.

ایرانی جارحیت ... اور ناممکنہ سیاسی اعتدال

ترکی الدخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی سفارت خانے پر ایرانی حملے کے حوالے سے مضبوط، واضح اور بالغ نظری پر مبنی بین الاقوامی نقطہ ہائے نظر سامنے آئے۔ اللہ بھلا کرے ان آزمائشوں کا، جن کے ذریعے ہم نے اپنے مخلص دوستوں کو جان لیا۔ اور سب ہی نے ایران کا بھیانک چہرہ پہچان لیا جسے وہ قیمتی قالینوں،نرم خو بیانات اور جھوٹے وعدوں سے ڈھانپتا چلا آرہا تھا۔

جب سے ایرانی نیوکلیئر پروگرام سے متعلق معاہدہ طے پایا، اور جب سے ایران اور مغرب کے درمیان تعلقات کشادہ ہوئے تب سے ایران کی ملیشیاؤں کی وجہ سے خطے کو شورشوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سعودی عرب نے کوشش کی کہ ایران کو بغاوت بھڑکانے اور خلیجی اور عرب امور میں کھلی اور اندھی مداخلت سے قابو میں رکھے۔

سعودی عرب نے 90ء کی دہائی کے اواخر سے اپنا ہاتھ بڑھا رکھا ہے، الخبر دھماکوں میں ایرانی سپورٹ کے باوجود اپنے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی منظرنامے میں داخل ہونے کی خواہش رکھی۔ رفیق الحریری کے مطابق مرحوم شاہ فہد بن عبدالعزیز کہا کرتے تھے کہ "ایران سے خطے کو نقصان پہنچتا ہے، مگر ہم اس دن کے لیے کوشاں ہیں جب ہمارے درمیان ہمسائیگی اور مفاہمت ہوگی" اور یقینا محمد خاتمی کی صدارت کے دنوں میں یہ خواب حقیقت کے قریب آگیا، تاہم جلد ہی معاہدے کا شیرازہ بکھر گیا اس طرح کہ فطرت ہم آہنگی پر غالب آگئی۔

ایران کسی بھی عرب اور اسلامی اتحاد کا حصہ نہیں بنا، بلکہ اس کے برعکس اس نوعیت کے اتحاد کا مقابلہ کیا اور ان کو کمزور کرنے اور ناکام بنانے کی کوشش میں لگا رہا۔ عراق اور شام میں داعش پر کو نشانہ بنانے کے لیے جو بین الاقوامی اتحاد قائم ہوا، ایران اس کا حصہ نہیں بنا۔ اسی طرح اسلامی عسکری اتحاد جس کا اعلان نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کیا۔ پس یا تو یہ (ایران) اکیلا کھلاڑی ہوتا ہے اور یا پھر بگاڑ کا مرکزی اور اکلوتا کردار۔

عراق میں چالیس سے زیادہ ملیشیاؤں کو ایران سپورٹ کررہا ہے۔ لبنان، یمن اور شام میں بھی اس کی ملیشیائیں ہیں۔ ان سب کا انتظام ایران میں بند کمروں سے پاسداران ِ انقلاب کے ہاتھوں چلایا جاتا ہے۔

دو طرح کے انداز گفتگو کے درمیان ... (دھیمی سفارتی گفتگو) وزیر خارجہ ظریف کی مسکراہٹ کے ساتھ، اور (انقلابی گفتگو) جس کی نمائندگی سلیمانی اور اس کے جرائم پیشہ پیروکار کرتے ہیں۔ تاہم ایران کی تصویر اس کے انقلابی عمل اور گفتگو میں زیادہ واضح طور پر جھلکتی ہے اور جو اس کی پالیسی کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔

اگر ہم خامنئی کے بیانات اور دیگر خطابات کا موازنہ کریں تو مواد کے لحاظ سے ہم انہیں ہمیشہ پاسداران انقلاب کے خطابات کے قریب پائیں گے۔ جہاں تک ظریف کے بیانات کی بات ہے تو وہ سفارت کاری کے زیادہ قریب ہیں۔ اور جن معاملات کو بھی وہ دھیمے انداز سے زیر بحث لاتے ہیں، ان کے حل کے لیے وہ پیش رفت کو سست کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا دورانیہ بھی بڑھا دیتے ہیں۔

ایران ایک جارح ہے، اور وہ واضح عوامی زبان میں یہ کہتا ہے کہ مجھے کھلاؤ ورنہ میں سب خراب کردوں گا، تاہم وہ معتدل راستے پر نہیں رہنا چاہتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
العربیہ کے جنرل منیجر ترکی الدخیل کا یہ کالم عرب روزنامہ 'عکاظ' میں شائع ہوا، جسے عبدالرحمن صدیقی نے عربی سے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.