.

داعش تنظیم کی سرایت

ترکی الدخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں تشدد سے متعلق کوئی خبر نہ ہو، اور کسی سربراہ کی پریس کانفرنس دہشت گردی کے موضوع سے خالی نہیں ہوتی۔ تشدد اور اس پر ابھارنے والے عوامل بھرے پڑے ہیں کیوں کہ خون ریزی مسلم معاشروں اور اس کے بعد پوری دنیا کے لیے، روز کا دانہ پانی بن چکی ہے !!!۔

اسی واسطے سعودی عرب نے خطے میں بڑے اتحاد تشکیل دیے ہیں۔ ان میں سب سے پہلے یمن میں قانونی حکومت کی واپسی کے لیے عرب اتحاد قائم کرکے دو آپریشن "عاصفة الحزم" (فیصلہ کن آندھی) اور "إعادة الأمل" (تجدید امید) کیے گئے۔ اس کے بعد "دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی اتحاد" تشکیل دیا گیا جس میں چالیس اسلامی اور عرب ممالک شامل ہیں۔ اس کا اعلان نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزاہ محمد بن سلمان نے گزشتہ سال چودہ دسمبر کو اپنی پریس کانفرنس میں کیا۔

یہاں یہ بات بھی باور کرا دینا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ تین محاذوں کے ذریعے لڑی جاتی ہے، اور وہ ہیں فوجی، نظریاتی اور میڈیا ! دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق کسی بھی حکمت عملی کو زیربحث لانے کے لیے ہمیں اسی بنیادی تکون کو نقظہ آغاز بنانا چاہیے۔

دہشت گرد کے خلاف جنگ میں عسکری محاذ پر تو کامیابی نے خلیجی ممالک کو سینے سے لگایا۔ تاہم بقیہ دو یعنی نظریاتی اور میڈیا کے میدانوں میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

القاعدہ کے خلاف جنگ کے وقت سے لے کر آج داعش کے خلاف جاری جنگ تک، اگر عسکری تنظیموں کے خلاف میدان پر نظر دوڑائی جائے تو یہ دونوں محاذ کمزور ترین مقام پر نظر آتے ہیں۔

مثلا اس منظرنامے میں ہم اس حملے کو لیتے ہیں جو القاعدہ تنظیم نے گزشتہ سال چھ اگست کو ابہا شہر میں "ایمرجنسی فورسز" کی مسجد پر کیا تھا۔ اس سلسلے میں رواں سال 31 جنوری کو وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ معلومات دھچکا پہنچانے والی تھیں۔ تفصیلات کے مطابق دھماکا خیز مواد سے بھری بیلٹ عبیر الحربی نامی ایک خاتون نے پہنچائی۔ ایک فوجی اہل کار نے خیانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے (دہشت گرد) گروپ کے سرغنے کے ساتھ تعاون کیا تاکہ حملہ آور کا مسجد میں داخلہ آسان ہوجائے۔ اور پھر دھماکے کے بعد اپنے ساتھیوں کی ہنگامی امداد میں شامل ہو کر حقائق کی پردہ پوشی کا مرتکب ہوا۔

یہ دہشت گردانہ رسوخ اور سرائیت (القاعدہ) تنظیم کی طاقت کا اہم عنصر ہے جو مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے صنف نازک کو بھی استعمال کرتی ہے۔ جب تک زمین پر عسکری کارروائی کو میڈیا کی اور نظریاتی سپورٹ حاصل نہیں ہوگی تب تک یہ دہشت گرد گروپ جنم لیتے رہیں گے اور تشدد صنف نازک کے استعمال سے بھی آگے بڑھ کر خدانخواستہ اپنی بدترین شکل اختیار کرلے گا۔

وزارت داخلہ نے جن گروپوں کے متعلق اعلان کیا تھا وہ آپس میں نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے ایک طرف تو کوآرڈینیشن پیدا کی اور دوسری جانب متعدد اداروں میں سرائیت کرگئے۔ خواتین کی بھرتی بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ کارروائی کی منصوبہ بندی انتہائی ہوشیاری اور خطرناک ذہن کے ساتھ کی گئی۔

یہ عسکری محاذ کے لیے ممکن نہیں کہ وہ دوسرے مفروضہ کردار بھی ادا کرے مثلا تعلیمی جانب کے ساتھ نظریاتی جدوجہد کرے اور خاندانی بھرتیوں کے عنصر کو روکے۔ القاعدہ اور داعش تنظیموں میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد موجود ہیں۔ میں یہاں ایک ہی مثال پر اکتفا کروں گا۔ آگے ذکر کیے جانے والے تمام تخریب کاروں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

عبدالجبار بن حمود بن عبدالعزيز التويجري (سیکورٹی اور عسکری اداروں کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنانے والا مجرم) کو 3 جنوری کو سزائے موت دی گئی، عبدالله عبدالعزيز إبراهيم التويجري (جس نے فروری 2006 میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا)، عبدالرحمن عبدالله سليمان التويجري (29 جنوری کو الاحساء کی مسجد الرضا پر حملے کا پہلا خودکش بمبار) جب کہ اس کا بھائی عراق میں شورش زدہ علاقوں میں داعش میں شامل ہوا۔

یہ بہت بڑا نیٹ ورک ہے جس پر شدت پسند تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ سیکورٹی فورسز زمین پر ان تنظیموں ک دوبدو مقابلہ تو کرسکتی ہیں، تاہم تعلیمی اداروں کا کردار ادا کرنا، تعلیم وتربیت کی حکمت عملی کو بدلنا اور میڈیا کے روٹین اور جمود کو تجاوز کرنا یہ سیکورٹی فورسز کی ذمہ داری نہیں ... یہ سرکاری اور قومی اداروں اور معاشرے کے مشترکہ مشن ہیں۔ اور شہزادہ محمد بن سلمان نے اسلامی فوجی اتحاد کے اعلان کی پریس کانفرنس میں اسی موقف کا اظہار کیا تھا۔

عسکری، نظریاتی اور میڈیا پر مشتمل انسداد دہشت گردی کے تکون کے متوازن عمل کے بغیر ہمارا زہریلے پھلوں کے ساتھ مقابلہ یوں ہی باقی رہے گا اور ہمیں ایسے طاقت ور اوزار نہیں ملیں گے جن کے ذریعے دہشت گردی کے درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے....

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.