.

شام ۔۔۔ بکھرتے خواب

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:


شام میں اڑھائی لاکھ بچے بھوک کا شکار ہیں اور وہ انتظار کر رہے ہیں کہ مدد یا خوراک کا نہیں، موت کا۔ یہ بات عالمی ادارے ''سیو دی چلڈدن''نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔ اس نے کہا کہ ان میں سے بہت سے بچے مر چکے ہیں۔ جو زندہ ہیں وہ درختوں کے پتے ابال کر کھا رہے ہیں۔ ان میں سے چند سو بچو ں کے ساتھ تنظیم نے انٹرویو کیے۔ ان میں سے اکثر بچوں نے نمائندوں سے پوچھا''میں کب مروں گا''انکل میری باری کب آئے گی؟ ان بچوں کے پاس کرنے کو کچھ نہیں، سکول تباہ ہو چکے ہیں، کھیل کے میدان ویران پڑے ہیں پتے ڈھونڈنے اور ابالنے کے بعد جو وقت بچ جاتا ہے اس میں وہ خالی نظروں سے آسمان کو گھورا کرتے ہیں، اس انتظار میں کہ ہماری باری کب آئے گی۔اقوام متحدہ کے ریلیف ادارے کی رپورٹ کے مطابق شام کے محصور علاقوں میں پانچ لاکھ سے زیادہ آبادی بھوک کے ہاتھوں مر رہی ہے اور ان میں سے ہزاروں افراد ہلاک ہو رہے ہیں ۔ امریکا، برطانیہ اور روس نے صرف چند محصور علاقوں تک خوراک پہنچائی ہے ۔ لگتا ہے باقی علاقوں کو یہ ملک جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں۔

پاکستان میں کوئی یہ کہے کہ امریکا، شام سے مسلمانوں کا ریوڑمٹانا چاہتا ہے تو کہنے والے کو روشن خیال حضرات ''انتہا پسند''قرار دیں گے۔ لیکن بی بی سی کی ویب سائٹ پر ایک مضمون ''جن کو بوتل میں بند کرنے کی کوشش''کے عنوان سے ایک رپورٹ موجود ہے۔ اس میں یہ فقرہ لکھا ہوا ملے گا کہ ''ری پبلکن پارٹی کے رہنما اپنی نجی ملاقاتوں میں یہ بات صاف الفاظ میں کہتے ہیں کہ شام اور عراق پر اتنی بمباری کرو کہ کوئی ذی روح نہ بچے۔ کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے ۔۔۔ روس اور ایران کی خواہش ہے کہ شام میں ساری شامی آبادی محاصروں اور دانہ پانی بند کر کے مار دو ۔ صرف بشار کا قبیلہ باقی رہ جائے۔ امریکا بہرحال اتنا ظالم اور بے رحم نہیں۔

ری پبلکن پارٹی کے رہنما جو چاہیے کہیں اور ڈیمو کریٹ بھی ان سے کوئی زیادہ پیچھے نہیں لیکن عملی طور پر وہ اتنا بڑا ظلم نہیں کرے گا اس کی خواہش صرف آدھی آبادی مارنے کی ہے اور یہ ہدف حاصل کرنے میں کچھ زیادہ وقت نہیں لگے گا اور زیادہ وقت ہے بھی نہیں ، امریکا اور روس میں کئی امور پر اتفاق ہو گیا ہے اور سال کے آخر تک شام کا مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں ۔ ملک کی آدھی آبادی وطن چھوڑچکی ہے پانچواں حصہ ماری جا چکی ہے، جو وطن چھوڑ گئے ہیں ان میں سے اکثر واپس نہیں آئیں گے۔ ''جنگ بندی'' جاری ہے پھر بھی امریکا اور روس ہر روز بمباری کر رہے ہیں۔ مغربی صحافی رابرٹ منگ نے صرف ایک شہر ''الرقہ'' کے بارے میں لکھا ہے کہ ہر ملک اس پر بمباری کر رہا ہے اور لگتا ہے کہ یہ ملک باغیوں کو نہیں الرقہ شہر کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ سال کے آخر تک مرنے والوں کی تعداد آٹھ لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

اتفاق رائے دیکھئے۔ امریکا نے شمالی شام کے کردعلاقے میں دومغربی اڈے بنا لیے ہیں ۔ ایک حسکہ میں دوسرا کوبانی میں ۔ روس نے ساحلی علاقے اللطاقیہ اور طرطاس کے مقامات پر دو اڈے بنا لیے ہیں۔ خلاف روایت اور خلاف عادت ، امریکا نے روس کے اڈوں پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور امریکی اڈوں پر روس خاموش ہے ۔ پہلے کبھی کہیں ایسا ہوا ہے یہ شام کی تقسیم کی تیاری ہے اور اس کے علاوہ بھی کچھ۔ دونوں ملکوں کے اڈے ترکی کی سرحد پر ہیں ۔ شام کا مسئلہ اس انداز سے حل کیا جائے گا کہ ترکی خطرات میں گھر جائے ، اس کی معیشت پر دباؤ آ جائے اور آزادانہ کردستان کی فوج ترک علاقے پر دھاوا بول دے۔ ظاہر ہے کہ اس جنگ میں جو مستقبل قریب میں ہوسکتی ہے امریکا اپنے ''نیٹو اتحادی''ترکی کا ساتھ نہیں دے گا، بلکہ مذاکرات کا ایک اور دور ہو گا جس میں ترکی سے کہا جائے گاکہ وہ خوان خرابے اور تباہی سے بچنے کیلیے اپنا علاقہ کردستان کے دے دے۔ ترکی میں اس وقت 25 سے27 لاکھ شامی مہاجرآباد ہیں جن کی دیکھ بھال پر ترکی کو بے پناہ رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہیں ۔مزید مہاجر آ رہے ہیں اور جو اڑھائی لاکھ مہاجر یورپ کی مختلف سرحدوں پر پھنسے ہوئے ہیں ، متعلقہ یورپی ممالک نے ان کے لیے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں اور انہیں واپس جانے کو کہا جا رہا ہے ۔ یہ '''واپس' کس ملک کا نام ہے؟ ظاہر ہے ترکی کا۔

