.

ایران اور حزب اللہ .. طیاروں کے اغوا میں پیش پیش!

ترکی الدخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مملکت سعودی عرب کو ایران اور اس کے دست وبازو کی جانب سے متعدد تخریبی منصوبوں کا سامنا ہے۔ کچھ روز قبل فلپائن کے اخبار 'منیلا ٹائمز' نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے ایسی خفیہ دستاویزات دیکھیں ہیں جن سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ سعودی طیاروں کے اغوا اور دھماکے سے اڑانے کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کے لیے ایک ٹیم ایران سے روانہ ہو گئی ہے۔ چھ یمنی باشندوں سمیت دس افراد پر مشتمل ٹیم کے ارکان کچھ عرصہ قبل مختلف پروازوں کے ذریعے براستہ ترکی جنوب مشرقی ایشیا کے مختلف ممالک پہنچے ہیں جس کا مقصد وہاں رہ کر جرم کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درامد کی کوشش ہے۔

ایران اور اس کے دست و بازو جن میں دہشت گرد تنظیم حزب اللہ ملیشیا سرفہرست ہے.. طیاروں کو نشانہ بنانے کی پوری تاریخ کے حامل ہیں! 29 اپریل 1986 کو کویت نے ایک منصوبہ ناکام بنا دینے کا اعلان کیا، جس کے تحت 12 افراد پر مشتمل ایک گروپ کو کویتی ایئرلائن کا ایک 747 طیارہ اغوا کرکے مشرقی ایشیا میں کسی نامعلوم مقام پر لے جانا تھا۔

تحقیقات کے بعد سازش کا مبینہ ملزم حزب اللہ کی سیکورٹی فورسز کے سربراہ عماد مغنیہ کو ٹھہرایا گیا۔ جس نے 1988 میں کویتی طیارے کو اغوا کرنے کے بعد پہلے اسے ایران میں "مشہد" ایئر پورٹ پہنچا اور پھر اس کے بعد قبرص میں لارنکا ایئرپورٹ پر اتر وادیا۔ کارروائی کے دوران عماد مغنیہ نے دو کویتیوں عبداللہ الخالدی اور خالد ایوب کے سروں میں گولیاں مار کر قتل کیا اور پھر طیارے سے باہر پھینک دیا۔

لبنانی تنظیم حزب اللہ کی قیادت کے براہ راست احکامات کی بنیاد پر مغنیہ نے کویت کی جیلوں میں قید مختلف سزائیں پانے والے 17 مجرموں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ان افراد نے 1983 میں ایک ہی روز دھماکوں کی مختلف کارروائیوں میں بجلی کے مرکزی پاور اسٹیشن، کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے، امریکا اور فرانس کے سفارت خانوں، تیل کے صنعتی کمپلیکس اور ایک رہائشی کمپلیکس کو نشانہ بنایا تھا!

ایران، حزب اللہ اور طیاروں کا اغوا۔۔۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والی کہانی ہے... ایک ایسا جرم جس کی حد نہیں اور ایک ایسا خونی کھیل جس کی انتہا نہیں! بشکریہ روزنامہ "عكاظ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.