.

عدنان سمیع خان اور شیکھر گُپتا

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گلو کار عدنان سمیع خان نے بھارتی شہریت حاصل کرنے کیلئے کئی سال تک دوڑ بھاگ کی اور منت سماجت بھی کی۔ آخرکار نریندر مودی کی مہربانی سے انہیں بھارتی شہریت تو مل گئی لیکن اب اگلے کئی سال تک بھارت سے وفاداری کا یقین دلانے کیلئے نجانے انہیں کیا کچھ کرنا پڑے گا۔ بھارتی شہریت ملنے پر انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا اور ٹوئٹر کے ذریعے جے ہند کا نعرہ بھی لگا دیا۔ ان کے اس نعرے کا جواب بھارت کے ایک معروف صحافی شیکھر گپتا نے دیا۔

شیکھر گپتا نے کہا کہ جے ہند کا نعرہ لگا کر ہمیں خوش کرنے کی کوشش نہ کرو، تم اپنے وطن کے نہ بن سکے ہمارے کیا بنو گے۔ شیکھر گپتا کا شمار بھارت کے ان صحافیوں اور دانشوروں میں ہوتا ہے جو پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ پٹھان کوٹ ایئربیس پر حالیہ حملے کے بعد انہوں نے پاکستان پر تنقید کرنے کی بجائے امن مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا لیکن پاکستانی شہریت چھوڑ کر بھارتی شہریت اختیار کرنے والے عدنان سمیع خان کو اپنا ہم وطن تسلیم کرنا شیکھر گپتا جیسے کئی بھارتیوں کیلئے بہت مشکل ہے۔ بھارت کے بہت سے سمجھدار لوگوں کا خیال ہے کہ عدنان سمیع خان کو بھارتی شہریت ملنے پر نریندر مودی کی بجائے شاہ رخ خان اور عامر خان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ شاہ رخ خان اور عامر خان نے پچھلے دنوں بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور اقلیتوں کے ساتھ نا انصافی پر آواز بلند کی تھی۔

بہت سے بھارتی فنکاروں اور ادیبوں نے مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے خلاف سرکاری اعزازات واپس کرنے شروع کر دیئے تھے جس کے بعد دنیا بھر میں نریندر مودی پر تنقید شروع ہو گئی تھی ۔مودی نے تنقید کے اس سیلاب کو روکنے کیلئے دوکام کئے ۔پہلا کام یہ کیا کہ انہوں نے پاکستان کا ایک مختصر دورہ کیا ۔اس دورے کے فوراً بعد انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں یاسین ملک سمیت کئی آزادی پسند رہنمائوں پر جھوٹے مقدمے بنا کر انہیں گرفتار کر لیا۔ابھی تک انکی امن پالیسی کا مقصد مسئلہ کشمیر کو حل کرنا نہیں بلکہ امن مذاکرات کے نام پر پاکستان اور کشمیریوں میں فاصلے پیدا کرنا نظر آتا ہے ۔انہوں نے دوسرا کام یہ کیا کہ عدنان سمیع خان کو بھارتی شہریت دیدی اور انکی عنایت کے بوجھ تلے دبے گلوکار کو یہ بیان دینا پڑا کہ اگر بھارت میں برداشت اور رواداری نہ ہوتی تو میں بھارتی شہریت کیسے قبول کر لیتا؟ عدنان سمیع خان کو بھارتی شہریت دیکر مودی حکومت نے ایک طرف شاہ رخ خان اور عامر خان کی شکایتوں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف ان درجنوں فنکاروں اور ادیبوں کا منہ بند کیا جو مودی حکومت کے اقلیت دشمن رویے پر احتجاج کر رہے تھے۔

