.

سعودی پالیسی کا گھونگٹ اٹھنے کو ہے!

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گو کوئی واضح اعلان جاری نہیں کیا گیا، تاہم یہ راز کھل گیا ہے کہ سعودی عرب کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان ا س کا ساتھ دے گا۔
ان دنوں وزیر اعظم اور آرمی چیف سعودی عرب کے تین روزہ دورے پر ہیں، یمن کے بحران کے بعد سے پاکستانی قیادت نے سعودیہ کے کتنے دورے کئے ا ور سعودی شہزادے کتنی بار پاکستان آئے،اس کا حساب کسی کمپیوٹر ریکارڈکی مدد سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔اور پھر بھی یہ بتانا مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے کہ ان دوروںمیں کیا کچھ طے ہوا، پاکستانی حکومت نے تو بیس کروڑ عوام کو اپنی سعودی پالیسی کی ہوا تک نہیں لگنے دی۔ جیسے وہ زبان کھولیں گے تو کسی گناہ کبیرہ کا ارتکاب کر بیٹھیں گے۔4

اسے میں پاکستان کی امریکہ نواز پالیسی کبھی ڈھکی چھپی نہیں رہی، مشرف ایک فوجی ڈکٹیٹر تھا، اپنے آپ کو کمانڈو کہتا تھا، اپنی طاقت دکھانے کے بڑے دعوے کرتا تھامگر کسی ادنی قسم کے امریکی حکومتی عہدیدار کے آدھی رات کے ٹیلی فون پروہ چوں چاں بھی نہ کر سکا۔اس مشرف کوہمارے ہر سیاستدان نے بزدل قرار دیا، امریکی پٹھو کہا، پاکستانیوں کا لہو فروخت کرنے کا الزام بھی اس پر دھرا مگر یہی معترض سیاستدان جب جمہوریت کالبادہ ا وڑھ کر اقتدار میں آئے تو کیا زرداری اور کیا نواز شریف ،دونوں ہی اس پالیسی پر کاربند رہے جو مشرف جیسے فوجی ڈکٹیٹر نے انتہائی بزدلانہ حرکت کرتے ہوئے آدھی رات کو تشکیل دی تھی۔یہ پالیسی آج بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

مگر سعودی عرب کی بار بار کی درخواستوں کے باوجود ہم نے کھل کر بات نہیں کی، خود بھی سعودیہ کے پھیرے لگائے اور سعودیوں کو بھی پاکستان کے پھیرے لگانے پر مجبور کیا مگر لگتا یہ ہے کہ با لآخر ہواوہی جو سعودیہ چاہتا تھا اور یہ کوئی بری بات نہیں،بری بات یہ تھی کہ ہم اس پالیسی کو اپنے عوام سے چھپاتے رہے، جب پہلے دن ایک عرب اتحاد کا اعلان ہوا تو ہم نے یہ اعتراض کرناضروری سمجھا کہ ہم تو اس اتحاد کا حصہ نہیں مگر ہمارا قومی پرچم سعودی فوجی ترجمان کے پس منظر میں کیوں دکھایا گیا ہے۔بری بات یہ بھی تھی کہ جب سعودیہ نے ایک وسیع تر فوجی اتحاد کا اعلان کیا تو بھی ہم نے اپنے عوام سے اصل حقیقت کو مخفی رکھنے کی کوشش کی ا ور یہ کہنا ضروری سمجھا کہ ہمیں تو بتایا ہی نہیں گیا کہ ا س اتحاد میں ہمارا کردار کیا ہے، دبی دبی زبان میں ہم نے یہ بھی کہہ دیا کہ ہمارا کوئی فوجی، سعودی عرب نہیں جائے گا۔اور اب ہم کھلے عام اس وسیع تر فوجی اتحاد کی مشقوںمیں شرکت کر رہے ہیں اور ہمارے وزیر اعظم ا ور ہمارے ا ٓرمی چیف دونوں اس اہم موقع پر سعودیہ میںموجود ہیں اور دھوم دھام سے استقبال پر شاداں و فرحاں دکھائی دیتے ہیں۔

چلیے۔ ہماری سعودی پالیسی کے بلی نے تھوڑا سا سر تھیلے سے باہر سرکایا ہے، کچھ تو اس کے چہرے سے نقاب اترا ہے،ا ور کھل جائیں گے دوچار ملاقاتوں میں۔اتنی سی بات ہم پہلے روز بھی کہہ سکتے تھے کہ سر زمین حرمین شریفین کو خطرہ لاحق ہوا تو ہم دل و جاں سے قربانی دینے کے لئے تیار ہوں گے۔

