.

حزب اللہ: دور جدید کے فارس کا ہاتھی

ترکی الدخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کا 'دی اکانومسٹ' کو دیا جانے والا انٹرویو ابھی تک متنازع بنا کر اس پر تبصروں کا ردا چڑھایا جا رہا ہے۔ اس انٹرویو میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا تھا کہ 'سعودی عرب کو جنگ کے محاذ کھولنے کی کوئی چاہ نہیں۔'

مصالحت کے معاملے میں ریاض نے ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ ہمسایوں اور بھائیوں کے درمیان صلح کے سمٹ اور اس ضمن میں اٹھائے جانے والے اقدامات انگلیوں پر گننا آسان نہیں ہو گا۔

آپ جنگ پر آمادہ شخص سے کیوں کر دوستی کر سکتے ہیں۔ بے جا مداخلت اور خرابی پیدا کرنے کے خواہش مندوں کے ساتھ کیسا اتفاق رائے۔ ایران کی یہ گہری دشمنی مسلسل جاری و ساری ہے۔

ایران میں ہونے والے ہر صدارتی انتخاب کے موقع پر ہمارے دلوں میں یہ خیال جاں گزیں ہوتا ہے کہ ایوان اقتدار میں آنے والے صدر کے دل میں سازش کے بجائے مذاکرات کا خیال غالب آ جائے، اور وہ پردہ پوشی کے بجائے کھلی سیاست کے قائل ہوں۔ وہ ملیشیاؤں کے ذریعے جنگ کی بات کرنے کے بجائے امن کے پرچارک ہوں۔ تاہم ہماری خواہشات کے علی الرغم صدارت کی کرسی پر باریاں لینے والوں کا طریقہ کار نہیں بدلتا۔

فارسی تفاخر کو مالیخولیا کی بیماری لاحق ہے۔ وہ ابھی تک اسلام کو خیمنی انداز میں اپنانے کا قائل ہے۔ پندرہ ہجری بمطابق 636ء کو ہونے والی جنگ قادسیہ سے لیکر آج تک اہل فارس عرب مسلمانوں کو ساسانی ایمپائر کا غلام بنانا چاہتے ہیں۔

اوائل فارس نے قادسیہ کی لڑائی میں ہاتھیوں کی طاقت پر تکیہ کیا اور اب جدید اہالیاں فارس یا بالفاظ دیگر ایرانی ملاؤں کے ہاں ہاتھیوں کی جگہ ملیشیاؤں اور تہران کی وفاداری کا دم بھرنے والی جماعتوں نے لے لی ہے!

ایران کا سیاسی چلن مشکل اور غرور، بالادستی،، اور دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت سے عبارت رہا ہے۔ درایں اثنا لبنان اور عراق میں ایران کی اندھی مداخلت کامیاب رہی تو دوسری جانب بحرین اور یمن میں بری طرح ناکامی سے دوچار رہی اور نہ ہی یہ شام میں اپنی مطلق العنانیت یقینی بنا سکی۔

اب گنید، ایران کے کورٹ میں ہے کیونکہ تہران نے سفارتی مشنوں کو نذر آتش کیا اور اب خلیجی ملکوں میں مداخلت کر رہا ہے۔ ایران کو یا تو ملشیاؤں کے ذریعے انقلاب کا راستہ ترک کر کے سیاست، سفارتکاری اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں بات کرنا ہو گی۔ بصورت دیگر ایسے اقدامات ایران کی سفارتی ساکھ کو آگ لگاتے رہیں گے اور ایسے لگی آگ کو نیوکلیئر معاہدے کے ذریعے بجھایا نہیں جا سکتا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.