.

مضایا میں فاقہ کشی اور شام میں ایرانی منصوبہ

خيرالله خيرالله

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری تنازع پر مسلکی چھاپ لگانے کے حوالے سے ایران واضح ارادہ رکھتا ہے۔ باوجود اس کے کہ یہ ایسا تنازع ہے جس میں ایک طرف عوام ہیں جو اپنا وقار واپس حاصل کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں اور دوسری طرف حکومت ہے جو عوام کو غلام رکھنے کے لیے مصروف عمل ہے۔

اس پہلو سے دیکھا جائے تو مضایا کا محاصرہ اور لبنانی سرحد کے نزدیک واقع اس قصبے کے لوگوں کی فاقہ کشی (جن کی تعداد کا اندازہ تقریبا 40 ہزار ہے) باعث حیرت نہیں۔ یہ ایک ایسا محاصرہ ہے جو بے دخلی اور محاصرے کی ان کارروائیوں کے سیاق میں آتا ہے جن پر شامی حکومت اپنے قیام یعنی 1970 میں حافظ الاسد کے اقتدار حاصل کرنے کے وقت سے مسلسل عمل پیرا ہے۔

اب نئی پیش رفت وہ پہلو ہے جو مضایا کے محاصرے نے اختیار کرلیا ہے۔ یہ پہلو شام اور اس کے شہریوں کی مفلسی سے لے کر مضایا کی فاقہ کشی تک منتقلی میں نظر آتا ہے۔ نصف صدی کے دوران کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ پورے عرصے یہ ہی مطلوب تھا کہ تمام تر دستیاب وسائل کے ذریعے شامیوں کو محکوم رکھا جائے، جس میں اقلیتی حکومت کی خدمت کے لیے ان کو غلاموں میں بدل دینا شامل تھا۔

اسی مقصد کے لیے علویوں نے بڑے شہروں میں اپنے لیے مخصوص علاقوں کی آبادکاری کی۔ ان میں دمشق، حلب، حمص، حماہ کے علاوہ شامی ساحل کی پٹی شامل ہیں۔ علوی آبادی کی کثافت نہ ہونے کے باوجود بڑے شہروں میں ان کے لیے نئے نواحی علاقے مخصوص کیے گئے۔ ان علاقوں کا نظم ونسق ان شہروں کی مقامی چھاؤنیوں سے تعلق رکھنے والے فوجیوں اور افسروں کے حوالے کردیا گیا۔ جہاں تک ان پہاڑی دیہاتوں کی بات ہے جہاں سے آ کر علویوں نے شہر میں سیکورٹی اتھارٹی تشکیل دی، تو (علوی) فرقے کے بڑے سرمایہ کاروں نے ان دیہاتوں میں فوجیوں کی زمینوں کو خرید لیا۔

حافظ الاسد اقتدار پر اجارہ داری کے وقت سے ہی شام کے شہروں کی ماہیت تبدیل کرتا رہا اور یہ سب شہر کے باسیوں سے اس کی نفرت اور ان سے خبردار رہنے کے تحت کیا جاتا رہا۔ ہر شہر کے نواح میں دیہی علاقے بسائے گئے۔ حافظ الاسد بعث پارٹی کا پرانا رکن اور اقلیتوں کے اتحاد پر پختہ یقین رکھنے والا تھا۔ اس نے اپنے طریقے پر فوج کی تشکیل ِ نو کے ذریعے ایک ایک کرکے بڑے سنی افسران سے چھٹکارا حاصل کرلیا۔

پر امن مزاج کے حامل اہل دمشق تو فروتن ہوگئے جب کہ حلب، حمص اور حماہ کو طاقت کے زور پر تابع بنایا گیا۔ 1980 میں حلب میں عوامی بیداری کی ایک تحریک بھی اٹھی جس کے نتیجے میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 1982 میں حماہ میں بیداری کی لہر دوڑی تو شہر کے بیشتر علاقے ملیامیٹ کر دیے گئے، اور ان کے باسی بے گھر ہوگئے۔ اس بار ہلاکتوں کی تعداد بیس ہزار سے زیادہ رہی۔ سرکاری فوج کے ہاتھوں خاندان کے خاندان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ فوج کے سینئر افسران جن میں رفعت الاسد (بشار الاسد کا چچا) سر فہرست تھا، شہر اور اس میں بسنے والوں کے خلاف سفاکیت میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کررہے تھے۔ اور وہ بھی اس حجت کے ساتھ کہ یہ لڑائی "دہشت گردی کا سہارا لینے والی شدت پسند اسلامی جماعتوں" کے ساتھ ہو رہی ہے۔

جہاں تک حمص کا تعلق ہے تو وہ مسلسل دباؤ کا مقام تھا۔ حکومت کے لیے یہ چیز اہم تھی کہ وہاں سنیوں اور مسیحیوں کے بھی خلاف علوی وجود کو مضبوط بنایا جائے۔ یہ اقدام شہر کے اسٹریٹجک محل وقوع کے پیش نظر تھا جو دمشق اور شامی ساحل کو ملانے والے راستے پر ہے۔

حافظ الاسد کے زمانے میں بڑے شہروں کو سدھانے کا مقصد شامی شہری کو اس نعرے کا تابعدار بنانے کی تربیت دینا تھا جس سے اس کے ذہن میں یہ بات راسخ ہوجائے کہ شام، حکمراں خاندان کی ملکیت ہے۔ اور وہ نعرہ تھا "الاسد کا شام"۔ تاہم لبنانی "حزب اللہ" کی مشارکت سے محاصرے زدہ مضایا میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا مقصد "الاسد کا شام" نعرے کی ترویج نہیں ہے۔ آج جو ہورہا ہے وہ اس سیاق میں ہے کہ حزب اللہ کے زیر کنٹرول سھل البقاع کی لبنانی اراضی کی جانب راہ داری سے متصل، ایک چھوٹی علوی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اور یہ سب کچھ حزب اللہ کی جانب سے خود کو لبنانی ریاست اور لبنانیوں کے امور کا سرپرست بنالینے کے بعد ہو رہا ہے۔