مگر ہم نے یہ مفروضہ قائم کر لیا کہ سعودیہ کو خطرہ ایران سے لاحق ہے ا ور دو برادر دوست ممالک کے تنازع کی اوکھلی میں ہم سر دینے کے لئے تیار نہیں۔اس کے بجائے ہم یہ بھی سوچ سکتے تھے کہ سعودی عرب کو داعش سے خطرہ ہے، القاعدہ سے خطرہ ہے، نادیدہ طاقتوں کے ہتھ چھٹ دہشت گردوں سے خطرہ ہے، اسرائیل کے مذموم عزائم سے خطرہ ہے جس نے گریٹر اسرائیل کے نقشوں میں مدینہ منورہ کو بھی شامل کرر کھا ہے۔ان خطرات کے خلاف سعودیہ کی مدد کرنے پر ایران کو بھی کوئی اعتراض نہ ہوتا۔

ہمارے ہاں ایک کلیشے ہے کہ دنیائے عرب کا بادشاہی نظام ان ممالک کے عوام کی نمائندگی نہیں کرتا۔ مطلق جمہوریت کی ڈکشنری کی رو سے ہم ٹھیک ہی کہتے ہوں گے مگر اسی ڈکشنری میں جاپان کے شاہی نظام کو کیسے قبول کر لیا گیا ۔ مادر جمہوریت برطانیہ کی ملکہ کو کیسے شرف قبولیت حاصل ہے۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈمیں ملکہ برطانیہ کی حکومت کیسے قائم چلی آ رہی ہے۔ کینیڈا جیسے جدید جمہوری ملک نے ملکہ برطانیہ کی سیادت کو کیوں سر آنکھوں پر سجا رکھا ہے ناروے، ڈنمارک، سویڈن، بلجیئم، مالٹا، مناکو، اسپین، جمیکا، لکسمبرگ، باربا ڈوس، سوازی لینڈ، لیسوتھو، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، پاپو انیوگنی وغیرہ وغیرہ میں موروثی بادشاہت کیوں پھل پھول رہی ہے اور ہمارے دانشوروں کو ان بادشاہتوں پر کبھی کوئی اعتراض نہیں رہا، اعتراض رہا تو صرف بادشاہتوں ا ور امارتوں پر۔

ہمیں یہ حیا کبھی نہ آئی کہ ہمارے جج صاحبان تو فوجی ڈکٹیڑوں کو نظریہ ضرورت کے تحت قبول کرتے رہے ہیں، ہماری پالیمنٹ ان فوجی آ ٓمروں کے دور کو انڈمنٹی عطا کرتی رہی اور کبھی کوئی جمہوری حکومت آ بھی گئی تو انجنیئرڈ نتائج کے تحت اور اس نے بد تر آمرانہ شخصی نظام مسلط کر دیا، کیا پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں کسی کو اپنے لیڈر کے سامنے زبان کھولنے کی ہمت ہے، تحریک انصاف کا سربراہ تو خیبر پی کے اسمبلی کا رکن بھی نہیں مگر بنی گالہ کی چوٹی سے صوبائی حکومت کو ڈکٹیٹ کرتا ہے، ہمیں کبھی اپنے اس قسم کے رویوں پر شرم محسوس نہ ہوئی مگر ہم نے عرب بادشاہتوں ا ور امارتوں کو کھل کرہدف تنقید بنایا۔ہمارے ایک فوجی ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے برملا کہا کہ ا ٓئین تو ردی کے کاغذوں کا ڈھیر ہے، میں اسے جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں، یہی بات ہمارے ایک منتخب وزیر عظم نوازشریف نے یوں فرمائی کہ یہ ا ٓئین میرے راستے میں رکاوٹ ہے۔ایک منتخب وزیر اعظم بے نظیر نے کہا کہ میں چاہوں تو جہانگیر بدر کو چیف جسٹس لگا دوں اور اس نے آئی ایس آئی میں ایک ریٹائرڈ جنرل کو مامور کر کے اپنے اختیارات کا جلوہ دکھا بھی دی اور ہم پھر بھی جمہوریت کے چاچے مامے بنے رہے۔ اور عرب بادشاہتیں اور امارتیں ہماری مغلظات کا نشانہ بنتی رہیں۔ ساتھ ہی ہمیں یورپی بادشاہتوں پرکبھی کوئی اعتراض کرنے کی توفیق نہ ہو سکی۔

اب نجانے وزیراعظم اورا ٓرمی چیف سعودیہ گئے ہیں تو کیا طے کر کے آئیں گے۔یہ نظام بھی ہمیں قبول ہے کہ ایک منتخب وزیر اعظم اور ایک آرمی چیف کو شریک اقتدار کے طور پر قبول کرلیا جائے مگر ہمیں اعتراض ہے تو اپنی سعودیہ پالیسی پر جس نے گھونگھٹ بھی نہیں ا ٹھایا۔ یہ بہت شرمیلی سی ہے۔ بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
-------------------------------
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.