.

روس اور مسلمانوں کے بیچ !

مشاری الذايدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس دنیا سے رخصت ہونے سے کئی ماہ پیشتر شہزادہ سعود الفیصل نے ریاض میں اپنے وزارت خارجہ کے دفتر میں ایک بے تکلف ملاقات کے دوران، سعودی خارجہ پالیسی پر بڑی شفافیت کے ساتھ روشنی ڈالی۔ اس موقع پر سعودی ذرائع ابلاغ کے ایک گروپ کے ساتھ میں بھی وہاں پر موجود تھا۔

مجھے ان کی وہ گفتگو یاد آتی ہے جو انہوں نے تیل کی عالمی منڈی میں سب سے بڑا حصہ رکھنے کی حیثیت سے سعودی عرب کے روس اور دنیا کے بقیہ ممالک پر اثر و رسوخ کے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کی تھی۔ ان کا جواب سوال سے کہیں زیادہ جامع تھا۔ انہوں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ سعودی عرب طاقت اور اثر و رسوخ کے جس اسٹریٹجک اثاثے کا حامل ہے وہ تیل کی کہانی سے کہیں آگے ہے۔

شہزادہ سعود نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تیل تو ایک روز ختم ہوجائے گا یا اس کا نعم البدل آجائے گا، تاہم سعودی عرب اسلام کے پیغام کے آغاز کی سرزمین ہے، اور مملکت کے وجود نے حرمین شریفین (مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ) کو اپنے دامن میں بھرا ہوا ہے، یہ مسلمانوں کے دلوں کی آماجگاہ اور ان کے قبلے کا رخ ہے ... پس یہ اصل اور مضبوط بنیادیں ہیں۔

اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ بڑے مفادات اور منافع کو صرف مال سے یا آپ کے پاس موجود جنگی سازوسامان سے نہیں ناپا جاتا ہے۔ ان امور کی ضرورت اپنی جگہ مگر داعش اور القاعدہ کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے سائے میں، مسلمانوں کی اکثریت کی جانب سے اس معرکے کے حق میں آواز بلند کرنا کامیابی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

اسی واسطے روس جو سنی دنیا سے متعلق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خود کو ہراول دستے کی حیثیت سے پیش کر رہا ہے، اس لڑائی میں کامیابی کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ امت مسلمہ کی اکثریت کا دل و دماغ جیت لے۔

اس زاویے سے پرکھا جائے تو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کا اپنے سابقہ غیرلچک دار موقف سے پیچھے ہٹنا سمجھ میں آجاتا ہے جس میں وہ بشار الاسد کے ساتھ مذاکرات کے لیے آنے والی شامی اپوزیشن کی نوعیت کو مسلط کرنے پر اڑے ہوئے تھے۔ بعد ازاں لاؤروف نے اعلان کیا کہ ماسکو حکومت شام کی بات چیت میں "جیش الاسلام" اور "احرار الشام" تنظیموں کو شریک کرنے پر آمادہ ہے، اگرچہ وہ برابر ان دونوں تنظیموں کو غیرقانونی قرار دیتے رہے ہیں۔

"جیش الاسلام" اور "احرار الشام" بنیاد پرست عسکری تنظیمیں ہیں تاہم ان پر دیگر تنظیموں مثلا "جبھة النصرة" وغیرہ کی نسبت مقامی چھاپ کا پہلو غالب ہے۔ بہرکیف بات کا مقصد یہ کہ شدت پر مبنی روسی موقف کے باوجود، عملی سیاسی حساب کتاب میں جمع تفریق باقی ہے۔

آخری بات یہ کہ روس ایک فرقہ وارانہ حکومت کی موافقت سے جس کے تمام حلیف غلو کرنے والے شیعہ ہیں، شام میں اپنی فوجی مہم میں زیادہ صبر و انتظار نہیں کرسکتا۔ مسلمانوں کی اکثریت کے احساسات کے خلاف موقف پر قائم رہنا، یہ خود روس کی داخلہ سیکورٹی کے لیے ایک بڑی مہم جوئی ہوگی۔

یہ بات یاد رہے کہ روس میں مسلمانوں کی کم سے کم تعداد کل آبادی کا 20 فی صد ہے جس میں اکثریت سنیوں کی ہے جب کہ صرف 5 فی صد کے شیعہ ہونے کا کہا جاتا ہے۔

اس لیے روس زیادہ طویل عرصے تک مسلمانوں کے دل جیتنے سے بے نیاز نہیں رہ سکتا، اور یہ کام نہ تو روسی طیارہ سوخوی کرے گا اور نہ ہی لاؤروف کی ترش روئی بلکہ یہ مقصد اس سرزمین کا دل جیتنے سے ہوگا جس کی طرف مسلمان روزانہ اپنی نمازوں میں رخ کرتے ہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.