.

عزت مآب وزیر مسرت!

ترکی الدخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انیس اکتوبر 2015 کو عالی جناب الشیخ محمد بن راشد نے ایک سوالنامے کی مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد دبئی میں رہنے والوں کے اپنی زندگی سے خوش ہونے کی بابت جاننا تھا۔ اسی روز صبح دبئی پولیس نے دبئی کے باشندوں کو ٹیکسٹ میسجز ارسال کیے...) (Happy City یا پرمسرت شہر کے عنوان سے ارسال کیے جانے والے ان پیغامات میں مذکورہ سوالنامے میں شریک ہونے پر زور دیا گیا تھا۔

خوشی اور مسرت کبھی بھی اماراتی ذمہ داران کی ذاتی دلچسپی کے سیاق سے باہر نہیں رہی۔ عالی جناب الشیخ محمد بن زاید نے اماراتیوں سے کہا تھا کہ وہ امارات میں تیل کے آخری بیرل کی برآمد کا جشن منائیں گے.. اور ایسا غیر تیل کی معیشت پر سنجیدگی کے ساتھ انحصار کا آغاز کرنے سے ہوگا۔ امارات بنیادی موضوعات سے آگے بڑھ چکا ہے اس لیے کہ ان کو پہلے ہی یقینی بنایا جا چکا ہے۔ اب وہ مسرت کے اسباب اور اس کے عناصر کی فراہمی کے ذریعے اسے اپنا آئندہ ہدف بنانے کی بات کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اس ناقابل یقین مقام کو یقینی بنایا جس کا خواب ان عرب ممالک کی قیادت دیکھا کرتی تھی جن کی ترقی کا سفر 1960ء کی دہائی میں شروع ہوا۔ ان میں عراق بھی تھا جو تیل کے علاوہ دو دریاؤں، قدرتی وسائل اور زراعت سے مالا مال تھا۔ تیل کی دولت رکھنے والا ایک اور ملک لیبیا بھی تھا۔ ان کے علاوہ تیل نہ رکھنے والے مگر قدرتی وسائل سے بھرپور ممالک مثلا سوڈان، مصر، لبنان اور شام بھی شامل تھے ... تاہم سیاسی انتشار اور حکمت عملی کے کھوکھلے پن کے باعث یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔

خاموش جدوجہد کے ذریعے متحدہ عرب امارات نے تقریبا بیس سال قبل جامع ترقی کا آغاز کیا۔ اس نے تیل سے استفادے اور اس کی آمدنی کے ذریعے عوام کی دیکھ بھال اور ان پر خرچ کی روش پر بھروسہ کرنے کے بجائے ایک خصوصی بنیادی ڈھانچہ قائم کیا۔ جس نے اس کو نہ صرف خطے کی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر ترقیاتی طور پر ابھرتے ہوئے ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا۔

یہ کسی بھی طرح ایک معجزے سے کم نہیں ہے۔ اس لیے کہ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں یہ ریاستیں سمندر اور صحراء کے سوا کچھ نہیں تھیں۔ وہاں کوئی قابل ذکر ہسپتال، جامعات اور وزارتیں کچھ بھی تو نہ تھا۔ ہم صدیوں کی نہیں بلکہ چند دہائیوں کی بات کر رہے ہیں!

پیر کے روز دبئی میں عالمی حکومتی اجلاس کے دوران عالی جناب الشیخ محمد بن راشد نے اپنی کابینہ میں "وزیر مملکت برائے مسرت" کے نام سے ایک نئے قلمدان کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ "اتحادی حکومت کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں لائی جارہی ہیں جن کا مقصد متحدہ عرب امارات میں ترقی کے آئندہ مرحلے کے لیے تیاری کرنا ہے۔ اسی سلسلے میں ہم نے وزیر مملکت برائے مسرت کا نیا قلمدان بنایا ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری معاشرے کی خوشی اور مسرت کو یقینی بنانے کے لیے ریاست کے تمام منصوبوں، پروگراموں اور پالیسیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے"۔

​ایک اماراتی شہری نے خوشی سے سرشار ہو کر جو کہ اس کا حق بھی بنتا ہے یہ ٹوئیٹ کیا کہ ہمارے پاس "وزیر السعادة" (وزیر مسرت) ہیں اور ان کے پاس "سعادة الوزیر" (وزیر عزت مآب) ہیں۔

یقینا عرب ممالک میں لا تعداد سابق وزراء اور سابق ارکان پارلیمنٹ ہیں۔ لبنان میں ہی ایسے درجنوں مل جائیں گے جو اپنے نام کے ساتھ "عزت مآب" کا لاحقہ لگاتے ہیں۔ یہ لوگ ایک کے بعد ایک آنے والی حکومتوں میں طویل عرصے تک اعلی منصبوں پر فائز رہے ... مگر ان تمام خطابات اور القابات کی بھرمار کے ساتھ ... کون سی کامیابیاں حاصل کی گئیں؟ اور ترقی کی کونسی منازل طے کی گئیں؟

خلیج میں عظیم ترقیات کا سلسلہ دیکھنے میں آیا۔ پہلے سعودی عرب اور پھر کویت اور بحرین اور اب امارات ایک رول ماڈل، ویژن اور رخ بن چکا ہے۔ اسی لیے اس سے خطے کے بہت سے ممالک مستفید ہو رہے ہیں۔ ان میں خلیجی ریاستیں بھی شامل ہیں جو ترقیاتی اور عسکری سطح پر مشترکہ تعاون کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔

وزیر برائے مسرت ... مہمان نواز اور رواداری کے حامل عوام کے لیے۔ اور پھر ایک وزیر برداشت بھی ہو گا جس کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ اماراتی معاشرے میں رواداری اور برداشت کی اقدار کو راسخ بنائے۔ وہ معاشرہ جس نے اپنی قیادت کے ساتھ باہمی سپورٹ کا شاندار مظاہرہ کیا تاکہ افراد یا حکومتوں اور ساتوں امارتوں کی سطح پر ترقی میں اعلی نمونوں کو یقینی بنایا جا سکے۔

----------------------------
(وسیع صحافتی تجربے کے حامل ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں، ان کا مندرجہ بالا کالم روزنامہ 'البیان' میں شائع ہوا۔ جسے عبدالرحمن صدیقی نے العربیہ اردو کے قارئین کے لئے عربی سے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.