.

ریاست کی دھمکی!

ترکی الدخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسے بہت سے تجزیے ہیں جن میں دہشت گردی اور تشدد، ان کے اثرات، خطرات، بنیادی وجوہات، ان کو ختم کرنے اور ان پر قابو پانے کے بارے میں بات کی جاتی ہے۔ تاہم پورے خطے اور ساری دنیا پر دہشت گردی کا سب سے خطرناک پہلو شہری اقدار کے لیے خطرہ بننا اور ریاست کے وجود کو پارہ پارہ کرنا ہے۔

داعش تنظیم نے القاعدہ تنظیم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیکورٹی اہل کاروں کی ہلاکت کے ذریعے جب اپنی مجرمانہ حکمت عملی کا آغاز کیا تو وہ ریاست کے جسم میں ایک ایسا زخم لگانا چاہتی تھی جس کے ذریعے ریاست کا لہو نکل کر بہتا رہے۔ اور جب اس (داعش) نے مساجد، امام بارگاہوں، سرکاری اداروں اور اہم شخصیات کو نشانہ بنایا تو اس کا مقصد صرف ریاست کو مشکل میں ڈالنا تھا۔ آپ دہشت گرد کارروائی کے حوالے سے جس طرف بھی چہرہ گھمائیں، آپ کو ریاست ہی نشانہ بنتی نظر آئے گی۔

یہ ایسا چیلنج ہے جس سے آگاہی اور اس پر غور وخوض ناگزیر ہے۔ داعش جس طرح شخصیات اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنا رہی ہے، اس کارخ ریاست کے ڈھانچے کی جانب ہے۔ ریاستی ڈھانچے کو بے حیثیت کرتی، کامیابیوں کے لیے بے دریغ خون بہاتی اور رائگاں اکڑ کی تلاش کرتی ... ان امور کے ذریعے اسی طریقہ کار کا اظہار کر رہی ہے جس کو ابوبکر ناجی (یہ محمد خلیل الحکایمہ کا عرفی نام ہے) نے اپنی کتاب "إدارة التوحش" (بربریت کا نظم و نسق) میں پیش کیا۔ ناجی نے اس کتاب کو اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی ذاتی نگرانی میں تورا بورا کے غاروں میں بیٹھ کر لکھا۔

سعودی وزارت داخلہ نے اس کتاب کو شدت پسند تنظیموں کے لیے نقش راہ قرار دیا تھا جب کہ امریکی ملٹری کالجز میں اس کا ترجمہ کیا گیا تاکہ دہشت گردی کے طریقہ کار، حکمت عملی اور منصوبہ بندی کو سمجھا جا سکے۔

11 ستمبر 2001ء کے واقعات کے بعد، فرانسیسی دانشور اولیویئر مونگن نے 3 اکتوبر 2001 کو "Le Monde" میں " تہذیبوں کے نئے رخ" کے بارے میں ایک مضمون لکھا جس میں انہوں نے کئی سوالات پیش کیے۔ اسی میں ان کا کہنا تھا کہ "یقینا وہ سوال جو واضح طور اس شکل میں پیش کیا جاتا ہے: کیا ستمبر میں ہونے والی دہشت گرد کارروائی ایک قسم کی آگاہی کو یقینی بنانے کا اچھا موقع ہے؟" آگے مزید کہتے ہیں کہ "یقینا دہشت گرد مقابلے کو مسترد کرتا ہے، وہ لڑائی کو دیکھ کر راہ فرار اختیار کرتا ہے اور سوائے عدم استحکام پھیلانے کے کچھ نہیں کرتا۔ اس کی تقریر محض جھوٹ ہی نہیں بلکہ نفرت کی جانب بلاتی ہے۔ اس دعوت کا مقصد جارحیت کا نشانہ بننے والے کو بھی ایسا بنا دینا ہے کہ وہ بھی دہشت گرد کی مانند رویہ اپنا لے"۔

