مودی کے بعد کابل میں جنرل راحیل

اسد اللہ غالب
اسد اللہ غالب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

نریندر مودی کابل گئے، اور سرپرائز دے کر لاہور بھی آ گئے، تاثر یہ ملا کہ ان کی سوچ بدل گئی ہے اور وہ پاکستان سے معاملات درست کرنا چاہتے ہیں۔ کابل میں مودی کیا کرتے رہے، انہوں نے افغان پارلیمنٹ کی عمارت کا افتتاح کیا جو بھارت کی مالی مدد سے بنائی گئی ہے، چھوٹے پڑوسی ملکوں میں بھارت کی ا س طرح کی مالی مدد کا سلسلہ جاری رہتا ہے، نیپال کے دارالحکومت میں جی پی او کی بلڈنگ بھی بھارت نے ہی تعمیر کر کے دی ہے، مگر عمارتوں کی تعمیر یا کسی اور منصوبے کی سرپرستی کا مطلب یہ نہیں کہ مدد لینے والا ملک بھارت کی بالا دستی کووقبول کر لے یا بھارت، مدد لینے والے ملک کی آزادی اور خود مختاری کا احترام کرنے لگ جائے۔ بھارت نے 1989ء میں بھی نیپال کا بلاکیڈ کیا اور اب بھی یہی حرکت کی جا چکی ہے۔ نیپال دنیا میں واحد ہندو ریاست ہے، اب اس کو سیکولر کہا جانے لگا ہے ، تاہم اس کی آبادی کی غالب اکثریت ہندو ہے مگر بھارت اس کی خود مختاری کو بھی ہضم نہیں کر پا رہا۔ افغانستان کے ساتھ بھی بھارت ایسا ہی گل کھلا ئے گا۔

بھارت نے افغانستان میں جگہ جگہ قونصلیٹ قائم کر رکھے ہیں، ایک ایسے ملک میں جہاں کوئی بھی سیاح جانے سے ڈرتا ہے ، وہاں ڈیڑھ درجن سے زاید قونصلیٹ کس کے سہولت کار ہیں، اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔قندھار کے قونصلیٹ کے بارے میں عالمی میڈیا یہ خبر دے چکا ہے کہ یہاں سے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے ا ور انہیں اسلحہ بھی فراہم کیا جاتا ہے اور پشاور کے بالمقابل افغان شہروں میں قائم بھارتی قونصلیٹ نے اے پی ایس کی خونریزی میں کیا کردار اد ا کیا ، یہ بھی صیغہ راز میں نہیں رہ سکا ، پاکستان نے یہ سارے ثبوت اقوام متحدہ کے حوالے کر دیئے ہیں۔ امریکہ اب کسی وقت افغانستان سے واپسی کا خواہاں ہے، باقی نیٹو فورسز نے بھی آخر توگھر جانا ہے، بھارت کی کوشش ہے کہ ان کی روانگی کے بعد افغان امور پر وہ حاوی ہو جائے۔ لیکن کیوں، اس نے افغانیوں کے لئے خون کاایک قطرہ تک نہیں بہایا، جبکہ پاکستان نے تیرہ برس میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے، بھارت تو محض خاموش تماشائی بنا رہا، پاکستان وارآف ٹیرر کا سرگرم حصے دار بنا۔ جب سووئت روس نے افغانستان پر فوج کشی کی تو بھارت اس کا حلیف تھا اور یہ پاکستان ہی تھا جس نے ا فغانیوں کو روس کی غلامی میں جانے سے بچایا۔ چالیس برس سے ساٹھ لاکھ سے زاید افغان پناہ گزینوں کا بوجھ بھی پاکستان نے سہار رکھا ہے ، مگر بھارت کی نہ ہینگ لگی نہ پھٹکری اور خواہش ہے کہ رنگ چوکھا آئے۔

طالبان سے مذاکرات میں پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا اور پہلا دور مری میں ہوا مگر بھارت کو یہ ادا پسند نہ آئی، اس نے ملا عمر کی موت کی خبرا ڑا دی۔ یہ مذاکرات دھرے کے دھرے رہ گئے اور طالبان گروہ بندی کا شکار ہو گئے، کیا یہ افغانیوں کی مدد کے مترادف ہے یا ان کی صریح دشمنی ہے۔ جنرل راحیل شریف نے امریکی دورے میں اس رکے ہوئے سلسلے کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا، اور اتوار کے روز ان کی کابل میں جتنے بھی حکومتی عہدیداروں سے ملا قاتیں ہوئیں، ان میں بھی مذکرات کی بحالی پر بات کی گئی ہے۔ مودی نے اپنے دورے میں بھول کر بھی یہ بات کھل کر نہیں کی۔ انہوں نے افغانیوں کا شاہنامہ گایا، انہیں یاد دلایا کہ افغانستان اور بھارت کے ہزاروں برس سے دو طرفہ تعلقات قائم ہیں، دونوں ملک ایک زمانے میں ایک سلطنت کا حصہ تھے، کبھی بھارتی مہاراجے اس پر حکومت کرتے رہے اور کبھی افغان فاتحین نے تخت دہلی پر راج کیا۔مودی کو جس کسی نے تاریخ کے یہ نکتے یاد کروائے تھے، وہ ایک نکتہ بھول گیا کہ سفارت کاری میں خالی چرب زبانی سے کام نہیں چلایا جا سکتا۔

