.

ایران کے لیے حلال ... سعودی عرب پر حرام!

ترکی الدخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فہمی ہویدی بار بار یہ بات کرتے نہیں تھکتے کہ خطے میں ایرانی توسیعی منصوبے کی وجہ ایک جامع عرب منصوبے کا عدم وجود ہے۔ ہویدی کی پیش کردہ اس بات میں الاخوان المسلمون کے بعض دیگر دانش ور مصنفین بھی ان کے ساتھ شریک ہیں۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عرب میدان کسی بھی ٹھوس سیاسی منصوبے سے خالی ہے.. جس کی وجہ سے ایران کو خطے میں اپنے رسوخ اور من مانی پر عمل درامد کا موقع مل گیا۔ یہ لوگ ماضی میں حسنی مبارک کی حکومت کو بھی ہمہ گیر تباہی مچا دینے والی ایرانی توسیع کے سامنے کمزوری دکھانے اور پیچھے ہٹ جانے کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔

فہمی ہویدی الاخوان کے نمایاں ترین دانش ور مصنفین میں سے ہیں۔ ان کا سوانحی خاکہ "ایرانی چڑھائی کے جواز" سے متعلق خیالات کی بنیادوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے افکار پر کڑی نظر رکھنے والوں میں سے جناب علی العمیم بھی ہیں جنہوں نے اس حوالے سے اپنی کتاب "شيء من النقد شيء من التاريخ" میں اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ہے۔ فہمی ہویدی نے خلیجی ممالک میں کام کرچکے ہیں۔ وہ دو دہائیوں تک جریدہ العربی، روزنامہ الشرق الاوسط، جریدہ المجلہ، روزنامہ الیوم کے علاوہ قطری اور دیگر خلیجی اخبارات میں لکھتے رہے ہیں۔

ایرانی روزنامے "الشہادہ" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وہ اس بات کا ذکر کرچکے ہیں کہ ان کے والد عبدالرزاق الاخوان کی تاسیسی کمیٹی کے رکن اور تنظیم کے بانی حسن البنا کے ساتھیوں میں سے تھے۔ روزنامہ الشرق الاوسط کے ساتھ انٹرویو میں وہ سید قطب کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات پر گفتگو کرچکے ہیں۔ اپنے کیریئر کی ابتدا میں وہ الاخوان المسلمین کے ہفتہ وار جریدے میں لکھتے رہے جس کے ایڈیٹر سید قطب ہوتے تھے۔

1980ء کی دہائی کے اوائل سے فہمی ہویدی کے ایران کے ساتھ مضبوط تعلقات رہے اور انہوں نے کئی مرتبہ وہاں کا دورہ کیا۔ ہویدی نے 1986 میں "ایران من الداخل" (ایران اندر سے) کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی۔ وہ احمدی نژاد کی شخصیت کے سحر میں ڈوبے تو فورا ایک آرٹیکل داغ دیا جس کی ابتدا انتہائی دلفریب انداز میں کی گئی۔ اس کا ثبوت آرٹیکل کا عقیدت سے بھرپور یہ عنوان ہے "احمدی نژاد اس انداز سے محو ِ گفتگو ہوئے"۔ یہ آرٹیکل 10 مارچ 2009 کو شائع ہوا۔

یہ تاریخی پس منظر فہمی ہویدی کے پیش کردہ خیالات کو عمومی شکل میں سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا.. جو ہر آن عربوں کی کمزوری اور عرب منصوبوں کے عدم وجود کے مقابل ایرانی چڑھائی کے جواز کا پرچم بلند کیے رکھتے ہیں۔ "العرب وايران" (عرب اور ایران) کے نام سے ان کی تحریر کردہ ایک مکمل کتاب بھی ہے۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ 2003ء میں عراق پر امریکی حملے کے بعد ایران مزید شیر ہوگیا۔ سعودی عرب کے نزدیک درحقیقت یہ جنگ جیسا کہ مرحوم وزیر خارجہ سعود الفیصل نے کہا تھا پورے عراق کو سونے کے طشت میں رکھ کر ایران کے حوالے کرنے کی کارروائی تھی۔ اس کے بعد سے تہران نے پاسداران انقلاب کے زیرانتظام 60 سے زیادہ ملیشیاؤں کی تیاری کا آغاز کیا۔ اس کے اپنے ٹی وی چینل اور اخبارات ہیں اور اس نے خلیج میں اپنے مسلح دھڑوں کو داخل کردیا۔ مئی 2008 میں بیروت پر قبضہ کرلیا اور لبنان کو تباہ کردیا۔ یمن میں بربادی مچا کر براعظم افریقہ کا رخ کیا۔ سیاسی اور مذہبی بنیاد پرستی کو پھیلایا اور فرقہ واریت کو بھڑکایا.. ان تمام باتوں کو ایرانی "منصوبے" کا نام دے کر جواز پیش کرنے والوں کے خیال میں یہ سب چھوٹی سی باتیں ہیں۔

آج کہانی مختلف ہوچکی ہے اور ایران کے ناخنوں کی کٹائی نظر آرہی ہے۔ سعودی عرب نے مارچ 2015 میں بین الاقوامی اتحاد تشکیل دیا جو 1990 میں دوسری خلیج جنگ کے بعد سب سے بڑا فوجی اتحاد ہے۔ سعودی عرب کے اقدام کا مقصد یمن میں آئینی حکومت کی نصرت اور حوثی و ایرانی ملیشیاؤں کی جانب سے اقتدار کو اچک لینے کی کوشش کو لگام دینا ہے۔

15 دسمبر 2015 کو دہشت گردی کے خلاف برسرجنگ ہونے کے لیے سب سے بڑا اسلامی اتحاد قائم کیا گیا جس میں 40 ممالک شریک ہیں۔ یہ اتحاد اس عرب منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد اسلامی ممالک کو ایرانی سرائیت سے بچانا ہے خواہ وہ براعظم افریقا ہو شام ہو یا لبنان... یہ ایک حقیقی اور پختہ عرب منصوبہ ہے تاہم فہمی ہویدی اس کا اعتراف نہیں کرتے بلکہ وہ تو "عاصفة الحزم" آپریشن کے خلاف ڈٹ گئے تھے اور انہوں نے اس اتحاد میں شرکت کو "باعث شرم" قرار دیا۔

یہ وہ ہی ہویدی ہیں جو احمدی نژاد سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی طلسماتی شخصیت میں کھو گئے تھے اور سابق ایرانی صدر سے گفتگو کو ان الفاظ میں بیان کیا "جب سے یہ گمنام شخص منظرعام پر آیا.. ہم نے اس کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا.. اس نے اندرون میں بہت لوگوں کو حیرت میں اور بیرون میں بہت سوں کو غضب میں مبتلا کردیا"۔

یہ لوگ عرب منصوبے کے عدم وجود کو ایرانی جاحیت اور چڑھائی کا جواز بنا کر پیش کیا کرتے تھے... اب جب کہ سعودی عرب کی قیادت میں منصوبہ متعارف کرا دیا گیا ہے تو پھر ایران کی جارحیت اور اس کے انقلابی تباہ کن منصوبے کے ساتھ ان کی ہمدردی پر مبنی مواقف کیوں باقی ہیں؟! بشکریہ روزنامہ "البيان"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.