.

کیا اب شاہ سلمان کو آنا پڑے گا؟

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماشااللہ! ہماری اکڑفوں دیکھنے کے لائق ہے۔مگر ہم ٹالبوٹ کی ایک دھمکی برداشت نہیں کر سکے تھے، اس امریکی اہل کار نے آدھی رات کو سوتے سے مشرف کو جگا کر پوچھا تھا کہ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے دشمنوں کے ساتھ کھڑے ہیں؟

مشرف نے ایک فیصلہ کیا، چشم زدن میں کیا، مشرف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا مگر مشرف چلے گئے اور اس بلے کے خون کے پیاسے زرداری نے ا س کے کئے گئے فیصلے پر سو فیصد عمل کیا، اور اب نواز شریف بھی ہو بہواسی پالیسی پر گامزن۔امریکی دھمکی پر صرف پاکستان نے ہی نہیں، ساری دنیا نے فرمانبرداری کا ثبوت دیا تھا۔

نائن الیون کے بعد بھارت نے امریکہ کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کر ادی تھی، اسی طرح بھارت آج بھی سعودی عرب کے لئے جان حاضر کر دے تو مجھے کوئی اندازہ نہیں کہ ہمارا رد عمل کیا ہو گا۔ کیا ہم یہ برداشت کر پائیں گے۔

پیپلز پارٹی کے لیڈر باتیں بہت بناتے ہیں، بڑھ بڑھ کر بناتے ہیں۔وہ بھٹو کی روح سے پوچھیں کہ اسے شاہ فیصل کی ضرورت پڑی تھی تو کیا وہ کشاں کشاں اسلامک سمٹ میں نہیں چلے آئے تھے اور کیا ہمارے سرکاری ٹی وی نے اس عظیم فرمانروا کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو نہیں دکھائے تھے جو اس نے کشمیر کی غلامی کے ذکر پر لاہور کی بادشاہی مسجد کے صحن میں بہائے تھے۔

ہم کہتے ہیں کہ ہم غیر جانبدار ہیں مگر دہشت گردی کی جنگ میں ہم غیر جانبدار نہیں ہیں۔ہم امریکی احکامات کو بلا چون و چراں مانتے ہیں اور اب تو چین کے احکامات کی بھی پیروی کرتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اس کے سنکیانگ میں کوئی دہشت گرد شمالی وزیرستان سے نہ جائے ، ہم نے ان غیر ملکی دہشت گردوں کی خوب دھلائی کی ہے۔ چین تو پھر ایک سپر طاقت ہے، ہم تو بھارت کی گیدڑ بھبکیوں سے بھی خائف ہو کر کہتے ہیں کہ پاکستان کی سر زمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ مگر ہم بھارت کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنی سر زمین پر دہشت گردوں کی سرکاری سطح پر تربیت کر کے پاکستان میں داخل نہ کرے، ہم چین سے بھی نہیں کہہ سکتے کہ سنکیانگ کے لوگوں کو شمالی وزیرستان تک آنے سے روکتے کیوں نہیں۔ہم تو افغانستان کے سامنے گھگھیا رہے ہیں، اشرف غنی کی دھمکیوں پر ہم سو سو وضاحتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

سعودی عرب سوچتا تو ہوگا کہ اس نے پاکستان پر جو احسانات کئے، اس کے لیڈروں کے چونچلے برداشت کئے اور اس کے مولویوں کو کھلا کھلا کر کپا بنا دیا تو اس نے کیا ثواب کمایا۔ وہ تو بالکل نہیں بولتے جو پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے ہیں اور جو پارلیمنٹ سے باہر ہیں، ان طوطیوں کی نقار خانے میں سنتا کوئی نہیں۔

اور یہ بھی سعودی عرب کا حوصلہ ہے کہ اسے اچھی طرح علم ہے کہ پاکستان سے خیر کی توقع نہیں مگر وہ پھر بھی بھاگم بھاگ اسلام آباد ہی آ رہا ہے۔ اور یہاں یہ سماں ہے کہ ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار، یا الہی یہ ماجرا کیا ہے۔

اس وقت سعودی وزیر دفاع اور نائب ولی عہد پاکستان میں موجود ہیں۔ وہ اپنے ملک میں اپنے والد کے بعد طاقتور ترین شخصیت ہیں۔انہوں نے یمن کی جنگ لڑنے کے لئے چودہ رکنی اتحاد بنایا اور اب ایک وسیع تراتحاد کا اعلان کر دیا ہے، پہلا اتحاد بنا تو سعودی ترجمان کے عقب میں پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ ہم نے اعتراض کیا کہ جب ہم اس اتحاد میں شامل ہی نہیں تو ہمارا جھنڈا کیوں استعمال کیا گیا، اب نئے اتحاد میں اعلان کے مطابق تو پاکستان شامل ہے اور پاکستان کی حالت یہ ہے کہ نہ یہ اتحاد نگلا جا رہا ہے، نہ اگلا جا رہا ہے۔ پاکستان میں جو بولتا ہے وہ اتحاد میں شمولیت کی مخالفت کرتا ہے، اور ثالثی کروانے کی پیش کرتا ہے جبکہ کسی نے اس چودھری ملک کو ثالث بننے کی دعوت دی نہیں اور زمینی صورت حال یہ ہے کہ ہماری بات پر کوئی کان دھرنے کے لئے تیار ہی نہیں مگر ہم سعودی عرب وعجم کے حکمرانوں کو اپنے گھٹنوں میں بٹھانے کے خواب دیکھتے ہیں۔

وہ جو اکڑتے پھرتے ہیں، میں ان سے نہیں کہتا کہ وہ اکڑ فوں نہ دکھائیں لیکن ان سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ امریکہ کے سامنے بھی اکڑفوں دکھا سکیں، چین کے سامنے بھی سینہ تان کر دکھائیں، چلیئے یہ بڑی بات ہے اور ان کی حیثیت سے باہر ہے اور نا قابل عمل ہے تو پھر بھارت یا افغانستان کے سامنے ہی اکڑ فوں دکھائیں تو میں انہیں سورما مانوں، ان کی غیر جانبدارانہ جانبداری کو سلام کروں۔کیا پدی کیا پدی کا شوربہ۔ سعودی عرب کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگراس کی آزمائش میں پاکستان کی فطرت تو عیاں ہو گئی۔ بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'
--------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.