.

مصر: ترکی کے ساتھ ہے یا ایران کے؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مختلف ذرائع سے آنے والی خبروں سے معلوم ہو رہا ہے کہ ان دنوں اخوان المسلمون اور مصر کی حکومت درمیان مبینہ صلح کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مصالحت کی کوششیں ترکی اور مصر کے درمیان بھی جاری ہیں جن میں اس وقت گڑ بڑ ہوگئی جب غزہ میں حماس (اسلامی تحریک مزاحمت) کے۔ رہنماوں، سخت گیر محمود الزھار اور معتدل اسامہ حمدان نے مصری قیادت کی تعریفیں کیں۔

حماس کے رہنماوں کے تبصروں کی وجہ دو چیزیں ہوسکتی ہیں جو خود آپس میں متضاد ہیں۔ حماس ایک طرف تو اخوان المسلمون کے ساتھ ہے اور دوسری طرف ایران کی مستقل اتحادی بھی ہے۔ ماضی میں یہ ممکن تھا کہ ترکی اور ایران کی مشترکہ حمایت کی جا سکے مگر آج ان دونوں کی بیک وقت حمایت ناممکن ہے۔ آج یا صرف ترکی کا اتحادی بنا جاسکتا ہے یا پھر صرف ایران کا ساتھ دیا جاسکتا ہے کیونکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف جنگوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایرانی عسکریت پسند تنظیمیں کافی عرصہ سے شام کی خانہ جنگی میں ترک اتحادی اپوزیشن کے خلاف لڑ رہی ہیں اور آج یہ لڑائی ترکی کی سرحدوں کے قریب لڑی جارہی ہے۔

سابق مصری صدر ڈاکٹر مرسی کے دور سے قاہرہ نے شام کی خانہ جنگی میں کسی بھی فریق کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا جو آج بھی قائم ہے، اگرچہ مصر میں دوسرے انقلاب کے بعد جنرل عبدالفتاح السیسی کی حکومت اپنے داخلی امور میں ترکی کی مداخلت کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے اور اسی لئے اخوان المسلمون کی حمایت بھی کر رہی ہے۔

تاریخی تعلقات

اسی دوران مصری حکومت ایران سے دور ہو گئی ہے۔ قاہرہ کی تاریخی حکمت عملی یہ رہی ہے، بالخصوص سابق صدر جمال عبدالناصر کے دور سے مصر نے ایران کے خلاف ایک متوازن کردار ادا کیا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں جمال عبدالناصر، شاہ ایران کی خلیجی ممالک پر حاوی ہونے کی پالیسی کے خلاف کھڑے ہو گئے تھے۔ انوار سادات خمینی حکومت کے خلاف تھے اور انہوں نے معزول شاہ ایران کا استقبال کیا تھا۔

دوسری جانب ایرانیوں نے انوار سادات کے قاتل کو بڑی عزت اور احترام دیا اور ایران کی ایک اہم سڑک بھی اس کے نام سے موسوم کر دی۔ انوار سادات اور تنہائی کے شکار حسنی مبارک نے جمال عبدالناصر کی پالیسی اپنائے رکھی۔ مگر دوسرے تنہا صدر مرسی نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی کھڑکی کھولی اور تعلقات پر جمی برف توڑ کر ایران کا دورہ کیا اور پھر صدر احمدی نژاد کا استقبال بھی کیا جو کہ مصر کا دورہ کرنے والے پہلے ایرانی صدر تھے۔

مستقبل سے کیا توقعات ہیں؟

افواہوں کے باوجود میرا خیال ہے کہ قاہرہ، ایران کو قبول نہیں کر سکے گا، بالخصوص موجودہ سنگین حالات میں جب ایرانی حکومت عربوں کے خلاف ایک بہت بڑی جنگ لڑ رہی ہے جو ۴۰ سال قبل کے انقلاب کے بعد سے وسیع ترین جنگ ہے۔ اگر مصری حکومت اپنے واحد مخالف، اخوان المسلمون سے سمجھوتا کر لے تو یہ ایک معجزہ ہی ہوگا۔ کیا اخوان کی مصری حکومت کے خلاف کارروائیاں ختم کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ واپسی کے خواہشمند نادم افراد کے لئے قاہرہ ایئر پورٹ کے دروازے کھل جائیں؟ اگر قاہرہ ،ایران کے قریب ہوجائے تو یہ بھی معجزہ ہوگا، مگر دو معجزے ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔ اس میں پروٹوکول تعلقات میں بہتری شامل نہیں ہے کیونکہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

اگر اخوان المسلمون سے مفاہمت قاہرہ کی شرائط پر ہوجائے تو یہ اس خطے کی ایک سب سے بڑی آگ اور کشیدگی کو ٹھنڈا کر دے گی۔ اخوان المسلمون خطے میں پھیلی ہوئی ایک وسیع تحریک کا ایک چہرہ ہے جو کئی محاذوں پر لڑ رہی ہے۔ قاہرہ کی اخوان سے مفاہمت لا محالہ مصر۔ترکی مفاہمت کا باعث بنے گی۔ مصر اور ترکی میں تنازعہ کا خاتمہ شام کی جنگ میں ایران کے خلاف عربوں کی تقویت کا باعث ہوگا، اور عراق کی حکومت پر سے دباو کم کردے گا جو امریکی فوج کی واپسی کے بعد سے تنہا ہوگئی ہے۔ عراق اس وقت اندرونی اور بیرونی مخالفت پر قابو پانے کے لئے تنہا کوششیں کر رہا ہے۔

دوسرا معجزہ مصر اور ایران کے تنازع کا خاتمہ ہے جس کی جانب حماس نے اشارہ کیا ہے۔ اس سے مصری حکومت کو ایک کامیابی ملے گی اور وہ ہے ترکی کا محاز کمزور کر کے اخوان کو بے اثر بنانا۔ اس صورت میں مصر خلیج میں اپنی اہم تزویراتی پوزیشن کھو دے گا۔ خلیج تعاون کونسل میں مصر کے معاملات پر اختلافات کے باوجود رکن ممالک نے ایران کے لئے کسی بھی تعصب کومسترد کرنے پر اتفاق کیا تھا اور یہ شام کے تنازعہ پر ان کے موقف کی ایک بہت بڑی وجہ بھی ہے۔ تاہم مصر کا ایران کی طرف پلٹنا ایسا امکان ہے جس کی توقع بہت کم ہے، اگرچہ کچھ مصری مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ مفاہمت وقت کی ضرورت ہے۔

سیسی حکومت نے اپنے لئے ایک اندرونی حکمت عملی بنائی ہے جس میں اس کی توجہ عوام کے بڑے مسائل کے حل اور ترقی کے کاموں کو عوامی قبولیت کا جواز دینے پر مرکوز ہے۔ اس نے خود کو بیرونی تنازعات سے دور ہی رکھا ہے۔
------------------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.