عدنان سمیع خان کے حق میں یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ اگر ساحر لدھیانوی اور قرۃ العین حیدر پاکستان چھوڑ کر بھارت میں بس سکتے ہیں تو عدنان پر اعتراض کیوں؟ تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ساحر لدھیانوی اور قرۃ العین حیدر قیام پاکستان کے فوراً بعد بھارت چلے گئے تھے کیونکہ یہاں ترقی پسند شاعروں اور ادیبوں کا جینا محال کر دیا گیا تھا لیکن سعادت حسن منٹو اور جوش ملیح آبادی کے بارے میں کیا کہیں گے جنہیں بھارت میں بڑی عزت ملی لیکن وہ عزت اور پیسہ چھوڑ کر پاکستان چلے آئے ؟ کون نہیں جانتا کہ فیض احمد فیض، حبیب جالب، مہدی حسن، استاد سلامت علی خان، ریشماں اور بہت سے نامور پاکستانیوں کو بھارت میں پناہ کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے معذرت کر لی۔ عدنان سمیع خان اور ان کے خاندان پر پاکستان میں کبھی برا وقت نہیں آیا بلکہ اس خاندان کو پاکستان میں بہت کچھ ملا پھر عدنان سمیع خان نے پاکستان کیوں چھوڑا؟

عدنان سمیع خان کے خاندان کا اصل تعلق افغانستان سے ہے ۔انکے دادا محفوظ خان کابل، ہرات، جلال آباد اور بلخ کے گورنر تھے ۔بچہ سقہ کے دور میں برا وقت شروع ہوا تو انہیں افغانستان چھوڑنا پڑا۔ عدنان کے والد ارشد سمیع خان پاکستان ایئرفورس میں اسکوارڈن لیڈر تھے اور 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ستارہ جرات بھی حاصل کیا۔ارشد سمیع خان 1966ء سے 1972ء کے دوران صدر ایوب خان، صدر یحییٰ خان اور صدر ذوالفقار علی بھٹو کے اے ڈی سی رہے ۔بعدازاں فارن سروس میں آ گئے۔ پھر چھٹی لیکر بیرون ملک چلے گئے۔ کئی سال بعد واپس آکر دوبارہ فارن سروس جوائن کرلی۔کئی ملکوں میں سفیر بنے۔چیف آف پروٹوکول بنے ، 1989ء میں کینسر کا شکار ہوئے تو وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے ان کا سرکاری خرچ پر برطانیہ سے علاج کرایا۔ وفاقی سیکرٹری بھی بنے ،عدنان سمیع کو فلموں میں گانے اور کام دلوانے کیلئے سیکرٹری کلچر کے طور پر اپنا اثرورسوخ بھی استعمال کرتے رہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یحییٰ خان کے دور میں جنرل رانی کے نام سے مشہور ہونے والی اقلیم اختر رانی رشتے میں عدنان سمیع خان کی نانی تھی ۔ارشد سمیع خان جنرل رانی کی بہن کے داماد تھے۔

جنرل رانی کی ایک بیٹی عروسہ عالم پچھلے کئی سال سے بھارتی پنجاب کے ایک سیاست دان ارمیندر سنگھ کی دوست بن کر بھارت میں مقیم ہیں۔ بھارتی میڈیا میں یہ خبریں بھی شائع ہوئیں کہ ارمیندر سنگھ نے عروسہ عالم سے شادی کر لی ہے لیکن سابق مہاراجہ پٹیالہ کے بیٹے ارمیندرسنگھ کی بیوی مہارانی پرنیت کور کا کہنا ہے کہ سکھ مذہب کے مطابق ارمیندر سنگھ کی واحد قانونی بیوی ان کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ عروسہ عالم رشتے میں عدنان سمیع خان کی خالہ ہیں۔ بھانجے نے 2001ء اور خالہ نے 2004ء میں پاکستان چھوڑا تھا لیکن اس وقت جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے ان سے کوئی سوال نہیں پوچھا کیونکہ اس خاندان کے طاقتور اداروں میں گہرے تعلقات تھے۔ عدنان سمیع خان نے فلمی دنیا میں قدم رکھنے کیلئے پہلے زیبا بختیار کو اپنی سیڑھی بنایا اور پھر آشا بھو سلے کو استعمال کیا۔ موصوف کے پاکستان چھوڑنے پر مجھے کوئی دکھ ہے نہ اعتراض لیکن میں اہل وطن کو یہ ضرور بتانا چاہتا ہوں کہ عدنان سمیع خان کے والد ارشد سمیع خان بھی پاکستان چھوڑ کر امریکہ چلے گئے تھے اور ان کا انتقال ممبئی میں ہوا تھا۔ ارشد سمیع خان کی کتاب ’’تھری پریذیڈنٹس اینڈ این ایڈ‘‘ بھارت میں شائع ہوئی تھی۔