مگر بھارت ہار ماننے والا کب ہے، عین جس روز راحیل شریف کابل پہنچنے والے تھے، ایک افغان اپوزیشن لیڈر کے منہ سے اس نے کہلوایا کہ امن کی تلاش کے لئے پاکستان سے کوئی امید نہ کی جائے۔ یہ افغان لیڈر ایک زمانے میں پاکستان میں سفارت کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ مگر نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے، افغان حکومت نے جنرل راحیل کی باتوں پر کان لگائے۔اور اب جو کچھ ہونا ہے ، انہی باتوں کی روشنی میں ہو گا، بھارتی خواہشات ہرگز پروان نہیں چڑھ سکتیں اور یہ خواہشات ہیں کیا، ایک یہ کہ بھارت کو افغانستان کے ساتھ تجارت کے لئے راہداری مل جائے، دوسرے پاک چین اقتصادی کوریڈور میں بھارت کو شراکت دار بنایا جائے۔ تیسرے افغانستان سے پاکستان کا اثرو رسوخ ختم کیا جائے۔

کابل میں جو بھی حکمران ہے یا ہو گا، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ افغانیوں کے معاملات کو بگاڑنے میں پاکستان کا کبھی کوئی کردار نہیں رہا، جو بھی افغانیوں کا نقصان ہوا، خود ان کے اپنے ہاتھوں سے ہوا، ظاہر شاہ کو پاکستان نے نہیں نکالا، حفیظ اللہ امین کو پاکستان نے قتل نہیں کیا،ببرک کرمل کو پاکستان نے حکمران نہیں بنایا اور سوویت روس کو پاکستان نے اکسا کر افغانستان پر حملہ نہیں کروایا، نہ روس کی شکست کے بعد افغان خانہ جنگی میں پاکستان کا کوئی حصہ ہے، یہی نواز شریف تھے جو افغان گروپوں کو کبھی اسلام آباد مدعو کرتے تھے، کبھی خانہ کعبہ میں بٹھا کر صلح صفائی کی کوشش کرتے تھے۔ ہاں طالبان کی مدد ہم نے ضرور کی مگر انہی طالبان نے اس ملک میں امن بھی قائم کر دکھایا یہ الگ بات ہے کہ ان کی ایک ضد کی وجہ سے، کہ اسامہ ان کا مہمان ہے، اس لئے اسے امریکہ کے حوالے نہیں کر سکتے، امریکہ نے اس ملک کا تورا بورا بنا دیا، افغانیوں کی اس خونریزی میں امریکی میزائل، امریکی بمبار، امریکی ٹینک شامل تھے، پاکستان تو اپنے ملک میں الٹے پلٹے دہشت گردوں سے لڑائی میں پھنسا دیا گیا۔

ایک اعتراض اور بھی ہے، امریکہ بھی کہتا رہا: گڈ طالبان اور بیڈ طالبان، افغانستان بھی یہی الزام لگاتا ہے مگر جو لوگ پاکستان میں دہشت گردی نہیں کر رہے تھے، ان کے ساتھ لڑنے کے لئے پاکستان ڈیورنڈ لائن کیوں پار کرتا۔ ان سے لڑنے کے لئے افغان فوج بھی تھی، امریکی اور نیٹو افواج بھی اور اگر یہ لوگ فاٹا میں چھپے ہوئے تھے تو جس طرح امریکہ ڈرون مارتا رہا، ان طالبان کو بھی اس نے ڈرون سے ختم کیوں نہ کیا، امریکہ نے تو ہماری سلالہ چوکی پر بھی ہلہ بول دیا تھا۔تو ان طالبان کو اس نے کیوں معاف کئے رکھا۔ اور افغانستان یہ تو بتائے کہ پاکستان میں یہ جو آئے روز دہشت گردی ہوتی رہی، اس کے لئے اس کی سرزمیں کیوں استعمال ہوتی رہی۔

جنرل راحیل شریف نے افغان قیادت کے ساتھ اسی زبان میں بات کی ہو گی۔ ہم نے مودی کو سر آنکھوں پہ بٹھایا مگر باور کیا جا سکتا ہے کہ کابل میں مودی کے پھیلائے ہوئے زہر کو ختم کرنے میں انہیں خاصی دشواری پیش آئی ہو گی۔ بشکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
----------------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size