.

شیخ محمد بن راشد المکتوم کے بیٹے کو میرا سلام!!

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نئے عیسوی برس کے آغاز میں ابھی صرف دو ہی گھنٹے باقی ہیں، عوام کا ایک جم غفیر ہے…ہر نسل ، مذہب، رنگ، زبان اور عقیدے کے لوگ کسی بھی ’’فرق‘‘ کے بغیر ایک ایسے مانوس مقام پر جمع ہیں جہاں دو گھنٹے بعد تاریخ ساز آتش بازی کا مظاہرہ ہونے والا ہے …قطع نظر اِس کے کہ یہ عمل درست ہے یا غلط؟ طریقہ کار مناسب ہے یا نامناسب؟ دین اجازت دیتا ہے یا نہیں؟لیکن چونکہ اِس خطے میں سب ہی بستے ہیں اور سب ہی کو اُن کی مذہبی آزادیوں کے ساتھ ہر تہوار منانے کا حق دیا گیا ہے اِس لئے جنہیں نہیں آنا اُن کا لازمی شریک ہونا بھی کوئی قانون نہیں اور جنہیں آنا ہے اُنہیں قانون کی پابندی اور اخلاقی ضابطوں کا ہر حال میں خیال رکھنا ہے …اور شاید اِسی وجہ سے سب مطمئن ہیں، سب جانتے ہیں کہ یہاں کوئی کسی پر ’’تیزاب‘‘ نہیں پھینکے گا،سب کو خبر ہے کہ ’’اسلام ایک ایسی چھاؤں ہے جہاں دیگر عقائد کے لوگ بھی اگر کچھ لمحوں کےلئے سستانے بیٹھ جائیں تو اُنہیں سوائے قبولیت اور خیر مقدم کے نفرت کی دھوپ کہیں نہیں ملے گی…چہرے تمام شاداں تھے، دل تمام آسودہ…

قانون کے مطابق شام 6 بجے سے ہی سب کو پابند کردیا گیا تھا کہ وہ اُن مقررہ مقامات پر جمع ہوجائیں جہاں حکومتی سطح پر نئے عیسوی برس کے استقبال کےلئے آتش بازی کا اہتمام کیا گیا ہے … حیرت تو اِس بات پر ہے کہ اِس ملک کا نظام اسلامی کلینڈر کے مطابق چلتا ہے، یہاں جمعہ کی چھٹی ہوتی ہے، شب معراج اور ربیع الاول کی خوشی میں بھی ’’خوشی خوشی‘‘ تعطیلات کااعلان کیا جاتا ہے … سرکاری اور غیر سرکاری معاملات ہجری تقویم کے تحت ہی نمٹائے جاتے ہیں، امیگریشن سے لے کر ضابطے کی تمام کارروائیاں اسلامی مہینوں، دنوں اور اوقات کے تحت ہی سرانجام دی جاتی ہیں، سات ریاستوں کے عقائد بھی یکسا ں نہیں لیکن اذانوں کے اوقات ایک ہی ہیں، کہیں شافعی ہیں تو کہیں مالکی، کہیں حنبلی ہیں تو کہیں زیاد نہیں مگر محدود تعداد میں حنفی بھی موجود ہیں…دنیا جس سمت میں بھی آگے بڑھے یہ اتوار کو کاروبار بند نہیں کرتے بلکہ قرآن میں جس دن کاروبار بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے اُسی دن تعطیل کرتے ہیں اور کسی میں مجال نہیں کہ وہ قانون کی اِس بالادستی کو چیلنج کر سکے …