ارشد سمیع خان نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ 1970ء کے انتخابات صاف اور شفاف نہیں تھے۔خان عبدالقیوم خان، صبور خان اور مولانا بھاشانی سمیت کئی سیاست دانوں میں رقوم تقسیم ہوئیں لیکن انتخابات میں عوامی لیگ کو اکثریت ملی تو یحییٰ خان غصے میں آگئے اور انہوں نے اپنے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر جنرل غلام عمر سے کہا کہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے نتائج مختلف ہونے چاہئیں لیکن جنرل عمر کچھ نہ کر سکے۔ اس الیکشن میں یحییٰ خان نے راولپنڈی میں سائیکل کے نشان کے سامنے مہر لگائی اور ارشد سمیع خان سے بھی سائیکل پر مہر لگوائی۔ارشد سمیع خان نے یہ بھی لکھا ہے کہ کس طرح وہ ڈھاکہ کے پریذیڈنٹ ہائوس میں رات کو تمام روشنیاں بجھا دیتے تھے اور پھر صدر پاکستان کو اپنی گاڑی میں چھپا کر ڈانس پارٹیوں میں لے جاتے جہاں صدر صاحب تمام رات عورتوں کے ساتھ ناچتے رہتے تھے اور علی الصبح ارشد سمیع خان اپنے باس کو واپس پریذیڈنٹ ہائوس میں لے آتے۔

ارشد سمیع خان نے لکھا ہے کہ جب انہیں حمود الرحمان کمیشن کے سامنے بلایا گیا اور یحییٰ خان سے ملاقاتیں کرنے والی عورتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو اسکوارڈن لیڈر صاحب نے لاعلمی ظاہر کر دی ۔جسٹس حمود الرحمان نے اُن سے پوچھا کہ کیا یحییٰ خان کثرت شراب نوشی کا شکار تھے تو ارشد سمیع خان نے نفی میں جواب دیا۔ ارشد سمیع خان کی اس لاعلمی کے باوجود حمود الرحمان کمیشن نے یحییٰ خان کے بارے میں بہت سے ثبوت اور حقائق حاصل کرکے اپنی رپورٹ میں شامل کر دیئے۔ کمیشن کی رپورٹ کے باوجود یحییٰ خان پر کوئی مقدمہ نہ چلا جنرل ضیاء الحق نے انہیں رہا کر دیا اور ارشد سمیع خان پر بھی اپنی عنایات کو جاری رکھا ۔ ارشد سمیع خان نے اپنی کتاب میں اپنے ستارہ جرات کا بڑے فخر سے ذکر کیا ہے ۔جس ملک کیخلاف جنگ میں یہ ستارہ جرات انہیں ملا ان کے بیٹے عدنان سمیع خان نے اسی ملک کی شہریت حاصل کرکے اور جے ہند کا نعرہ لگا کر اس ستارہ جرات کی نفی کر دی ۔کیا عدنان سمیع خان جیسے شخص کو شیکھر گپتا کے الفاظ میں بھگوڑا کہنا درست نہیں ؟ - بشکریہ روزنامہ"جنگ"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.