.

کیا خلیجی ریاستوں کو لبنانیوں کو بے دخل کردینا چاہیے؟

ترکی الدخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کو تمام لبنانی عوام کے ساتھ مسئلہ درپیش نہیں ہے بلکہ اس کو صرف ان مٹھی بھر لوگوں سے مسئلہ لاحق ہے جنھیں ایران کنٹرول کرتا ہے اور جس نے خلیجی ممالک اور عربوں کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے۔لبنانی عوام اور سعودی مملکت کی دوستانہ تاریخ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر احمد العرفاج نے ایک مضمون ''لبنانی عوام کی بے دخلی ہر کسی کے لیے باعث رحمت ہے'' کے عنوان سے لکھا ہے۔انھوں نے تمام لبنانی عوام کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے دراصل انتہا پسندانہ رائے ظاہر کی ہے۔انھوں نے ان کے درمیان کوئی تمیز نہیں کی ہے اور چند ایک لوگوں کے اعمال پر تمام لبنانیوں ہی کو مورد الزام ٹھہرا دیا ہے۔

ان کے بہ قول ایک متنوع ملک ،جس میں مختلف فرقے شامل ہیں،تمام کا تمام ہی اس ایک جارحیت پسند اقلیت کی کارستانیوں کا ذمے دار ہے،جس نے ریاست کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔

شاید عرفاج نے لبنانی میڈیا کے بعض ذرائع میں حالیہ مبالغہ آمیز تحریروں کے ردعمل میں یہ مضمون قلم بند کیا ہے۔یہ شاید غیر اخلاقی امر ہوگا کہ لبنانی عوام کے خلیجی ممالک کی ترقی میں کردار کو بالکل نظر انداز کردیا جائے۔

مضمون نگار نے ترقی کے عمل میں فلسطینیوں ،سوڈانیوں ،اردنیوں اور مصریوں کے غیر متنازعہ اور نمایاں کردار کو اجاگر کیا ہے اور لکھا ہے کہ لبنانی اس وقت منافع کمانے کی غرض سے خلیجی ممالک میں آئے تھے جب وہ ترقی کی منازل طے کرچکے تھے۔

اجتماعی سزا

لبنان میں دہشت گردوں سے سیاسی اختلاف کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم بھی انتہا پسندانہ طرزعمل اختیار کر لیں کیونکہ یہ ان لوگوں کے خلاف ایک سوچا سمجھا ردعمل ہوگا جو ہمیشہ سے ہم سے محبت کرنے والے اور مہربان رہے ہیں۔

سخت اور فیصلہ کن اقدامات صرف ان لوگوں کے خلاف کیے جانے چاہییں جو مسلح ملیشیاؤں کے فریم ورک کے تحت کام کررہے ہیں اور لبنانی ریاست سے احکامات لینے کے بجائے ایران سے احکامات لے رہے ہیں۔

ہم یہ خواہش نہیں کرتے کہ ہمارے پیارے لبنانی بھائیوں اور بہنوں کو سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے بے دخل کردیا جائے کیونکہ ہم ان کا حصہ ہیں اور وہ ہمارا حصہ ہیں۔انھیں معاشرے کے ایک طبقے کے اعمال کا بوجھ نہیں برداشت کرنا چاہیے۔
----------------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.