.

ایران کشتی ڈرامہ سے امریکہ اور دنیا کو کیا بتانا چاہتا ہے؟

ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے امریکی بحریہ کی دو کشتیوں کو دس فوجیوں سمیت پکڑ لیا مگر 24 گھنٹے کے اندر فوجیوں کو رہا بھی کر دیا۔ چند ہفتے قبل ایران نے امریکی بحری جہازوں کے قریب راکٹ اور بیلسٹک میزائل فائر کر کے اشتعال انگیزی کی کوشش کی تھی۔ اب امریکی حکومت فوجیوں کو رہا کردینے پر ایران کو ہیرو بنا کر پیش کر رہی ہے۔ وزیر خارجہ جان کیری نے اس معاملے کو جلد حل کرنے میں تعاون کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا اور ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران کے تبدیل شدہ رویے اور کشتیوں کے مسئلے کے جلد حل ہو نے کی وجہ یہ معاہدہ ہے۔

اس وقت اوباما انتظامیہ کا کانگریس پر اثرورسوخ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ وہ چند دنوں کے اندر ایران پر سے پابندیا ں اٹھا لینے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ اوباما انتظامیہ کانگریس سے یہ کہ سکتی ہے کہ اگر ایٹمی معاہدہ نہ ہوتا تو ایران امریکی فوجیوں کہ نہیں چھوڑتا۔

جنگی کشتی پکڑنے کا ڈرامہ ایران میں سخت گیر اور اعتدال پسند دونوں قسم کے لیڈروں، اور اوباما انتظامیہ کے لیے یکساں طور پر کامیابی کا منظر پیش کرتا ہے۔ اس ڈرامے کے ذریعے ایران کو عالمی برادری کے سامنے ایک معقول ملک کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، اور ان خطرناک مسائل سے دنیا کی توجہ ہٹائی جارہی ہے جو ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد ملتوی کرنے کی وجہ تھے۔

مثلاً ایران کے حالیہ بیلسٹک میزائیلوں کے تجربات نے ایٹمی معاہدے آڑ میں تہران کے خطرناک عزائم کے بارے میں امریکی کانگریس کے اندر گہرے شکوک و شبہات پیدا کردئے ہیں۔ ایٹمی معاہدے کے بعد صدر روحانی نے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ہنگامی بنیادوں پر توسیع کرنے حکم دیا اور ایرانی پاسداران انقلاب کور نے کئی مرتبہ میزائلوں کے تجربات کئے ہیں۔

کچھ ہفتے قبل ایران نے اشتعال انگیزی کرتے ہوئے کئی راکٹ فائر کئے جو آبنائے ہرمز میں لنگر انداز امریکی طیارہ بردار جہاز ہیری ایس ٹرومین کے قریب گرے۔ امریکی بحریہ کے ترجمان کیون سٹیفنز نے اس حرکت کو خطرناک، غیر پیشہ ورانہ اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ ایران کی جیلوں میں قید ایرانی نژاد امریکی شہریوں کے معاملات بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں اور واشنگٹن پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کو وہ پابندیاں اٹھائے جانے سے قبل ان کو رہا کرنے کے لئے تہران پر دباؤ ڈالے۔

سخت گیر عناصر

ایران کے سخت گیر عناصر اس بات پر تشویش میں مبتلا ہیں کہ ایٹمی معاہدہ اور امریکہ سے بڑھتے ہوئے تعلاقات نوجوان نسل کو غلط پیغام دیتے ہیں۔ تہران کے حالیہ اقدامات بالخصوص امریکی جنگی کشتیوں کو پکڑنے اور چھوڑنے کا بنیادی مقصد نئی نسل کو یہ یقین دلانا ہے کہ معاملات پر ان کا ہی کنٹرول ہے اور ایٹمی معاہدے کی وجہ سے ایران میں امریکی کلچر کا نفوذ نہیں ہو رہا ہے۔ ایران کو تنہا رکھنے سے سخت گیر عناصر کے لئے تہران پر کنٹرول برقرار رکھنا آسان ہوتا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا پر ایک ویڈیو دکھائی جارہی ہے جس میں گرفتار ہونے والے ایک امریکی بحری فوجی کو ایران سے معافی مانگتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کا مقصد نوجوان نسل کو یہ بتانا ہے کہ ایران ایٹمی معاہدے کی وجہ سے کمزور نہیں ہوا ہے۔

ایران پر سے پابندیاں اٹھانے کی راہ میں امریکہ کے اندر واحد رکاوٹ کانگریس ہے اوباما نہیں۔ ایران کی جانب سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیلسٹک میزائلوں کے حالیہ تجربات کرنے پر کانگریس ہی نئی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ امریکی بحریہ کے ایلکاروں کو گرفتار کر کے ایران کے سخت گیر عناصر نے کانگریس میں بیٹھے ایران کے مخالفین کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر انہوں نے تہران کے لئے مشکلات کھڑی کرنا بند نہ کیا تو وہ امریکی سلامتی اور علاقائی مفادات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

ایران کے اعتدال پسندوں اور اوباما انتظامیہ نے بھی اس معاملے کو سفارتکاری کی کامیابی ظاہر کر کے اپنے اپنے پوائنٹ اسکور کئے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کور نے امریکی بحری اہلکاروں کو رہا کرنے میں جلدی دکھائی کیونکہ ان کی نظریں پابندیاں اٹھنے کے بعد ایران کا رخ کرنے والے قیمتی ذر مبادلہ اور بیرونی سرمایہ کاری پر لگی ہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.