فی الوقت ترکی زیادہ پریشان نہیں۔ سعودی عرب اس کی مدد کر رہا ہے اور خود کی معیشت میں بھی ابھی تک اتنا دم ہے کہ وہ جلدی لڑکھرائے گی نہیں۔

ایران نے شام میں جو خواب حقیقت سمجھ کر دیکھا تھا وہ امریکا اور روس کی بھر پور مدد کے باوجود بکھر رہا ہے۔ ابھی کل ہی ایران نے یہ اعتراف کیا ہے کہ شام کی فوج کو حریت پسندوں کے ہاتھوں پے در پے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اب جنگ بندی کا عرصہ اچھی مہلت ہے۔ و ہ خود کو پھر سے منظم کر لے۔ ایسا ممکن نہیں ۔ شام کی جنگی مشین برباد ہو چکی ہے میدان جنگ میں جو لڑ رہی ہے وہ شامی فوج نہیں ۔ایرانی سپاہ ہے ۔ صرف حلب کے نواح میں ایران کی چالیس ہزار سپاہ موجود ہے، ہر ہفتے تک ایرانی جنرل مارا جا رہا ہے۔ ایران کہتا ہے اس کے صرف چند ہزار سپاہی شام میں ہیں لیکن چند ہزار سپاہی ہوں تو اتنے جنرل نہیں مارے جاتے۔ اس کے ساتھ حزب اللہ کے دستے ہیں جو مہیب جانی نقصان اٹھانے کے بعد اب خوفزدہ ہیں۔ شام کے پاس سچ پوچھیئے تو بس فضائیہ رہ گئی ہے۔ یہ جدید جنگی تاریخ کا ایک ناقابل یقین باب ہے کہ امریکا کی مکمل فضائی چھتری کے باوجود چار برس کی جنگ میں شامی فوج خود کو تباہ ہونے سے نہ بچا سکی اور اس کے 70 ہزار فوجی ہلاک اور ایک لاکھ کے قریب زخمی ہوکر ناکارہ ہو گئے۔ پچاس ہزار کے قریب بھگوڑے ہوگئے۔

یہ روس کے میدان میں آنے سے پہلے کا ماجرا ہے۔ روس کے آنے کے بعد ایرانی سپاہ نے دمشق کے جنوب میں پانچ قصبات حریت لیڈروں سے چھین لئے اور حلب کے نواح میں بھی ایک اہم فوجی اڈے کے علاوہ آٹھ نو قصبے قبضہ میں کئے لیکن کوئی اہم شہر لینے میں کامیابی نہیں مل سکی۔ حلب کے محاذ پر جو جنگ ہوئی اس میں ایک ہزار فوجی مارے گئے۔ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں ہی کی وجہ سے ''جنگ بندی'' کا اعلان ہوا ورنہ روس اور شامی حکومت کا یہ اعلان اس سے پہلے ریکارڈ پر موجود ہے کہ چند روز میں حلب واپس لے لیا جائے گا۔ لیکن زور آزمائی پر پتا چلا کہ حضور، حلب کافی دور است ، ناچار جنگ بندی کرنا پڑی۔ جنگ بندی سے ذرا پہلے حریت لیڈروں نے کئی قصبات شامی فوج سے دوبارہ چھین لئے۔

حلب کے میدان میں ایرانی سپاہ اور روسی، امریکی فضائیہ کی سب سے بڑی بلکہ واحد بڑی کامیابی یہ تھی کہ حلب کو ترکی سے ملانے والے کشادہ راستے کو انہوں نے کاٹ دیا لیکن سپلائی لائن کے کچھ دوسرے اور دشوار گزار راستے بدستور حریت لیڈروں کے قبضے میں رہے۔ مسئلہ اتنا دشوار ہوگیا کہ امریکا کو حکمت عملی بدلنا بڑی۔ شام کی تقسیم کے بعد بھی یہاں امن نہیں ہوگا، اگر بشار اپنی کرسی پر رہنا ہے جبکہ منقسم شام میں امریکا کو کم از کم تکفیری ریاست میں امن لازمی درکار ہے۔ چنانچہ اس ہفتے امریکانے حیران کن بات یہ ہے کہ ایران نے حکومتی سطح پر خاموشی اختیار کی اگرچہ روحانی اور مولانا خامنہ ای کا بیان آ گیا ہے کہ بشار پر سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ لیکن جو بھی سمجھوتہ ہونا ہو گا اس کافیصلہ امریکا روس اور برطانیہ نے کرنا ہے۔ ایران کی کسی درجے شمولیت ہوئی تو وہ مولانا کی مجلس کی نہیں، بلکہ صدر روحانی کی حکومت ہو گی۔ شام کتنے حصوں میں بٹتا ہے، ابھی کسی کو معلوم نہیں لیکن یہ بٹے ہوئے حصے امریکا اور روس کے سیاسی حلقے میں ہوں گے ۔ حتیٰ کہ بشار کی تکفیری ریاست بھی روس کے سائے میں ہو گی ۔ ایران چاہے تو اس ریاست سے تجارتی معاملات کر سکتا ہے ، لیکن کیا یہ وہی خواب ہے جو ایران نے دیکھا تھا؟ بشکریہ روزنامہ 'جہان پاکستان'
---------------------
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.