خوش گپیاں جاری ہیں، منچلوں کے ٹولے آوازیں نکال رہے ہیں، خاندان اپنے اراکین کے ساتھ آزادانہ کافی اور چائے کی چسکیاں لے رہے ہیں اچانک خوف ناک شعلوں نے پرسکون فضا کو پرہول بنا دیا…آتش بازی کے مقام کے بالکل سامنے ایک عالی شان ہوٹل آگ کی لپیٹ میں آ چکا تھا، ذرا دیر کو بھگدڑ مچی لیکن موقع پر موجود قانون نافذ کرنے والے اہل کاروں نے اُس بھگدڑ کو ہنگامہ نہیں بننے دیا بلکہ سب کو پرسکون رہنے کی تلقین کی … یقین ہوچلا تھا کہ آج کی تقریبات منسوخ ہو جائیں گی، کچھ دیر بعد سرکاری طور پر اعلان کردیا جائے گا کہ جانی اور مالی نقصان کے سبب اب یہ ممکن نہیں ہے کہ سالِ نو کی تقریبات کا جشن منایا جائے …اور ویسے بھی اب یہ وہ منزل تھی جہاں کسی کو بھی تقریب کی نہیں بلکہ ہوٹل کی 20 منزلوں میں پھنسے ہوئے انسانوں کی فکر تھی…کسی نے GOD کو پکارا اور کوئی بھگوان کا تصور کر کے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا ، کوئی تیزی سے پیٹھ جھکا جھکا کر سجدے کرنے لگا اور کسی نے گوتم بدھ کو یاد کرنا شروع کردیا لیکن ’’رحمان والے‘‘…ایک معبود کو پوجنے والے اور اُسی سے مدد طلب کرنے والے پرسکون ہوکر اپنے رب کو پکارتے ہوئےآگ بجھانے والے آلات سے لیس ہوکر ہوٹل کے سامنے جا پہنچے…وہاں سب وردی میں تھے لیکن ایک نوعمر لڑکا عربی لباس میں فائر بریگیڈ والوں سے اُن کا پائپ لے کر آگ بجھانے کی کوششوں میں دیوانوں کی طرح مصروف تھا…اُس وقت کسی کا دھیان اُس کی جانب نہیں تھا اور کسی کو یہ جاننے کی فکر بھی نہیں تھی کہ یہ کون ہے ؟ مقصد ایک تھا، دعائیں مشترک تھیں کہ آگ بجھ جائے اور انسان بچ جائیں…!

فائر فائٹر جھلس رہے تھے، شعلے اُنہیں کھانے کے لئے بار بار اُن ہی کی جانب لپک رہے تھے، کچھ لوگ ’’خروج‘‘ کے راستوں سے چیختے چلاتے باہر بھی آ رہے تھے اور کئی آتے ہی زمین پر سجدوں میں گر گئے تھے کہ اللہ نے اُن کی جان بچالی لیکن فائر فائٹرز اِن تمام مناظر سے بے نیاز ایک عجیب ہی جوش میں آگ بجھانے میں لگے تھے…یہ کیسا جوش تھا، یہ کس کے سبب ولولہ تھا؟ کوئی بھی ابھی یہ جاننے کی جستجو میں نہیں تھا …اور پھر چشم فلک نے ایک حیرت انگیز منظر دیکھا کہ صرف ایک گھنٹے کی زبردست تگ ودو، محنت، جدوجہد اور جانفشانی کے بے مثال مظاہرے نے آگ کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا…وہ پرغرور شعلے جو کچھ دیر پہلے تک کسی کو خاطرمیں نہیں لارہے تھے آہستہ آہستہ اپنی شدت کھو بیٹھے، مایوس ہوکر بجھنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے چنگاریاں بھی بغاوت کرگئیں اور پانی کی دھار نے آتشِ ابلیس کو کاٹ ڈالا…رضاکاروں نے جو کہ جدید آلات سے لیس تھے ہوٹل میں داخل ہوکر ہر انسانی جان کو اللہ کے حکم سے اپنی آغوش میں لے کر اُسے موت کے منہ میں جانے سے بچالیا کیونکہ یہی میرے رب کی مرضی تھی اور بے شک اُس کی مرضی کے بغیر نہ کوئی کسی کو جِلا سکتا ہے اور نا ہی کسی کومار سکتا ہے۔

