.

ہمارے بد خواہ خود بھی بدنامی کی زد میں ہیں

ترکی الدخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تمام بڑے امریکی اخبارات نے گزشتہ ہفتے کے اس واقعہ پر بہت لکھا ہے جس میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی سعودی وزارت کے ارکان نے ایک بیکری میں صلیب سے سجے ایک کپڑے کے مجسمہ کو مذہبی اقدار کی خلاف ورزی کے الزام پر تحویل میں لے لیا تھا۔ اس قسم کے واقعات ہماری شہرت اور نیک نامی کو متاثر کرتے ہیں جس کی خاطر ہم نائن الیون کے بعد سے کروڑوں ریال خرچ کر رہے ہیں۔

دوسرے معاشرے ہمارے بارے میں رائے قائم کرتے ہوئے ہمیشہ منفی اشیا اور معاملات پر انحصار کرتے ہیں اور ان مشہور فلسفیوں کو نہیں پڑھتے جو اعتدال پسند ہیں مثلاً ابن خلدون، ابن رشد اور الکندی وغیرہ۔ نہ ہی وہ ان گلوکاروں اور موسیقاروں کو سنتے ہیں جیسے نصیر شمہ، ام کلثوم اور فیروز وغیرہ۔ اسی طرح وہ ان نامور اسلامی اسکالروں کا مطالعہ نہیں کرتے ہیں جیسے طاہر بن عاشور اور عبداللہ بن بیّہ وغیرہ۔ اس کے بجائے وہ اپنی رائے کی بنیاد اس پر رکھتے ہیں جو کچھ ہم خود ہی کرتے ہیں اور اسے انٹرنیٹ پر پھیلا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشرے ہماری معتدل آوازوں پر توجہ نہیں دیتے۔

اس واقعہ پر جو کچھ ردعمل سوشل میڈیا پر سامنے آتا رہا، اس میں کئی معقول بیانات اور آرا بھی شامل تھیں جو معتدل سعودی شخصیات کی جانب سے تھیں جن میں عادل کلبانی، محمد الجذلانی اور عیسیٰ الغیث شامل تھے۔ یہ لوگ شیوخ ہیں اور اپنے شعبوں کے نامور عالم ہیں، لیکن چونکہ یہ اعتدال پسند ہیں اس لیے مغربی میڈیا اور سوشل میڈیا نے ان کے بیانات اور ٹویٹس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ نہ ہی ان کے بیانات یا ان کا ترجمہ شایع کرنے کی زحمت کی۔

جب بھی اس قسم کا کوئی فتویٰ جاری کیا جاتا ہے جیسا کہ مکی ماؤس کو قتل کر دینے والا، تو ہم اپنی ساکھ اور شہرت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس طرح ہم اپنا چہرہ خود اپنے ہاتھوں سے مسخ کرتے ہیں۔ تاہم ان تمام لوگوں سے جو اس مجسمہ کے واقعے کو اچھال کر خوشیاں منا رہے ہیں، بس اتنا ہی کہوں گا کہ آپ خود بھی بدنامی کے اسکینڈلوں کی زد میں ہوتے ہیں۔ بشکریہ روزنامہ 'عکاظ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.