.

جب لبنان ایرانی نو آبادی بن جائے گا!

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں نہیں سمجھتا کہ سعودی عرب نے لبنان کی فوج، سیکورٹی فورسز اور ریاستی اداروں کی امداد روک دینے کا فیصلہ صرف بعض لبنانی ذرائع ابلاغ میں مملکت کے خلاف کہی جانے والی باتوں پر غضب ناک ہو کر کیا۔ بعض اخبارات اور ٹی وی چینلوں کا سعودی عرب اور دیگر اعتدال پسند عرب ممالک کے خلاف ایرانی بیانات کو پھیلانے کی مہم کا حصہ بن جانا.. یہ کوئی ہنگامی بات نہیں۔ میرے نزدیک مملکت کے فیصلے کی وجہ اس سے کہیں زیادہ بڑی اور خطرناک ہے۔

سعودی عرب نے جب ایک خطیر رقم مختص کرنے کا فیصلہ کیا تھا، 3 ارب ڈالر فوج کے لیے اور1 ارب ڈالر سیکورٹی فورسز کے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں اور تربیت کی سطح میں اضافہ کرے... تو اس کے مقابل یہ شرط نہیں رکھی کہ لبنان بیرونی جنگوں میں داخل ہو یا خطے کی سطح پر اتحادوں میں شامل ہو... بلکہ اس رقم کا مقصد مرکزی اتھارٹی کو مضبوط بنانا تھا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ لبنانی ریاستی اداروں کو سپورٹ کیا جائے تاکہ وہ ملیشیاؤں کا مقابلہ کرسکے اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف برسرجنگ ہوسکے۔ ساتھ ہی اس خلاء کو بھی پر کیا جا سکے جو ... رفیق الحریری کے قتل میں بشار الاسد حکومت کے ملوث ہونے کے سبب سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت ... لبنان سے شامی افواج کی واپسی کے بعد پیدا ہوگیا۔

جس دوران سعودی عرب نے لبنانی ریاست کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی سپورٹ کا ہاتھ بڑھایا، اسی دوران حزب اللہ نے اقتدار میں اپنے بڑے حصے پر عدم اکتفا کرتے ہوئے اس پر مکمل قبضہ کرنے کے لیے ہاتھ بڑھا دیے۔ اس نے شام کی جنگ میں اپنے مفادات کے حق میں کام لینے کے لیے لبنانی عسکری اداروں کو بھرتی کرلیا اور اسی طرح لبنان کے اندر بھی ان سے فائدہ اٹھایا۔ اس نے بین الاقوامی فورموں پر ایرانی مواقف کی سپورٹ کے لیے وزارت خارجہ کو استعمال کیا۔ اس کے علاوہ ملک کے بینکاری نظام کا استحصال کیا جو بعد ازاں دنیا بھر میں ممنوعہ سرگرمیوں (منشیات اور ہتھیاروں) سے متعلق تجارت کے لیے خطے کے بہترین نظام کے طور پر جانا گیا۔

لبنان کی مسلسل دو حکومتیں اور جمہوریہ کی صدارت حزب اللہ کو لگام دینے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ اس سے زیادہ خطرناک بات یہ کہ فوج خود اپنے آپ کو فاصلے پر نہیں رکھ سکی شام میں ایرانی جنگ کے لیے حزب اللہ کی بھرتی کا نشانہ بن گئی۔ حزب اللہ نے عرسال جیسے علاقوں میں فورسز کی تعیناتی کے لیے فوج کو گھسیٹا اور پھر شامی اپوزیشن کو دہشت گردوں کا نام دے کر ان کے تعاقب کے لیے فوج پر سواری کی۔ تنظیم نے لبنانیوں اور شامیوں کی جانب سے آمدورفت اور رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال کیے جانے والے راستوں کو بھرنے کے لیے فوج کو استعمال کیا ... اور ان شمالی علاقوں سے دور کردیا جن کو حزب اللہ کے جنگجو شام آنے جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

جہاں تک اندرون کی بات ہے تو حزب اللہ نے بیروت کے جنوب میں اپنے مرکزی گڑھ الضاحیہ میں فوج کے داخلے پر پابندی لگا دی.. تنظیم اس علاقے کو لبنانی ریاست کے اختیار سے باہر شمار کرتی ہے۔ اس طرح کی خبریں بھی گردش میں رہیں کہ حزب اللہ البقاع صوبے کے قصبے ایعات میں ایک فوجی رن وے بنا رہی ہے تاکہ اپنی مشتبہ کارروائیوں میں مزید اضافہ کرسکے۔ اس کے علاوہ بیروت کے ہوائی اڈے کی سیکورٹی پر بھی حزب اللہ کا کنٹرول ہے .. جس کو چاہے اغوا کرلے اور جس سے چاہے پوچھ گچھ کرے ! اس کی ملیشیاؤں نے ایرانی اپوزیشن کی پر امن شخصیات کو اغوا کیا اور میڈیا کو دھمکیاں بھی دیں کیوں کہ اس نے تہران میں مرشد اعلیٰ کو الضاحیہ (لبنان) میں ان کے ایجنٹ پر تنقید کی تھی۔