میدان میں موجود ہزاروں ہاتھوں کی ہتھیلیاں ایک دوسرے سے ٹکرائیں اور تالیوں کی گونج میں انسانی خدمت اور فرض شناسی کے اِس باکمال مظاہرے کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا، کسی کو یہ فکر نہیں تھی کہ بارہ بجنے میں اب بھی وقت ہے اور اب تو تقریب ہونی چاہئے کیونکہ آہ وبکا کو قریب سے سننے اور درد کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد سب کا جی چاہ رہا تھا کہ آج اُن کی نگاہوں کے سامنے آتش بازی کے بجائے فائر فائٹرز ہی موجود رہیں تاکہ وہ فرض سے وفا کرنے والوں کا دیدار کر کے دنیا کے سامنے نازاں ہوں کہ ہم نے انسانوں کو بچانے والے ایسے انسان بھی دیکھے ہیںجو اپنی جان کی پروا کئے بغیر آگ میں کود پڑے تھے…مگر ایسا نہ ہوا…خوشیاں منانے والوں کو خوشیاں کیسے نہ ملتیں… اب تو دوہری خوشی کا موقع تھا…سونے پر سہاگا کی مثال صادق آنے کی گھڑیاں تھیں اور یوں متحدہ عرب امارات کی گھڑیوں نے جیسے ہی 12بجے کی سوئیوں کو وصال کے لمحات دیے بُرج خلیفہ سمیت مقررہ تمام مقامات آسمان پر رنگوں کے حسین ہالے بن کر ہر ایک آنکھ کو خیرہ کر گئے، دنیا کی دوسری سب سے بڑی عمارت جو کچھ دیر پہلے بجھ گئی تھی، اب آگ کے بجھنے کے بعد پھر سے روشن ہوگئیِ کھلکھلانے لگی اور رنگوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کرتے ہوئے مسکرانے لگی، مسرتوں کی گدگدی نے ہر ایک چہرے پر تبسم کی سواری کو آراستہ کر کے یوں گزارا کہ جیسے آج کی شب یہ رہگزر صرف اِسی کے لئے مخصوص تھی…

سب خوش تھے مگر عربی لباس میں ایک نوجوان سب کی خوشیاں دیکھ کر خوش تھا …وہ آہستہ آہستہ لوگوں کے درمیان آنے لگا، اُس کے ساتھ پولیس کے چار اہلکاروں کے سوا کوئی اور نہیں تھا، کوئی اُس کے لئے راستہ نہیں بنا رہا تھا، کوئی کسی کو اُس کےسامنے سے نہیں ہٹا رہا تھا کہ اچانک کسی نے پہچان لیا اور عربی میں صدا لگائی ’’ ارے لوگو! ہمارے درمیان شیخ محمد بن راشد المکتوم کے صاحبزادے شیخ منصور بن محمود موجود ہیں.‘‘…کیا؟ نہیں؟ واقعی؟ اور یہ آوازیں چاروں طرف سے آنے لگیں، منصور کا ہاتھ جھلسا ہوا تھا، چہرہ آگ بجھانے کی کوششوں کے سبب گرد سے اٹا ہوا تھا، لباس سے عود وعنبر کے بجائے راکھ کی بو آ رہی تھی لیکن چہرے پر بلا کا اطمینان تھا…وہ کچھ دِن پہلے ہی اپنے بھائی کو کھو چکا تھا اور شاید اِسی لئے نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اور بھی اپنا بھائی کھوئے، خراماں خراماں چلتے ہوئے وہ باہر کی سمت جانے لگا تو کسی نے پوچھا ’’ آپ یہاں کیسے؟‘‘ اور ساتھ ہی کسی چاہنے والے نے لقمہ دیا’’ اگر آپ کو کچھ ہوجاتا، آپ کو کیا ضرورت تھی کہ آپ فائر فائٹرز کے ساتھ مل کر آگ بجھاتےـ‘‘…

شیخ محمد بن راشد المکتوم یعنی دبئی کے فرماں رواں، حاکم اور متحدہ عرب امارات کے نائب امیر کے صاحبزادے نے مسکرا کے کہا ’’آگ میرے گھر میں لگی تھی اور اُسے بجھایا بھی کسی غیر نے نہیں بلکہ گھر والے ہی نے اپنا فرض ادا کیا ہے، کیا یہ جو فائر فائٹرز آگ بجھا رہے تھے یہ غیر تھے؟ اِنکا اپنا کوئی اِن کا انتظار نہیں کر رہا تھا؟ کیا یہ نیا سال اِن کے لئے نہیں تھا؟ یقیناً تھا اور اِنہوں نے بھی نیا سال منایا ہے، آپ قانون کے سائے میں پرسکون ہوکر آتش بازی دیکھتے ہوئے نیا سال منا رہے ہیں اور ہم نے ناگہانی آگ کو بجھا کر نیا سال منایا ہے …اب میں چلتا ہوں کیونکہ میرے والد کو معلوم ہے کہ میں یہاں پر ہوں اور وہ میرا انتظار کر رہے ہیں‘‘…شیخ منصور تو چلا گیا لیکن سوچتا ہوں کہ پاکستان میں’’جمہوری بادشاہوں‘‘ کے گھر کب کوئی منصور پیدا ہوگا…؟؟
------------------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.