.

اگر آپریشن فیصلہ کن طوفان نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

ترکی الدخیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند ہی روز بعد یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کے آپریش فیصلہ کن طوفان کو ایک سال پورا ہوجائے گا۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خطے میں سر اٹھانے والی برائی کے خلاف لڑائیوں کی قیادت کی ہے۔

ایرانی اور ان سے وابستگان نے یہ خیال کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کا شمال اور جنوب کی جانب سے محاصرہ کرسکتے ہیں اور باقیوں نے بھی یہ یقین کر لیا تھا کہ انھوں نے سعودی دانش کا اندازہ کر لیا ہے۔تاہم انھوں نے سعودی عرب کے صبر وتحمل کا غلط اندازہ لگایا تھا۔مضبوط سعودی فوج اور سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے بے شمار ناپاک سازشوں کو ناکام بنایا ہے۔

یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے آپریشن کےخلاف اس کے آغاز کے بعد سے تقریروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔حزب اللہ ملیشیا کے لیڈر حسن نصراللہ شاذ ونادر ہی تقریریں کرتے ہیں۔تاہم وہ اس آپریشن کے آغاز کے بعد سے بہت تقریریں کر چکے ہیں۔

انھوں نے ایک ہفتے میں تین تین لمبی اور اکتا دینے والی تقریریں کی ہیں تاکہ وہ اپنے آلودہ ہاتھوں کو چھپا سکیں۔دس سال ہوتے ہیں،حزب اللہ ''مزاحمت'' کے دھوکا دہی پرمببنی نظریے پر شاداں تھی اور اس نے اسرائیل کے ساتھ محاذ آرائی شروع کردی تھی لیکن اس کی اس مہم جوئی کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ لبنانی مارے گئے تھے۔

فیصلہ کن طوفان سے روگ ریاستوں اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں کا راستہ روکا گیا ہے۔اس سے یمن میں قانونی حاکمیت مضبوط ہوئی ہے اور وہاں مضبوط قدم جمانے کی راہ پر ہے۔اس سے یمنیوں کی امید بحال ہوئی ہے اور ایرانی جارحیت سے نمٹنے کے لیے خلیجی کام کو منظم کیا گیا ہے۔

ذرا تصور کیجیے کہ اگر شاہ سلمان نے آپریشن فیصلہ کن طوفان کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی یمن منتقل ہوچکے ہوتے اور ہمارے ملک کو ہدف بنانے کی منصوبہ بندی کرچکے ہوتے۔اگر شاہ سلمان فیصلہ کن طوفان کا آغاز نہ کرتے تو ہم حزب اللہ کی تربیت یافتہ یمن کی غیر قانونی مسلح فورسز کے رحم وکرم پر ہوتے اور وہ ہمارے ملک کو ہدف بنا رہے ہوتے۔
--------------------------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.