظریاتی جنگ پر خرچ کیا جاتا تو آج دہشت گردی کی جنگ جیتی جا چکی ہوتی۔ بشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'
------------------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size