.

سنّی نہیں ... لبنانی "الحریری"!

ترکی الدخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیروت کے BIEL سینٹر میں خطاب کے ساتھ سعد الحریری کی طویل وقفے کے بعد لبنانی دارالحکومت میں واپسی ہوئی۔ "مارچ 14 الائنس" کی قیادت کی شرکت کے ساتھ یہ ایک ایسا سیاسی ایونٹ تھا جس نے ٹھہرے ہوئے پانی میں طلاطم پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ حامیوں میں اطمینان کی لہر دوڑا دی۔ خطاب کے الفاظ ان زخموں پر مرہم کی مانند تھے جو صدارتی انتخاب میں بے جا التوا، معیشت کے خسارے، بجلی کے تعطل اور یہاں تک کہ کچرے کے بحران کی صورت میں لبنان اور اس کے عوام کے دلوں کو گھائل کررہے ہیں۔

سعد الحریری کے خطاب نے ان کے والد، ملک کے ایک بڑے شہید اور جدید لبنان کو تعمیر کرنے والے رفیق الحریری کی ... ان کی تقاریر، اقوال اور ہدایات کے ساتھ ساتھ ان اقدار کی بھی یاد دلا دی جن کے ذریعے ایک خودمختار لبنان نے شام کے ڈکٹیشن کا مقابلہ کیا اور ان پر فیصلہ کن روک لگائی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سعد الحریری کی موجودگی نے سیاسی توازن کو مختلف بنا دیا ہے۔ ان کے حامی اپنے سربراہ کی موجودگی سے اطمینان وسکون محسوس کررہے ہیں جب کہ مخاصمین کو لبنان کے اندر الحریری کی جانب سے کیے جانے والے آئندہ اقدامات کا جائزہ لے کر اپنے کارڈز کو پھر سے ترتیب دینا ہوگا۔ سابق وزیراعظم کی واپسی ان اقدار اور بنیادوں کو فائدہ دے گی جن کا ذکر انہوں نے اپنے خطاب میں کیا۔ ان میں نمایاں ترین چیز شہری ریاست کے مفہوم کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ ملیشیائی نمونوں اور طرزعمل سے دوری، کسی بھی ملک کی اندرونی جنگ میں وہاں بے قصور لوگوں کی خون ریزی میں عدم مداخلت (حزب اللہ شام، عراق اور یمن میں اس کے برعکس کررہی ہے) اور پارلیمنٹ اور انتخابات میں تعطل اور ٹال مٹول اختیار کرنے سے دور رہنا شامل ہیں۔

لبنان کو اس وقت درپیش چیلنج کسی طور آسان نہیں۔ النصرہ فرنٹ اس کے کئی علاقوں پر قابض ہے۔ حزب اللہ شام میں خون ریز اور گھمسان کی جنگ میں مصروف عمل ہے۔ اس کے علاوہ القاعدہ، داعش اور عبداللہ عزام بریگیڈز کے سلیپنگ سیل ... یہ تمام امور سیکورٹی اداروں اور لبنانی معاشرے کے سامنے کسی بھیانک خواب سے کم نہیں ہیں۔

غیر منضبط سرحدیں اور سیاسی تقطیب وہ اہم وجوہات ہیں جن کی وجہ سے لبنان متعدد دہشت گرد جماعتوں کے لیے کشش کا مرکز بن گیا۔ ان کے علاوہ ملکی وزراء کی اشتعال انگیزی جن کا کردار لبنانی سے زیادہ ایرانی ہوتا ہے۔ اس چیز نے انہیں حکومت کا نہیں بلکہ حزب اللہ کا وزیر بنا دیا ہے۔ وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں پچیس سے زیادہ فرقے اور مسلک پائے جاتے ہیں۔

سعد الحریری کا خطاب درحقیقت اعتدال کی تصویر تھا۔ انہوں نے نہ تو اپنے سنی حامیوں کے لیے گفتگو کی اور نہ ہی مخصوص لبنانیوں کو مخاطب کیا۔ سعد الحریری اپنی زبان پر مسلک سے متعلق کوئی جملہ نہیں لائے بلکہ وہ اپنے خطاب میں لبنانیوں کی طرف ان کی انسانی حیثیت اور شہری شناخت کی بنیاد پر متوجہ ہوئے۔ اسی وجہ سے اگلے روز مطلق العنان جماعتوں نے اپنے اخبارات میں شدید غصے پر مبنی ردعمل کا اظہار کیا۔ السفیر اخبار نے لکھا کہ "الحریری کے خطاب نے نہ صرف میشیل عون کی نامزدگی بلکہ اس سلسلے میں ان کے ساتھ بات چیت کے باب میں بھی قفل ڈال دیا۔ انہوں نے گیند ایک مرتبہ پھر حزب اللہ کے کورٹ میں ڈال دی جو حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کے آخری خطاب کے بعد ان سے دور چلی گئی تھی۔ لہذا الحریری کے موقف نے ایک مرتبہ پھر سے بحران کے قدم مضبوط کردیے ہیں جس کی وجہ سے صدارت کے معاملے کی پیچیدہ گتھی کو جلد سلجھانا خارج از امکان ہوجائے گا"۔

مخالف طاقتیں ان تمام کوششوں کو یکسر بھلا رہی ہیں جو صدارتی بحران کے حل کے لیے سعد الحریری کی جانب سے کی گئیں ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے پہلے سمیر جعجع کو نامزد کیا، پھر میشیل عون کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا یہاں تک کہ اپنے خصوصی طیارے میں ان کے ساتھ ملاقات کی اور پھر اس کے بعد سلیمان فرنجیہ کی نامزدگی... تاہم یہ تمام راستے مسدود ہوگئے ہیں کیوں کہ حزب اللہ دوسری جماعتوں کو اپنے سامنے جھکانا چاہتی ہے اور یا پھر جس طرح ولید جنبلاط نے کہا کہ حزب اللہ چاہتی ہے کہ لبنان میں بھی ایران کی طرح "مجلس برائے تشخیص مصلحتِ نظام" ہونا چاہیے۔

یقینا سابق وزیراعظم رفیق الحریری کی ہلاکت کے 11 سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب میں سعد الحریری کی واپسی نے ریاست کے حامیوں میں خوشی کی جب کہ مطلق العنان اور انقلابی شدت پسندوں کی صفوں میں پریشانی کی لہڑ دوڑا دی ہے۔ مزید برآں آئین اور شہری اور جمہوری اقدار کا احترام کرنے والے ریاست کے نیک طبیعت حامیوں... اور عرب سرزمین پر ملیشیائی طرز عمل کے حامل ان عناصر کے درمیان فرق ظاہر کردیا ہے جن کے ہاتھ بے قصور افراد کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "البيان"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.