.

شام میں سعودی عرب کی زمینی مداخلت

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر دفاع کے ترجمان اور فوجی مشیر بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری کے اس سنسنی خیز بیان سے کہ سعودی عرب شام میں زمینی طور پر لڑنے کے لیے تیار ہے، بہت سے سوالات نے جنم لیا ہے... کیا یہ خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی ہے؟ ہم کیوں ایک دور دراز سرزمین پر لڑیں؟ ہم بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ ہی کیوں لڑیں؟ اور اگر ایسی کوئی خواہش ہے بھی تو ہم سب سے بڑی مجرم بشار الاسد حکومت کے خلاف کیوں نہیں لڑ رہے ؟

شام میں زمینی لڑائی ایک نئے رخ کا تعین نظر آتا ہے کیوں کہ سعودی عرب نے پہلی مرتبہ واضح اور دوٹوک انداز میں شام میں داعش تنظیم کے خلاف زمینی لڑائی میں شرکت کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ماضی میں سعودی عرب مشن کی نوعیت متعین کیے بغیر ہی شرکت کا عندیہ دیتا تھا۔ تاہم شام میں لڑائی جاری ہے اور سعودی عرب گزشتہ سال سے اس بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہے جو فضائی طور پر شام میں دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ نبرد آزما ہے۔

جہاں تک یہ سوال ہے کہ بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہو کر ہی کیوں لڑا جائے؟ تو اس کا قانونی پہلو ہے۔ ایک صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ سعودی عرب شام میں بشار الاسد کی حکومت سے آمادگی حاصل کرے جیسا کہ آج روس کر رہا ہے۔ مگر ریاض حکومت کی جانب سے اس کی درخواست کرنا ایک ناممکن سی بات ہے اور دمشق حکومت کا اس پر آمادہ ہوجانا یہ بھی خارج از امکان ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اقوام متحدہ سعودی عرب کو اس کی اجازت دے جیسا کہ اس وقت یمن میں ہورہا ہے۔ جہاں سعودی افواج سلامتی کونسل کی رضامندی سے لڑ رہی ہیں۔ اس واسطے بین الاقوامی اتحاد اس کو قانونی سایہ فراہم کررہا ہے جو تیرہ ریاستوں کے ایک مربوط نظام پر مشتمل ہے۔

اب رہی یہ بات کہ سعودی عرب کے لیے شام میں "داعش" کے خلاف برسرجنگ ہونا اتنا اہم کیوں ہے... تو وہ اور بہت سے ملکوں کی طرح جانتا ہے کہ آگے چل کر داعش اس کو نشانہ بنائے گی۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ بہت سے سعودی (تنظیم کے) بہکاوے میں آ کر سیکڑوں کی تعداد میں وہاں لڑائی میں شریک ہیں۔ ان میں سے بعض نے تو واپس آکر مملکت کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کی کوشش بھی کی۔ "داعش" کا لٹریچر بھی صریح انداز میں سعودی عرب کی عداوت اور اس کو نشانہ بنانے پر زور دیتا ہے جس طرح اس سے پہلے "القاعدہ" کیا کرتی تھی۔

سب سے زیادہ تنگ کرنے والا سوال یہ ہے کہ... ہم داعش سے تو لڑ رہے ہیں مگر ہم نے بشار الاسد کی حکومت کو کیوں چھوڑ رکھا ہے جو خطے کی تاریخ میں قتل و غارت گری اور بربادی کے سب سے بڑے جرائم کی مرتکب ہے؟ پہلی بات تو یہ کہ سعودی عرب شام کا پڑوسی ملک نہیں ہے بلکہ عراق اور اردن اس کو شام سے الگ کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ وہ بین الاقوامی اختیار کے بغیر وہاں نہیں لڑسکتا، بصورت دیگر یہ جارحیت شمار ہوگی اور اس کے خطرناک نتائج ہوں گے۔ ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے جو ایک عرصے سے عراق اور شام میں داعش کے خلاف برسرجنگ ہے، مگر وہ پانچ برس قبل بحران کے آغاز کے وقت سے ہی شامی حکومت پر غضب ناک ہونے کے باوجود اس کے خلاف نہیں لڑرہی۔ ترکی کی شام کے ساتھ سب سے بڑی سرحد ہے۔ اس کی فوج دنیا کی سب سے بڑی فوجوں میں سے ایک ہے۔ اس کے فعال پیشہ ور اہل کاروں کی مجموعی تعداد سات لاکھ ہے جب کہ اگر غیر فعال (ریزرو) فوجیوں کو بھی ملا لیا جائے تو یہ تعداد دس لاکھ افراد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس سب کے ساتھ ترکی بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے فوجی مداخلت نہیں کررہا۔

داعش کے خلاف لڑائی ایک سیاسی عمل بھی ہے ناکہ صرف عسکری! یہ روس اور ایران کے حیلے کو بھی ختم کردے گی جنہوں نے شام کی نیشنل اپوزیشن کو جس کا شدت پسند تنظیموں اور غیرملکی جنگجوؤں سے کوئی تعلق نہیں، تباہ کرنے کے لیے اس (داعش) کو اپنی حجت بنا رکھا ہے... بلکہ داعش کے زیادہ تر جنجگوؤں کو پکڑ کر اس کو کمزور کرنے سے شامی مزاحمت کاروں کی پوزیشن مضبوط ہوگی جس کو ابھی تک شدت پسندوں اور بشار الاسد کی افواج اور اس کے حلیفوں کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جیسا کہ ہم جنوبی صوبے درعا کی صورت ھال دیکھ رہے ہیں جہاں شامی حکومت کے حلیف اس جھوٹ کے تحت " آزاد فوج" پر کاری ضربیں لگانے میں سرگرم ہیں کہ یہ شدت پسند تنظیمیں ہیں۔

بریگیڈیئر جنرل عسیری کے بیان کو اس کے تناظر میں رکھا جائے تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ سعودی عرب دو شرطوں کے ساتھ شام میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے؛ بین الاقوامی خواہش کا وجود اور ایک بڑے فوجی نظام میں شمولیت۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.