.

قصوروار لبنان ہے یا "حزب اللہ"؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حزب اللہ کے خلاف سعودی اقدامات کے بعد اب کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ لبنان کے عوام اس جماعت کی سرگرمیوں سے مطمئن ہیں۔ یہاں یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ سابق لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کی بین الاقوامی تفتیش سے یہ ثابت ہوا تھا کہ یہ قتل حزب اللہ نے کیا تھا۔

صرف حریری نہیں بلکہ کئی اور لبنانی اہم شخصیات جنہوں نے ایران، حزب اللہ اور شامی حکومت کے خوفناک محور کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی تھی وہ سب قتل کر دئے گئے تھے۔ ان شخصیات میں محمد شتاح اور باسل فلیحان جیسے وزرا، فوجی افسر فرانسوا الحاج، حزب اللہ کی نگرانی پر مامور اہم سیکیورٹی افسر وسام الحسن اور ایسے ہی ایک اور افسر میجر وسام عید، اور جارج حاوی جیسے دانشور شامل ہیں۔

چونتیس سالہ نوجوان ممتاز عیسائی رہنما اور حکومتی وزیربپار الجمیّل جو کتائب پارٹی کے لیڈر امین الجمیل کے صاحبزادے تھے، ممتاز ادیب سمیر قیصر اور اخبار النہار کے سابق ایڈیٹر اور ممتاز صحافی جبران توینی بھی حزب اللہ کے شکاروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ٹی وی کی مشہور صحافی میی شدیاق کو بھی کار بم کا نشانہ بنایا گیا، ان کی جان تو بچ گئی مگر ان کا ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ ضائع ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود وہ ابھی تک اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں۔

جب حزب اللہ نے چھہ سال قبل مغربی بیروت میں سنّی علاقوں پر حملے کر کے بے پناہ جانی اور مالی نقصان کیا تو دروز رہنما ولید جنبلاط سنّیوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے کھڑے ہوگئے تھے۔ اس کے بعد حزب اللہ نے پہاڑیوں پر واقع دروز آبادیوں پر حملے کئے جس میں ۴۶ افراد ہلاک اور ۱۲۳ زخمی ہو گئے تھے۔ حزب اللہ اور شام کی شیعہ حکومت کا مقابلہ کرنے والا سب سے دلیر شخص عیسائی رہنما سمیر جعجع کو مانا جاتا ہے جنہوں نے کئی دہائیوں سے اپنا مورچہ سبنھال رکھا ہے۔ یہی نہیں لبنان کے شیعہ افراد کی ایک بڑی تعداد نے بھی حزب اللہ کی شام میں مداخلت کے خلاف بیروت کے ایرانی سفارتخانے کے سامنے مظاہرہ کرنے کی جرأت کی تھی، مگر حزب اللہ کے مسلح افراد نے مظاہرین پر گولی چلا دی جس سے کئی مظاہرین ہلاک اور زخمی ہوئے اور ان کے لیڈر ہشام سلمان کو بڑی بے دردی سے لوگوں کے سامنے ہی قتل کر دیا گیا۔

نامعقول مطالبات

اسی وجہ سے یہ دعویٰ تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے کہ لبنانی عوام نے ایرانی بالادستی کا مقابلہ کرنے کے کوشش نہیں کی۔ حزب اللہ ایک ایسی قوت کا مالک ہے جو اس نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے بہانے سے حاصل کی۔ یہ ایک ایسا جھوٹ جسے ماضی میں سادہ لوح عرب عوام سچ سمجھ کر اس کی حمایت کرتے رہے۔ لبنانی عوام کی اکثریت حزب اللہ سے فوجی اور نظریاتی لحاظ سے چھٹکارا پانا چاہتی ہے۔ اس خواہش کی وجہ داخلی ہے اور اس کا شام اور سعودی عرب سے کوئی تعلق نہیں۔

حزب اللہ نے عوام کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں اور ایسا خوف پیدا کیا ہے جس نے لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا اور ملک کو بھاری مقدار میں سرمایہ کاری سے بھی محروم کر دیا۔ اس کی سرگرمیوں نے بیروت کے مرکزی قدیمی علاقوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا جہاں اس نے اکثر حملوں اور مظاہروں کے ذریعے مخالفین اور سیاحوں کو خوف میں مبتلا کئے رکھا ہے۔ لبنانی عوام سے یہ مطالبہ بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ایران اور حزب اللہ کا مقابلہ کریں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بیرونی طاقت ان کی مدد کرنے پر تیار نہیں ہے۔ یہی معاملہ شام کے عوام کا بھی ہے جن کا بڑی بے دردی سے قتل عام کیا جا رہا ہے۔

لبنانی فوج کے لئے سعودی امداد کی بندش درست اقدام ہے۔ اس امداد کا مقصد ریاستی اداروں کو حزب اللہ اور داعش جیسی انتہا پسند تنظیموں کے مقابلے کے لئے مستحکم بنانا تھا مگر حزب اللہ نے شام کے عوام کے خلاف اپنی جنگ میں لبنانی فوج کو جھونک رکھا ہے جس کی مدد سے وہ اگلے محاذوں اور گزرگاہوں کو محفوظ بناتی ہے۔ لبنانی فوج کے افسران کی ایک بڑی تعداد حزب اللہ کے سامنے بے بس ہے۔

ریاض کا فیصلہ دانشمندانہ ہے کیونکہ اس سے حزب اللہ کی قوت متاثر ہوتی ہے۔ سعودی عرب نے بیروت جانے والی فلائٹس بھی معطل کر دی ہیں، اپنے شہریوں کو لبنان سے نکل جانے کا حکم دیا ہے اور حزب اللہ سے رابطے رکھنے والی کمپنیوں اور افراد کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ یہ تمام اقدامات ایران اور اس کے 'پیادے 'کا مقابلہ کرنے کے لئے درست ہیں، خصوصاً حزب اللہ کے اس منصوبے کے افشا ہونے کے بعد جس کے تحت وہ فلپائن میں سعودی مسافر طیارے کو اغوا کرنے والی تھی۔

میرا خیال نہیں ہے کہ سعودی عرب ،حزب اللہ کا مقابلہ کرنے والی قوتوں کی حمایت بند کرے گا اور نہ ہی اس سے تعلق نہ رکھنے والے لبنانی شہریوں سے لین دین بند کرے گا۔ میرا خیال ہے کہ ریاض، حزب اللہ اور ایران کا مقابلہ کرنے والی تمام قوتوں بشمول ایرانی حزب اختلاف اور لبنانی باشندوں کی حمایت میں اضافہ کر دے گا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.