خلاصہ یہ کہ تشدد اور دہشت گردی کا رخ شہری اقدار کا قد پست کرنے کی جانب ہوتا ہے۔ اس حکمت عملی میں فرقہ واریت کو پھیلانا، قبائلی رجحان کو پھر سے زندہ کرنا، معاشرتی آفاقیت اور قومی تصور کی تحقیر کے ساتھ ساتھ انسانوں اور انسانیت کے نقطہ اجتماع کو تباہ کرنا شامل ہیں۔ کھوکھلا کرنا، تفرقہ پھیلانا اور انتشار پیدا کرنا یہ پرتشد تنظیموں کا راستہ ہوتا ہے۔ اس طرح ریاست کی رٹ غائب ہوجائے اور صرف خوف و دہشت کا دور دورہ ہو تاکہ "بربریت کے نظم و نسق" کی المناک مجرمانہ صورت حال کا آغاز ہوسکے۔

اگر آپ شام اور عراق میں داعش کے زیرکنٹرول علاقوں کے رہنے والوں کے بیانات پر غور کریں تو آپ واضح طور پر عوامی ملیشیاؤں کی دہشت گردی سے پیدا ہونے والے خوف کا حجم محسوس کریں گے۔ اور یہ ہی چیز داعش تنظیم کے سامنے چپ سادھ لینے اور ان کی موافقت پر مجبور کرنے والی ہے۔ یہ خوف ہی تو ہے جس کو خوف سے چلایا جارہا ہے۔ اور دہشت گردی جس کو دہشت گردی کا جواز بنایا جارہا ہے۔ صرف اس لیے تاکہ زندگی جہنم، معاشرہ جنگل اور ریاست ایسا بھوسا بن جائے جس کو ہوائیں اڑا کر لے جائیں!

دہشت گردی کے حوالے سے خلیجی ممالک کا وژن بالکل واضح ہے۔ متحدہ عرب امارات میں داعشی کو سزائے موت دی گئی، کویت میں العبدلی گروہ کے ارکان کو موت کی سزا سنائی گئی اور سعودی عرب میں 47 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ یہاں ریاست کا مفہوم ثابت ہوتا ہے۔ ریاست کے کام کا ایک بنیادی حصہ اس کا سماجی مینڈیٹ ہے تاکہ وہ (جرمن ماہر عمرانیات میکس ویبر کے دیے ہوئے نام کے مطابق) "تشدد کا قانونی استعمال" کر سکے، جو ریاست، اس کی طاقت اور اس کے اثرونفوذ کی حفاظت کرتا ہے۔ ویبر اس تشدد کو "قانونی شمار کیا جانے والا" قرار دیتے ہیں۔ اور یہ معاشرے اور ریاست دونوں کو ساتھ تحفظ فراہم کرتا ہے۔

ریاست کو اپنے گہرے مفہوم میں، چیلنجوں اور واقعات کی کسوٹی پر جانچا جاتا ہے۔ اگر وہ ان کا سامنا پرعزم طریقے سے ڈٹ کر نہیں کرتی تو وہ دباؤ اور پژمردگی کا شکار ہوجاتی ہے۔ اور دہشت گردی کی کمر توڑ دینے کے خواہش مند خلیجی ممالک اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں۔ جو لوگ اپنے ملکوں میں انقلاب، حقوق اور انسانیت کے نام پر شورش پھیلاتے ہیں، وہ دہشت گردوں کے لیے قانونی آڑ کے سوا کچھ نہیں۔

ریاست کی ہر طاقت معاشرے کے مستقبل کی ضامن ہے ... خبردار! اپنے گھوڑوں اور پیادوں (کی کشش) سے کھینچنے والے آپ کو جذباتی نہ کردیں۔ انقلابی تقاریر پر چھایا سب سے خطرناک مرض عقل کی کمی اور حکمت کا فقدان ہے۔ پرانے وقتوں میں کیا سچی بات کہی گئی ہے کہ : " آخری زمانے میں عقلوں کے ذریعے ہی چڑھا جائے گا"۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.