یہ سارا غصہ ایسے وقت میں بڑھتا دکھائی دے رہا ہے جب کہ امریکی محکمہ خزانہ اور انسداد منشیات کا ادارہ حزب اللہ کے منشیات کی تجارت میں ملوث ہونے کے بارے میں تفصیلی بیانات جاری کرچکے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران فرانس، بیلجیئم، کولمبیا، لتھووینیا اور اسی طرح امریکا میں بھی تنظیم کے متعدد ایجنٹ گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے نیٹ ورک کے بارے میں تحقیقات فروری 2015 سے شروع کی گئیں تھیں۔

یہ واضح ہوچکا ہے کہ حزب اللہ یورپ اور دونوں امریکی براعظموں میں بہت سے ممالک کے خلاف اپنی کارروائیوں کے انتظامی مرکز کے طور پر لبنان کو ہی استعمال کرتی ہے.. ان کارروائیوں میں کالے دھن کو سفید کرنا اور ہتھیار خریدنے کے لیے مالی رقوم کی فراہمی شامل ہے۔ لبنان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا بھر میں منشیات کی اسمگلنگ کی کارروائیوں کا ایک خطرناک ترین انتظامی مرکز بن چکا ہے۔ جس کے سبب متعدد لبنانی بینکوں کو بین الاقوامی نگرانی میں شامل کرلیا گیا اور ان کے ریکارڈ کو آڈٹ کیا گیا۔ حزب اللہ نے دانستہ طور پر دو اداروں فوج اور سیکورٹی فورسز کو اس حد تک کمزور اور بے وقعت کیا .. یہاں تک کہ جب احتجاج کرنے والوں نے کچرے کے ڈھیر پر دھاوا بولا تو کسی نے بھی حزب اللہ کی پرچھائی اور امل تنظیم کے سامنے آنے کی جرات نہیں کی۔

اب اس امر کی کوئی منطق نہیں رہ جاتی کہ سعودی عرب لبنان کے عسکری اور شہری اداروں کی سپورٹ کرے جن میں بعض حزب اللہ اور پھر ایران کے خدمت گزار بنے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کی خواہش تھی کہ وہ لبنان کے ریاستی اداروں اور مرکزی اتھارٹی کو مضبوط کرے یہاں تک کہ وہ اپنے بیرونی اور اندورنی سیاسی فیصلے کی خودمختاری کو سپورٹ کرسکے۔

حزب اللہ نے جانتے بوجھتے ریاست کو برباد اور معطل کرنے کا کردار ادا کیا۔ اس نے حکومتی سربراہوں کی بے دخلی پر مجبور کیا، جمہوریہ کے صدر کے لیے امیدواروں کی نامزدگی کو روکا اور پارلیمانی عمل میں تعطل پیدا کیا تاکہ صدارتی، حکومتی اور فوجی اداروں کو مفلوج کردینے کا مقصد پورا ہو سکے۔ اس کے علاوہ تنظیم نے مرکزی بینک کو بین الاقوامی سطح پر شبہے کے دائرے میں لانے اور وزارت خارجہ کو ایرانی وزارت خارجہ ملحق کرنے پر کام کیا۔

حزب اللہ لبنان کو ایران کی نوآبادی بنانا چاہتی ہے۔ اس کے پے در پے اقدامات عراق، شام اور لبنان پر غالب آ کر وہاں ولایت فقیہہ کا نظام مسلط کرنے کے منصوبے کو یقینی بنانے کی کوششوں کے سوا کچھ نہیں۔ اس سب کے بعد فوج اور سیکورٹی فورسز کو مضبوط بنانے اور ان کو تربیت اور اسلحہ فراہم کرنے کی پالیسی کی کوئی منطق باقی نہیں رہی۔

یہاں تک کہ سعودی عرب کی سپورٹ ختم ہوجانے کے بعد بھی... ایران کی ملیشیاؤں اور اس کے حلیفوں کا مقابلہ کرنے کے لیے "مملکت" لبنانی اعتدال پسندوں کے لیے امید کی کرن رہے گی اور تند وتیز علاقائی جنگ میں لبنان کو ان عناصر کے لیے تر نوالہ بننے کو نہ چھوڑا جائے! بشکریہ روزنامہ "الشرق الأوسط"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.