.

نئی ایرانی پارلیمنٹ کی قسمت کا فیصلہ ہو چکا ہے

کامیلا انتخابی فرد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے چند دن قبل جب عوام کو ایرانی پارلیمنٹ اور ایرانی مجلس علماء کے انتخابات میں حصہ لینے کی ہدایت کی تو وہ اس خدشے کا اظہار کرنے سے نہیں ہچکچاتے کہ وہ ان انتخابات میں کیسے نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے ضروری سمجھا کہ اپنے ایک پچھلے بیان کی وضاحت کر دی جائے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جو شہری ایران کے سیاسی نظام سے اختلاف رکھتے ہیں ان کو بھی چاہیئے کہ وہ انتخابات میں ووٹ ڈالیں۔ وضاحت میں انہوں نے کہا کہ اس بیان کا مطلب یہ بالکل نہیں تھا کہ عوام ایسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں منتخب کریں جو ملک کے سیاسی نظام کو قبول نہیں کرتے ہیں۔

اس بیان سے ملک کے ایک بڑے طبقے کو مایوسی ہوئی، جن میں نہ صرف عام لوگ بلکہ اعتدال پسند اور اصلاح پسند عناصر شامل ہیں جو انتخابات کو تبدیلی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے خامنہ ای اب لوگوں کی بڑی تعداد کو پولنگ اسٹیشنوں پر جا کر ووٹ ڈالنے کی تلقین نہیں کرنا چاہتے جس سے خود ان کے لئے عوام کی حمایت کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کے بدلے ہوئے لہجے سے لگتا ہے کہ اب اپنی مقبولیت کے ثبوت کے لیے انہیں عوام کی اکثریت کے مظاہرے کی ضرورت نہیں۔

ایرانی مجلس علماء جسے ایرانی مجلس خبرگان رہبری بھی کہا جاتا ہے ۸۸ مجتہدین پر مشتمل ہوتی ہے جو آٹھ سالہ مدت کے لئے منتخب ہوتے ہیں۔ اس کا کام سپریم لیڈر کا انتخاب اور اس کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ اور مجلس علماء کے انتخابات آیندہ ۲۶ فروری کو ہونے والے ہیں۔

انتخابات سے قبل ہی عوام کی اکثریت میں بد دلی پھیل گئی ہے کیونکہ ایرانی نگران کونسل، جو پارلیمانی امیدواروں کی جانچ پڑتال اور توثیق کرتی ہے، نے ایسے امیدواروں کی اکثریت کو نا اہل قرار دے دیا ہے جو اعتدال پسند، اصلاح پسند یا معتدل صدر حسن روحانی کی حکومت کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچہ اس ہفتے تقریباً ۱۵۰۰ امیدواروں پر پابندی کا حکم واپس بھی لے لیا گیا ہے تاہم عوام کی اکثریت اب بھی انتخابی عمل سے بیزار نظر آتی ہے۔

ہم ووٹ نہیں ڈالیں گے تو ہار جائیں گے

بڑی تعداد کو نا اہل قرار دیے جانے کے بعد اب ایرانی عوام کے پاس ووٹ دینے کے لئے کوئی نمایاں اصلاح پسند یا اعتدال پسند امیدوار باقی نہیں بچا ہے۔ تبدیلی کی خواہش کرنے والے ووٹروں کو متوجہ کرنے کی امیدیں بھی زیادہ اچھی نہیں ہیں۔ صدر روحانی نے اس صورتحال کے پیش نظر عوام سے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم ووٹ نہیں ڈالیں گے، تو ہار جائیں گے۔ ان کا یہ بیان انتخابات کے بارے میں ان کے کھلم کھلا بیانات میں سے ایک ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ عوامی مایوسی کا فائدہ انتہا پسندوں کو ہوگا اور وہ آیندہ پارلیمنٹ میں اکثریتی نشستیں جیت جائیں گے۔

اعتدال پسندوں اور اصلاح پسندوں کی آنے والی پارلیمنٹ میں متوقع اقلیت کی وجہ سے صدر روحانی کو مشکلات پیش آئیں گی، بالخصوص امریکا اور بڑی طاقتوں کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد کے سلسلے میں۔ ایٹمی معاہدے پر مکمل عملدرآمد اور معیشت کے فروغ کی غرض سے مغربی ممالک سے تعلقات کی بہتری کے لئے روحانی کو ابھی عوامی حمایت کی ضرورت ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں ان کی حمایت میں کمی آئی تو ان کی صدارت کی باقی مدت مشکلات کا شکار رہے گی اور دوبارہ صدارتی انتخاب جیتنے کے امکانات معدوم ہو جائیں گے جو دو سال بعد ہونے والے ہیں۔

سخت گیر عناصر کی اکثریتی پارلیمنٹ ایک اور خطرے کی گھنٹی ثابت ہو گی۔ اس سے پاسداران انقلاب جیسے ادارے جو عراق اور شام کی خانہ جنگیوں میں پیش پیش ہیں، حد سے زیادہ طا قتور ہو جائیں گے۔ اگرچہ ان خطرات کا برملا اظہار بہت کم لوگ کر رہے ہیں، مگر سیاسی رہنماوں نے کھل کر ان سے خبردار کیا ہے جن میں سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی شامل ہیں۔

گیارہ فروری کو ایران کے اسلامی انقلاب کی ۳۷ ویں سالگرہ منائی جائے گی۔ انقلاب کے بعد سے معاشرے میں بہت کچھ بدل گیا ہے مگر لگتا ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کے دونوں طبقوں میں جاری جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوگی۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.