.

شاہ عبدالعزیز اور ایران

مشاری الذايدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب کے حالات اور سعودیوں کے امور کے حوالے سے " ناواقفیت" میں حقیقی طور پر مشکل درپیش ہے۔ یہ ناواقفیت مغربی میڈیا کی بہت سی شخصیات اور یہاں تک کہ خود عربوں میں بھی پائی جاتی ہے۔

ہم اس کو ناواقفیت کا ہی نام دیں گے کیوں کہ ہم جان بوجھ کر "ناواقف بننے" کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے، اس لیے کہ آخر الذکر میں دشمنی پر مبنی بری نیت کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔

دہشت گردوں کے ایک گروپ کو سزائے موت دینے کے سعودی عدلیہ کے فیصلے پر عمل درامد کے حوالے سے مختلف رد عمل سامنے آرہے ہیں۔ اس گروپ میں تمام لوگ القاعدہ تنظیم کے "سنی" ارکان ہیں سوائے ان 4 افراد کے، جن میں ایک پگڑی باندھتا ہے اور وہ ہے #نمر باقرالنمر۔

برطانوی صحافت یا اس کی اکثریت نے ایرانی قانون کی نغمہ سرائی سے دل پھیر لیا، جیسے "بی بی سی" اور "انڈیپینڈنٹ" وغیرہ اور بعض امریکی اخباروں نے بھی، ساری توجہ نمر کی سزائے موت پر مرکوز کردی، صرف نمر، اور اس کو اس لیے موت کے گھاٹ اتارا گیا کیوں کہ وہ "مخالف رائے رکھنے والا ایک شیعہ شیخ" ہے۔

یہ تو میڈیا کی دشمنانہ کارروائی ہے، تاہم مضحکہ خیز چیز سعودی عرب کی تاریخ اور حالات سے متعلق "رائے دہی" ہے۔ مثلا آپ کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو کہیں گے کہ آل سعود صرف شاہ عبدالعزیز کا خاندان ہے اور وہ صرف اب حکمراں ہیں۔ یہ لوگ جزیرہ عرب کی قیادت کی تین صدیوں پر پھیلی اس تاریخ سے ناواقف ہیں جو قلیل وسائل کے ساتھ دشوار ترین حالات پر مشتمل ہے۔

اسی طرح لوگ شیعوں کے بارے میں بھی نادان طریقے سے بات کرتے ہیں اور سعودی عرب کی ترقی میں شیعہ ہم وطنوں کے کردار کے بارے میں نہیں جانتے۔ انجینئر نظمی النصر ارامکو کمپنی میں جو کہ سعودی معیشت کا ستون ہے، نگراں انتظامیہ کے قائدین میں سے ہیں۔ ان کے علاوہ القطیف، الاحساء اور نجران شہر سے تعلق رکھنے والے درجنوں کاروباری حضرات، تاجر، انجینئر اور اساتذہ یہ سب اپنی مثال آپ ہی تو ہیں۔

مدینہ منورہ کے ذکر کے حوالے سے ایک پرانا اور شان دار قصہ ہے۔ یہ قصہ شہر کی ایک دانش ور شخصیت حمزہ غوث کے ایران میں بطور اولین سعودی سفیر تقرر کے بارے میں ہے۔ انہوں نے 1947 سے 1964 تک سفیر کے فرائض سرانجام دیے، اور ان کے ایرانی حلقوں بالخصوص اہم مذہبی شخصیت آیت اللہ بروجردی کے ساتھ شان دار تعلقات تھے۔ حمزة غوث کے بیٹے خالد غوث نے اس واقعے کی تفصیلات اپنے والد کی زبانی بیان کی ہیں، جن کو روزنامہ "الریاض" نے بھی شائع کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:

«میں شاہ عبدالعزیز رحمت اللہ علیہ کے ساتھ اس طیارے کے پہلے سفر میں تھا جو ان کو امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ نے بطور تحفہ دیا تھا۔ انہوں نے مجھے طیارے کے اگلے حصے میں اپنے پاس بلایا جہاں وہ دوران سفر بیٹھا کرتے تھے، اور کہا کہ میں نے تم کو ایران میں سفیر مقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، تمہارا کیا خیال ہے؟ اور پھر فورا ہی بولے کہ : تم جانتے ہو کہ ان واقعات کے بعد (جن سے تم باخبر ہو) ہمارا ایران کے ساتھ تعلق منقطع ہے، اور اب جنگ کے خاتمے کے بعد یہ سب کے مفاد میں ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان تعلقات بحال ہوجائیں، تو تم کیا کہتے ہو؟

تو میں نے ان کو جواب دیا : یقینا ہر حال میں حکم (کی اطاعت) اللہ کے لیے ہے، اور اس کے بعد پھر آپ کے لیے».

شیعوں یا ایران کے ساتھ سعودی عرب کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، البتہ فقط "خمینی نظام" کے ساتھ محدود سیاسی مسئلہ ضرور ہے۔
جی ہاں، شیعوں کے خلاف غلو کرنے والے سعودی گروہ پائے جاتے ہیں، تاہم وہ ریاست کے سرکاری طرز کی نمائندگی نہیں کرتے۔

(بشکریہ روزنامہ الشرق الاوسط)

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.