.

ہم نے لبنان کی امداد روک دی .. اور الہلال کلب چیمپیئن!

ترکی الدخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مذکورہ بالا عنوان درحقیقت میرے ایک دوست کی جانب سے دیا گیا مختصر سا جواب ہے جس کو میں نے دو روز قبل اس دن کے اہم واقعات جاننے کے لیے فون کیا تھا۔ اس نے میرے سوال کا جو برجستہ جواب دیا وہ ہی میرے کالم کا عنوان بھی ہے۔ بہرکیف ہم اپنی گفتگو کا رخ الہلال فٹ بال کلب کے چیمپیئن بننے سے (جو کہ بات چیت میں عام عادت بن چکی ہے) موڑ کر لبنان کی جانب کرتے ہیں جو ہر حال میں ہمارا اور ہم اس کا ایک حصہ ہیں۔

لبنان کو سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی جانب سے جو سپورٹ ملتی ہے وہ قلم اور ورق کے کھیل سے کہیں زیادہ بڑا حجم رکھتی ہے۔ اگرچہ خود غرض اس کا انکار کریں تاہم وفادار اس کی گواہی دیتے ہیں۔ جنگ ہو یا امن سعودی عرب ہر آن لبنان کے ساتھ کھڑا رہا ہے... بلکہ لبنانی مسیحی اس بات کے شاہد ہیں کہ انہیں منظم ملک بدری سے بچانے کے لیے سعودی عرب نے جو کچھ پیش کیا، کسی دوسرے عرب ملک کا موقف اس کے مساوی نہیں ہوسکتا ہے۔ ریاض حکومت نے لبنان میں مذہب اور مسلک کو نہیں دیکھا بلکہ صرف لبنانیوں کو دیکھا اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے لبنانی ریاست کی سپورٹ کی۔

سعودی عرب کا حالیہ موقف لبنان کے نیک طبیعت عوام اور لبنانی تہذیب کے خلاف نہیں بلکہ یہ ان غیر اصولی جماعتوں کی کھلی دشمنی کے خلاف ایک سیاسی قدم ہے جو شہری اور ریاستی اقدار پر یقین نہیں رکھتی ہیں۔

ریاض حکومت لبنان میں فہم وفراست رکھنے والے اعتدال پسندوں کی جانب اپنا ہاتھ سرگرمی سے بڑھائے رکھی گی تاکہ ان اداروں اور تاریخی تمدنی اقدار کو برقرار رکھا جا سکے جن کو انقلابی اور ملیشیائی ثقافت کے ذریعے تباہ کرنے کا ارادہ کیا جا رہا ہے۔

شاہ سلمان کو لبنانی بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں اور ان کے دوروں کو یاد کرتے ہیں۔ لبنانی عوام اپنے لیے سعودی فرماں روا کی نیک تمناؤں سے بخوبی واقف ہیں تاہم دشمنانہ کارروائیوں کے ساتھ پختہ عزم اور جواں مردی سے نمٹنا ناگزیر ہے... آخر کار وہ ہیں بھی تو عزم اور دلیری کے شاہ! ہر اپنا اور پرایا یہ بات جانتا ہے کہ سعودی عرب کی سیادت میں کوئی مزاح نہیں ہوتا... یہاں تک کہ اپنے عزیز ترین دوستوں کے ساتھ بھی! بشکریہ روزنامہ "عكاظ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.