.

روس، شام میں امریکا کا سہارا لے رہا ہے

کک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دستیاب اور بڑی حد تک مصدقہ اطلاعات کے مطابق، بشار الاسد نے اپنے معاونین کے ایک گروپ کو یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ گزشتہ نومبر میں ویانا میں ہونے والے اجلاس کے جاری کردہ بیان (اعلامیہ) سے متعلق رپورٹ تیار کریں۔ اس کا مقصد رواں ماہ کے آخر میں متوقع، جنیوا میں مذاکرات کے اگلے دور میں اپوزیشن کے وفد کا مقابلہ کرنا ہے۔

اسد کے گروپ نے ویانا اعلامیے کے نکات کی تردید کرتے ہوئے اعلامیے کی ایسی تشریح تیار کی جو حکومتی نظام کے مفاد میں اور بشار کے اقتدار میں رہنے کی خواہش کے گرد کار فرما تھی۔ گروپ نے اس حقیقت کو بھی نظر انداز کردیا کہ ویانا اعلامیے میں 2012 میں جاری ہونے والے جنیوا اعلامیے پر اعتماد کیا گیا، جس میں عبوری مرحلے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ عبوری مرحلے سے مراد ہے کہ ایک نئی اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے جس کے پاس مکمل اختیارات ہوں۔ عبوری مرحلے کے دوران یہ اتھارٹی صدر کی جگہ قائم مقام ہوگی، صدر کو ایک سے ڈیڑھ سال کے دوران یعنی 2017 کی پہلی سہ ماہی تک اپنے لیے ایسی جگہ تلاش کرنا ہوگی جہاں وہ پناہ لے سکے۔

اس گروپ کے ارکان بشار الاسد کے نقطہ نظر کے لیے لازمی حمایت طلب کرنے ماسکو گئے تاہم روس کا جواب تھا کہ ویانا اعلامیے میں کسی قسم کی ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور روسی صدر نے بھی اسی موقف کی تائید کر دی۔

شامی حکومتی وفد کے دورہ ماسکو کے ساتھ ہی واشنگٹن کی جانب سے ایک روڈ میپ منظر عام پر آ گیا جس کا اختتام مارچ 2017 میں بشار الاسد کے اقتدار چھوڑ دینے پر ہوتا ہے۔ ویانا اعلامیے پر امریکا اور روس کے درمیان موافقت پائی جاتی ہے، اور بشار الاسد کا جن کی حکومت ماضی کا حصہ بن چکی ہے اب کوئی مستقبل نہیں۔ حکومت کے سربراہ کو چاہیے کہ وہ کوچ کے مرحلے کے لیے خود کو تیار کرلیں، وہ بھی اس وقت جب انہیں استقبال اور میزبانی کے لیے کوئی جگہ مل جائے۔

اس طرح کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ شامی حکومت کے ارکان جن میں بشار الاسد سرفہرست ہیں، امریکی روڈ میپ کے سامنے آنے کے بعد ناامید ہوچکے ہیں۔ روس اور ایران کی جانب سے شامی حکومت کو حاصل سپورٹ سے قطع نظر، بشار الاسد کے کوچ کا وقت مارچ 2017 سے پہلے کسی وقت بھی آ سکتا ہے۔

بہت سے عوامل ہیں جنہوں نے بالآخر ماسکو کو قائل کردیا کہ بشار الاسد کے اقتدار میں رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان عوامل میں یہ انکشاف بھی ہے کہ روس نے شام میں انقلابیوں پر (داعش پر نہیں) جو فضائی حملے کیے ان سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ شامی حکومت کے پاس ایسی افواج کا وجود نہیں جو روسی بمباری کے بعد انقلابیوں کی جانب سے خالی کیے جانے والے علاقوں کی جانب پیش قدمی کرسکیں۔

اسی وجہ سے بڑے پیمانے پر، بالخصوص دمشق میں شامی نوجوانوں کی بزور طاقت بھرتیوں کے لیے ہسٹیریائی انداز سے اندھادھند مہمات کا سلسلہ جاری ہے۔ ان نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں کی تربیت کے بعد براہ راست لڑائی کے مشکل ترین محاذوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔

روس اس بات سے آگاہ ہے کہ اسے شام سے نکلنے کا راستہ تلاش کرلینا ہے، اور طویل میعاد میں شامی حکومت بچانے کی کوئی امید نہیں ہے۔ آخر میں روس جو چاہتا ہے وہ یہ کہ خلیجی ملکوں یہاں تک کہ ایران کو بھی اس چیز سے روک دیا جائے کہ یہ ممالک یورپ کو گیس کی فراہمی کے لیے شام کی سرزمین استعمال کریں اور روس کی گیس کے مقابلے پر آ جائیں۔

