.

مراکش کی اسلامی تعلیمی اصلاحات دنیا پر اثر انداز ہو سکتی ہیں

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسندی کو ایک لفظ یا ایک وجہ میں سمیٹنے کی کوئی بھی کوشش باالآخر کسی وسیع مفہوم کی طرف جانکلے گی۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ انتہا پسندی کی بنیادی وجہ تعلیمی نصاب ہوتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے فرد کے خیالات اور فکر تشکیل پاتی ہے۔

چنانچہ جب تعلیمی نصاب انتہا پسندی کی تعلیم دیں گے تو انتہا پسند ہی پیدا ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ تعلیم ہی وہ وسیع میدان ہے جہاں دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کی فکر کو مثبت یا منفی بنایا جا سکتا ہے۔

مراکش حال ہی میں ان ممالک کی صف میں شامل ہوا ہے جنہوں نے اسکولوں کے نصاب کو درست کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ مراکش کے شاہ محمد ششم نے خود وزرا کی کونسل کے اس اجلاس کی صدارت کی جس میں نصاب تعلیم کا جائزہ لیا گیا، اور تعلیم اور مذہبی امور کے وزرا کو ہدایت کی گئی کہ ملک کے اسکولوں کی درسی کتب اور مذہبی تعلیم کے نصاب پر نظر ثانی کی جائے۔

سوال یہ ہے کہ کیا مراکش تعلیمی نظام کے نقائص کو سدھارنے میں کامیاب ہو جائے گا جہاں دیگر حکومتیں ناکام ہو چکی ہیں؟

یہاں یہ فرق ہے کہ مراکش نے طے کیا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نصاب کی از سر نو تشکیل کرے گا، تاکہ ایسے مسلمان طلبا پیدا کیے جائیں جو ایسی اسلامی اقدار پر یقین رکھتے ہوں گے جو اعتدال پسندی، جدیدیت، برداشت اور مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے ساتھ بقائے باہمی کا تقاضا کرتی ہوں۔ چنانچہ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا دیگر فرقوں، مذاہب اور تہذیبوں کے احترام اور برداشت کا عقیدہ رکھتے ہوں گے۔

اسلام ایک بڑا مذہب ہے جس سے لوگ اپنی مرضی کے مفاہیم اخذ کر سکتے ہیں۔ گذشتہ تین دہائیوں میں ایسا ہی ہوا ہے کہ اسلام کو ایسے لوگوں نے ہائی جیک کر لیا جو کہتے تھے کہ مذہب خطرے میں ہے اس لئے جنگ کرنا ضروری ہے۔ اس فلسفے کو ایسے نظریاتی گروپوں نے ترویج دیا جو سیاسی عزائم رکھتے تھے۔ ان گروپوں کی حمایت کے لئے بہت سے لوگ آگے آئے اور اس طرح ہم موجودہ انتشار کی کیفیت تک پہنچ گئے ہیں جہاں شیعہ، سنّی، علوی، عیسائی، یہودی اور ہندووں سمیت ہر مذہب اور فرقے کے ساتھ جنگ برپا ہے۔

یہی وجہ ہے اسلام اور مسلمان دنیا کے بیشتر افراد کے لئے دشمن کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ کیا اسلام دوسرے مذاہب کی طرح نہیں ہو سکتا کہ اس کے ماننے والے بھی دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھپر امن بقائے باہمی کے تحت رہ سکیں؟

مراکش کے شاہی محل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تعلیمی اصلاحات کی حکمت عملی کئی برسوں تک، یعنی ۲۰۳۰ تک جاری رہے گی۔ اگر مراکش ایسا نصاب تشکیل دینے میں کامیاب ہو گیا جو اسلام کی عظیم انسانی اقدار اور تعیمات اور اعلیٰ اخلاق کا درس دیتا ہے تو یہ نصاب اس لائق ہے کہ ان تمام مسلم ممالک کی رہنمائی کرے جو اس مسئلے سے دوچار ہیں کہ اپنے مسلمان طلبا کو کیا اور کیسے پڑھایا جائے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.