خوف ناک پہلو یہ ہے کہ ساری دنیا جس میں امریکی انتظامیہ سرفہرست ہے، شام کے المیے کا تماشہ دیکھ رہی ہے۔ یہ انتہائی تکلیف دہ بات ہے کہ ان جرائم پر جن کا شام کے شہری روزانہ نشانہ بن رہے ہیں، کوئی بین الاقوامی ردعمل نہیں ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ شامیوں کی اپنی سرزمین سے بے دخلی اور مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر آبادی کے تبادلے میں روس اور ایران بھی شریک ہیں۔ ایران اور اس کے لبنانی اور غیرلبنانی ترجمانوں کا، مضایا کے محاصرے کو حلب کے نزدیک واقع شیعہ دیہاتوں الفوعہ اور کفریا کے محآصروں سے جوڑنے میں جلدی کرنا قابل توجہ امر ہے۔ ایران کا مقصد بے نقاب ہوچکا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب تک پورے شام پر کنٹرول حاصل کرنا ممکن نہیں، بالخصوص حکومت کے سقوط کی روشنی میں، ایسے میں شامی وجود کی تقسیم کے لیے ایک جراحی کا عمل کیا جائے اور یہ عمل بشار الاسد کے ہی زیرنگرانی ہو جو طویل عرصے سے کوئی بھی مؤثر فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھوچکے ہیں۔

یہ بات تو آسانی سے سمجھ جانے والی ہے کہ ایران ایسا کیوں چاہتا ہے اور "حزب اللہ" سمیت عراق اور دیگر ملکوں سے آنے والی ملیشیاؤں کے ذریعے اس چیز کو یقینی بنانے کی کوششیں کیوں کررہا ہے۔ دراصل ایران کا ایک توسیع پسندی کا منصوبہ ہے جو مسلکی خواہشات کو ابھارنے کی بنیاد پر ہے۔ تاہم ناقابل فہم بات یہ ہے کہ روس جو شام کی تقسیم میں معتدل اپوزیشن کو نشانہ بنا رہا ہے، اس کا مفاد کہاں ہے؟ کیا مضایا کی فاقہ کشی سے چشم پوشی ماسکو حکومت کو کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے ؟

ولادیمر پوتن کا خیال ہے کہ وہ شامی بحران کے حوالے سے عدم توجہی سے متصف امریکی پالیسی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اور یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ روس نے مشرق وسطیٰ میں اپنی پوزیشن واپس حاصل کرلی ہے۔ یقینا یہ سوچ بہترین حالات میں بھی کوتاہ نظری کی عکاسی کرتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ روس مختصر مدت میں تو فائدہ اٹھا لے، بالخصوص کہ وہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون استوار کررہا ہے۔ تاہم کیا خطے کے اہل عرب خاص طور پر اہل شام یہ بھول جائیں گے کہ دوران ِ بحران کون ان کے ساتھ کھڑا ہوا اور کون ان کی فاقہ کشی اور بے دخلی میں شریک رہا؟

مضایا کی فاقہ کشی سے نہ تو روس سپر پاور بن سکے گا اور نہ ہی ایران ان مقاصد میں سے کوئی مقصد حاصل کرسکے گا جن کو یقینی بنانے کی وہ سرتوڑ کوششیں کرہا ہے۔ خواہ اس میں کتنا ہی عرصہ لگ جائے اور خواہ "حزب اللہ" لبنانی سرحد کے نزدیک واقع شامی سنی دیہاتوں اور قصبوں کے محاصرے کے طریقہ کار بدلنے میں کتنے ہی ہتھکنڈے استعمال کرلے۔

مضایا کی فاقہ کشی، محاصرے میں حصہ لینے والوں اور شام کی تقسیم کے لیے کام کرنے والوں کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکا بن کر باقی رہے گی۔ ٹھیک ہے کہ یہ تقسیم ایک حقیقت بن چکی ہے تاہم یہ بھی درست ہے کہ شام کے المیے کی چنگاریاں ان سب پر بھرپور طریقے سے لوٹ کر آئیں گی جنہوں نے اس المیے کی آگ بھڑکائی۔ کس کو اس بات کا یقین تھا کہ شامی عوام اپنی انقلابی تحریک چار سال دس ماہ تک جاری رکھیں گے۔

کون اس بات کا یقین کرسکتا تھا کہ شامی شہری اس پورے عرصے میں داعش اور اس سے نظریاتی مماثلت رکھنے والی دیگر تمام سنی اور شیعہ تنظیموں کے سامنے ڈٹے رہیں گے ... ساتھ ہی ساتھ داعش کے خلاف لڑائی کا دعوی کرنے والے روسی سامراج کے سامنے بھی، جو اس وقت عملی طور پر شامی عوام کے خلاف جنگ میں ایک سرگرم شریک ہے۔ یہ روسی سامراج شامی سرزمین پر آبادی کے تبادلے کی کارروائی میں پہلے سے کہیں زیادہ شریک نظر آتا ہے، اور جو خطے میں ایرانی توسیع پسندی کے منصوبے کا جزو ِ لازم ہے۔ بشکریہ روزنامہ "العرب"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.