ایک اور بہت اہم عامل ہے جس نے ولادیمر پوتن کو اپنے شامی کھاتوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کردیا۔ اس کا تعلق تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی سے ہے۔ سعودی عرب جیسے اہم کھلاڑی کے تعاون کے بغیر تیل کی منڈی میں زیادہ عرصہ چلنا روسی معیشت کے بس میں نہیں ہے۔ سعودی عرب کی اقتصادی صورت حال کے بارے میں جو کچھ بھی کہا جا رہا ہے، اس سب کے باوجود مملکت نے انتہائی نوعیت کے احتیاطی اقدامات کرلیے ہیں تاکہ کئی سالوں تک تیل اور گیس کی قیمتوں کے ساتھ معرکہ آرائی میں کامیاب ہوکر عالمی منڈی میں اپنے حصے کی حفاظت کرسکے۔ بالخصوص ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے اٹھائے جانے کے امکان کی روشنی میں جب وہ پوری طاقت کے ساتھ اس منڈی کی طرف لوٹے گا۔

واضح بات ہے کہ روس پر شامی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے عمومی عرب موقف کی رعایت رکھنا ہوگی۔ اس حوالے سے سعودی عرب اپنے مضبوط موقف سے خائف نہیں اور اس کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کو جانا ہوگا خواہ احسن طریقے سے یا پھر طاقت کے زور پر۔

اس کے ساتھ ساتھ روس پر یہ بات بھی آشکار ہوگئی ہے کہ وہ شامی حکومت کے صدر سے خلاصی حاصل کرنے پر پوری طرح مصمم ترکی کے موقف کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتا۔ قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ ماسکو اور انقرہ کے درمیان کشیدگی بڑی حد تک کم ہوگئی ہے۔ یہ کشیدگی ترکی کی فضائیہ کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ایک روسی لڑاکا طیارے کو مار گرانے کے نتیجے میں انتہا پر پہنچ گئی تھی۔

روس کے مفاد میں نہیں کہ وہ اپن ہر انڈا ایرانی ٹوکری میں رکھے۔ ماسکو حکومت کے بعض ایسے خاص مفادات ہیں جو اس کو عرب دنیا کے ساتھ رسہ کشی سے رک جانے پر مجبور کرتے ہیں، بالخصوص ایران اور حزب اللہ کی نوعیت کے اس کے مسلکی آلہ کاروں کی پردہ دری کے بعد جن کو وہ خطے میں اپنے توسیعی عزائم پورے کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

جہاں تک ماسکو کی بات ہے، تو واشنگٹن کے ساتھ تعاون ہی باہر نکلنے کا واحد راستہ نظر آتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ امریکی انتظامیہ باہر نکلنے کا راستہ دینے پر تیار ہے مگر اس کو کسی چیز کی جلدی نہیں ہے۔

باراک اوباما کے دور میں اب مشرق وسطیٰ امریکا کی اولین ترجیح نہیں رہا۔ شام ٹوٹ جانے کی راہ تک رہا ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ اس میں مزید دو یا تین سال کا عرصہ لگ جائے۔ تب تک روس کے ساتھ تعاون کے سائے میں اسرائیل کا امن بھی محفوظ ہے اور اس تعاون سے ایران بھی زیادہ دور نظر نہیں آرہا۔

شامی بحران سے قریب یا دور کا تعلق رکھنے والا ہر متعلقہ فریق اپنے مفادات کی تلاش میں ہے، اس میں روس بھی شامل ہے۔ واحد غائب فریق وہ ہے شامی عوام جو اس وقت تمام تر ظلم کی قیمت ادا کررہے ہیں جس کا ان کو 1958 سے سامنا ہے۔ اس سال مصر کے ساتھ متحدہ عرب جمہوریہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کے بعد مارچ 1963 کا انقلاب آیا جس نے اجارہ داری کے ساتھ 1970 میں حافظ الاسد کے اقتدار تک پہنچنے کی راہ ہموار کی۔

بنیادی طور پر یہ سب کچھ علوی اقلیت کی حکومت کے قیام کی تیاری کے سلسلے میں تھا۔ تاہم اثر اندازی کے لحاظ سے یہ ایسا نظام تھا جس نے عرب ازم اور مزاحمت کے نعروں میں خود کو ڈھانپ رکھا تھا تاکہ نظام کو درپیش جرائم پر پردہ ڈالا جا سکے، اور ابھی تک عوام کو پوری طرح ان جرائم کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے۔
--------------------------------------------------------------
روزنامہ 'العرب' میں شائع ہونے والے اس کالم کو عبدالرحمان صدیقی نے عربی سے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.