.

منہ زور ایران کا مقابلہ مضبوط سعودی عرب ہی کر سکتا ہے

فیصل جے عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایٹمی معاہدے کے بڑے سے بڑے ناقدین بھی اس تلخ حقیقت کی مخالفت نہیں کر سکتے کہ ایک ایٹمی ایران کے بغیر دنیا زیادہ محفوظ رہتی۔ اسی طرح اس معاہدے کے بڑے سے بڑے حامی بھی اس خطے میں امریکی اتحادیوں (خلیجی ممالک جنہیں معاہدے کے مذاکرات سے باہر رکھا گیا تھا) کو یہ ضمانت نہیں دے سکتے کہ بیڑیوں سے آزاد ایران اپنے تازہ وسائل اور آزادی کے ذریعے مزید علاقائی تلاطم پیدا نہیں کرے گا۔

ایٹمی معاہدے کی وکالت کرنے والے خالص علمی طور پر یہ کہتے ہیں کہ جیسے ہی ایران آزاد مغربی کلچر مثلاً مکڈونلڈ برگر اور سٹار بکس کی کافی سے آشنا ہو گا وہ اپنے انتہا پسندانہ نظریات اور توسیع پسندانہ پالیسی ترک کر دے گا تاکہ اپنے عوام کے معیار زندگی کو بلند کر سکے۔ مگر یہ معصومانہ سادگی سے لگائے اندازے ہیں اور اس حقیقت کو قطعاً نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایران نے ہمیشہ مذہب کے پھیلاؤ کا جواز تراش کر علاقائی تلاطم پیدا کئے ہیں اور دور دراز اپنے وفادار عسکریت پسند گروپوں کو توسیع پسندانہ پالیسی کے تحت مسلح کیا ہے۔

’سچا مذہب‘ لباس کی طرح نہیں بدلا جاتا

بے شک ملّاوں کا ’سچا مذہب‘ لباس کی طرح بدلا نہیں جا سکتا۔ اس کا ثبوت پچھلے سال ایٹمی معاہدے کے مذاکرات کے آخری مراحل میں ملا جب ایرانی حکام نے کھلم کھلا شیخیاں بگھارنی شروع کر دیں کہ اب ان کے ملک کی نئی سلطنت کی وسعت چار عرب دارالحکومتوں تک پھیل چکی ہے۔ معاہدے کے وکیل اس حقیقت کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں جو حال ہی میں واشنگٹن ٹائمز میں شائع ہونے والی امریکی حکومت کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی دہائیوں پر محیط عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نےخطے میں اپنے حامی دہشت گرد گروپوں کو اربوں ڈالر کے فنڈز کامیابی سے مہیا کئے۔

ایران نے خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لئے دہشت گرد گروپوں کو بڑے پیمانے پر فنڈنگ کی ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، عراق میں عصائب اہل الحق، یمن میں حوثی اور حتی کہ القاعدہ جیسے سنّی گروپ کو اس اصول کے تحت فنڈ دیے کہ دشمن (سعودی عرب) کا دشمن دوست ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایران پابندیوں کے دوران دہشت گردوں کی اتنے پڑے پیمانے پر فنڈنگ کر سکتا ہے تو پابندیاں اٹھنے کے بعدجبکہ تہران کو تقریباً ۱۰۰ ارب ڈالر کی خطیر رقم ملنے والی ہے وہ کتنا بڑا فساد برپا کرے گا؟

چند حالیہ مثالیں

پچھلے چند ہفتوں کے دوران ہونے والے کچھ واقعات یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ ایران کے عزائم شریفانہ نہیں ہیں، اور یہ کہ وہ اپنے اعتدال پسند عناصر کو یہ موقع نہیں دینا چاہتا کہ وہ ایٹمی معاہدے سے فائدہ اٹھا کر ملک میں اصلاحات لائیں۔

ایک طرف تو ایران یہ دعوی کرتا ہے کہ اسے اپنے غنڈوں پر قابو نہیں ہے جنہوں نے سعودی سفارتی مشنوں کو جلا دیا تھا، اور صدر روحانی (جنہیں اعتدال پسند سمجھا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے خلیج تعاون کونسل سے تعلقات بحال کرنے کی امید ظاہر کی تھی) نے فوری طور پر ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کو مجرمانہ قرار دیا تھا۔ دوسری طرف ایران بہت طاقتور اور موثر نظر آتا ہے جب اس نے اپنی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے والے امریکی میرین کو کشتیوں سمیت گرفتار کر لیا۔ امریکی صدر اوباما کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب سے کچھ ہی دیر پہلے تہران نے ’شیطان بزرگ‘ کی تذلیل کر کے خوب تماشا لگایا تھا۔

لوگ حیران ہیں کہ تہران ان حرکتوں سے آخر کس کو بے وقوف بنا رہا ہے، مگر اب سچائی زیادہ دیر چھپی نہیں رہ سکتی۔ تاہم یہ بات زیادہ حیران کن ہے کہ سعودی عرب کی ٹھوس خارجہ پالیسی کے جواب میں دنیا نے حیرت اور احتیاط کا مظاہرہ کیا۔

میرے خیال میں اس رویہ کا جواب اس سے بہتر نہیں ہو سکتا تھا جو سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایک حالیہ انٹرویو میں دیا جب انہوں نے کہا کہ سعودیہ اس وقت ’کرتے ہو تو کرو ورنہ بھاڑ میں جاؤ‘ کی حالت میں ہے۔ ایک طرف تو ریاض سے کہا جاتا ہے کہ وہ علاقائی تشدد اور جارحیت کے خاتمے کے لئے اپنی جنگوں کی قیادت کرے مگر پھر بھی اس کے ساتھ کئے وعدے پورے نہیں کئے جاتے۔ دوسری طرف امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں خطے کے استحکام کے لئے یہاں آنے پر تیار نہیں ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ یہاں آ جائیں تو تمام اتحادی ممالک بخوشی تعاون کرنے پر تیار ہوں گے۔

خطے کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے چیک اینڈ بیلنس کا اصول لاگو کرنا پڑے گا، اور ایک منہ زور اور نو آزاد شدہ ایران کے خطرات کا مقابلہ صرف ایک فعال اور فیصلہ کن قوت والا سعودی عرب ہی کر سکتا ہے۔

یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر ایران جارحیت ترک کر دے اور اپنی سرحدوں کا احترام کرے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ امن اور خوشحالی کا نیا دور سب کے مفاد میں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.