.

داعش سے خطرہ نہیں ہے

وجاہت مسعود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹھتے ہیں حجاب آخر… داعش کا نام نامی اوّل اوّل عراق میں چمکا اور کشاں کشاں شام پہنچ گیا۔ لیبیا اور یمن سے ہوتا ہوا یہ نعرہ مستانہ برادر عرب ملک میں گونجا۔ تب ہمارے ہاں ابھی آپریشن ضرب عضب شروع نہیں ہوا تھا۔ ہمارے وزیر داخلہ حکیم اللہ محسود کی شہادت پر دل گرفتہ تھے۔ جماعت اسلامی نے ایک بیان میں مرحوم محسود صاحب کو شہید قرار دیا تھا۔ ہمارے دانش مند رہنما عرفان صدیقی اور مولوی یوسف شاہ نامعلوم مقام سے پرواز کر کے نامعلوم افراد سے ملاقات کیا کرتے تھے اور پھر قوم کو خوش خبریاں دیتے تھے۔ 2014ء کے یہی دن تھے جب کراچی کی نواحی بستیوں میں دیواروں پر خلیفہ البغدادی صاحب کا اسم گرامی نمودار ہوا۔ دہشت گردی کی کچھ وارداتوں میں موقع پر جو اشتہار وغیرہ گرائے گئے ان پر داعش کا نام اور امتیازی نشانات موجود تھے۔ متن میں املا کی ان گنت غلطیاں تھیں جو دلیل تھیں کہ لکھنے والے نام نہاد جذبہ جہاد سے سرشار ہیں۔ مظالم کو ’مزالم‘ لکھا تھا۔ ایک ولایت کا ذکر تھا جس میں پاکستان سمیت خدا معلوم کن کن بدنصیب ملکوں کو شامل کیا گیا تھا۔ ہماری خاک پر انکار کی بحر مثمن واجب ہوئی ہے۔

ہمیں تو خواہی نا خواہی انکار ہی کرنا تھا۔ ہم نے نقشے نکالے اور بتایا کہ شام اور عراق سے داعش کا پاکستان پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ فیض کا مصرع ہمارے ذہن سے اتر گیا تھا ۔تمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے۔ نیز یہ کہ ہمارے لئے یہ اطمینان کافی تھا کہ داعش کے لئے اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ گویا القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان نے ہماری زمین پر جو گل کھلائے تھے وہ کہاں فقہ کے اصولوں کی روشنی میں عین اسلامی تھے۔ ہمارا تو خیر یہ بھی کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں بلیک واٹر نامی تنظیم بھیس بدل کے کرتی ہے۔ پیسہ انہیں بھارت سے ملتا ہے۔ سازش مغربی ملکوں کی ہوتی ہے اور یوں بھی زیادہ مین میخ نکالنے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔ صوفی محمد سے ہمارا محض طریقہ کار کا اختلاف تھا ۔ تم جہاں کے ہو، واں کے ہم بھی ہیں۔ صوفی صاحب کا نسبتی فرزند ملا فضل اللہ باجوڑ کے راستے افغانستان چلا گیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ وہ افغان خفیہ اداروں کی شہہ پر سرگرم ہے۔ ہماری بصیرت بے پناہ ہے اور اب تو ہمیں یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ دہشت گردوں کا حقیقی سرپرست کراچی سے ڈاکٹر عاصم نام کا ایک شخص ہے۔

کراچی کا ایک شخص ڈاکٹر ارشد وحید 14مارچ 2008 ء کو وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ ابھی ہم ڈاکٹر ارشد وحید اور ڈاکٹر عاصم میں رابطے کی کڑیاں معلوم نہیں کر سکے۔ بے پناہ انتظامی اہلیت اور سیاسی بصیرت کے حامل وزیر داخلہ کے ناخنوں میں قانون بھرا ہے اور انہوں نے واشگاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ لال مسجد والے مولانا عبدالعزیز صاحب کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی کیونکہ انکے خلاف کوئی مقدمہ موجود نہیں ہے۔ آٹھ جولائی 2007ء کو پاکستان کی فوج کا لیفٹیننٹ کرنل ہارون اسلام لال مسجد کی لڑائی میں 150جوانوں کی بے جگری سے قیادت کرتے ہوئے شہید ہوا تھا۔ اس کارروائی میں نامعلوم تعداد میں فوجی جوان اور افسر شہید ہوئے تھے۔ فوج نے لال مسجد کے اندر سے درجنوں بچیاں برآمد کی تھیں جنہیں لڑائی کے ہنگام میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ یہ امر بہرصورت واضح ہے کہ مولانا عبدالعزیز کے ہاتھ صاف ہیں اور ہمارے وزیر داخلہ دو ٹوک الفاظ میں کھری بات کرتے ہیں۔

آپریشن ضرب عضب کو کراچی میں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ خالق دو جہاں کی حمد و ثنا کے بعد اس قوم پر اگر کسی کا تشکر واجب ہے تو وہ چوہدری نثار علی خان اور رانا ثنااللہ ہیں۔ رانا ثنااللہ نے بالآخر ارشاد فرمایا ہے کہ کچھ افراد داعش سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ ان کی تنظیم پاکستان میں موجود نہیں ہے۔ کرنے کا کام اب یہ ہے کہ کراچی میں کوئی بڑی عمارت دریافت کی جائے۔ استقبالیہ پر ایک خوش شکل باریش صاحبزادے تشریف فرما ہوں گے اور جب ان سے داعش کی تنظیم کے بارے میں پوچھا جائے گا تو وہ کہیں گے بائیں ہاتھ کے کاریڈور میں القاعدہ برصغیر کے امیر صاحب کے دفتر سے تین کمرے چھوڑ کر داعش کے ذمہ داران قیام فرما ہیں۔ داعش کی تنظیم کو ثابت کرنے کے لئے یہی معلومات درکار ہیں۔ خاطر جمع رکھنی چاہئے کہ یہ معلومات ملتے ہی ملک کے وزیر داخلہ اور پنجاب کے وزیر قانون کے حکم پر پولیس کی نفری متعلقہ عمارت پر چھاپہ مارے گی اور قوم کو حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔

فی الحال پولیس کے جوان تھکاوٹ کا شکار ہیں کیونکہ 31دسمبر کی رات انہیں ’نہی عن المنکر‘ کی ڈیوٹی دینا پڑی۔ کراچی کے کچھ حصوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔دیگر شہروں میں جگہ جگہ ناکے لگائے گئے۔جنس مخالف کی معیت میں گھر سے نکلنے والوں پر کڑی آنکھ رکھی گئی۔ حفظان صحت کو یقینی بنانے کے لئے نوجوانوں کے دانت گنے گئے۔ ہوٹلوں کو تنبیہ جاری کی گئی۔ موٹر سائیکل سواروں کو روک کے خوش اخلاقی سے بتایا گیا کہ 31دسمبر کی شام خوشی منانا ہمارا تہوار نہیں ہے۔ وسیع و عر یض بنگلوں کے تہہ خانوں میں مل بیٹھنے والے شرفاء البتہ ان پابندیوں سے مستثنیٰ قرار پائے کیونکہ چادر اور چار دیواری کا احترام ہماری مملکت پر واجب ہے۔ نیز یہ کہ اخبارات میں بیانات اور اشتہاروں کی مدد سے شہریوں کو دھمکانے والی ڈنڈا بردار قوتوں کیلئے اظہار کی آزادی موجود ہے ۔

آئین کی شق 19 ڈنڈا اٹھانے والوں کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔ اجتماع کی آزادی بھی آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق کا حصہ ہے تاہم 31 دسمبر کی شام اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ نقل و حرکت کی آزادی بھی ہمارے آئین کا حصہ ہے اور لاہور کی آٹھ خواتین اسی آئینی حق کی روشنی میں شام روانہ ہو گئی ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ایک سانس میں فرماتے ہیں کہ داعش کے خطرے سے نمٹنے کی پوری تیاری کر لی گئی ہے۔ اور پھر یہ بھی ارشاد ہوا کہ پاکستان پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیا جائے گا۔

مگر صاحب شہر کی دیواروں پر داعش کا سایہ تو 31دسمبر کی شام ہم نے ملک کے ہر شہر اور ہر قصبے میں دیکھا۔ داعش کیا ہے؟یہ ایک سوچ ہے جو اپنی زد میں آنے والی انسانی آبادیوں پر تشدد ، ہتھیار اورایذا رسانی کی مدد سے اقتدار قائم کرنا چاہتی ہے اور پھر مفتوحہ آبادیوں پر اپنا ترجیحی طرز حیات مسلط کرنا چاہتی ہے۔ عورتوں کی خریدوفروخت کو جائز کاروباری سرگرمی میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ دنیا بھر میں جنگ و جدل کا بازار گر م کرنا چاہتی ہے۔ روز مرہ سرگرمیوں میں مصروف نہتے شہریوں کو قتل کرتی ہے۔ فرقہ وارانہ اختلافات کو سیاست کی بنیاد بنانا چاہتی ہے۔ قوموں کے معدنی وسائل اونے پونے بیچ کر اپنی تجوریاں بھرنا چاہتی ہے۔ ہم نے مان لیا کہ یہ تنظیم مغربی استعمار کے اشاروں پر کام کر رہی ہے مگر ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ داعش کے اصولوں سے اتفاق کرنے والے عناصر کو ہماری زمین پر کھلی چھٹی کس نے دے رکھی ہے۔

کیا ہم نے داعش کے سیاسی نظریات اور معاشرتی اقدار پر کوئی بحث کی۔ کیا اس ملک میں رہنے والے واقعی جانتے ہیں کہ داعش کی حمایت یا مخالفت کس بنیاد پر کی جانی چاہئے۔ ہمارے بچوں کی خوشیوں پر پہرہ بٹھانے والے داعش کی سوچ کے حامی ہیں۔ اسلام آباد میں داعش کا امیر کون ہے ۔ کراچی میں یہ مقدس ذمہ داری کسے دی گئی ہے۔ خیبر ایجنسی کی وہ پرفتوح ہستی کون ہے جو افغانستان میں بیٹھ کر داعش کی قیادت فرما رہی ہے۔ جوہر ٹائون لاہور میں کونسا مدرسہ داعش کے لئے بھرتی کر رہا ہے۔ یہ سب تو اس رپورٹ میں بتا دیا گیا ہے جو 24 دسمبر کو پنجاب کے محکمہ داخلہ نے وفاق کو بھیجی ہے۔ ہمیں کل بھی القاعدہ سے خطرہ نہیں تھا ۔ القاعدہ کی حمایت کرنے والوں سے خطرہ تھا۔ ہمیں آج بھی داعش سے خطرہ نہیں ہے ،ہمیں ان سیاسی اور تمدنی قوتوں کے بارے میں تشویش ہے جو داعش کے بارے میں کھل کر بات کرنے کی ہمت نہیں رکھتیں۔ ہمیں ان عناصر کے بارے میں وسوسے ہیںجو داعش کے مفروضات، مقاصد اور اقدار سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ ہمیں خوف آتش گل سے ہے، یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے۔ بشکریہ روزنامہ "جنگ"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.