.

سعودی خواتین کو ترقی میں کردار سے محروم نہ کیا جائے!

خالد المعینا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ منگل (8 مارچ) کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔اس موقع پر خواتین نے مضامین لکھے،دستاویزی لیکچر دیے اور اجلاسوں کا انعقاد کیا گیا جن میں خواتین کی ترقی اور کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا،ان کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا اور اور ان کی ترقی کے لیے نئے اہداف مقرر کیے گئے۔

7مارچ کو بھارتی خواتین ہوابازوں نے ائیرانڈیا کا ایک طیارہ دہلی سے سان فرانسیسکو تک اڑایا۔انھوں نے سترہ گھنٹے تک پرواز کی۔اس طیارے کا تمام عملہ خواتین پر مشتمل تھا۔اس سے پہلے تین مسلم خواتین نے ائیربرونائی کا ایک طیارہ دارالسلام سے جدّہ تک اڑایا تھا۔

خواتین نے گذشتہ تین عشروں کے دوران ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔وہ ملکوں کی صدور اور وزیراعظم منتخب ہوئی ہیں اور اپنے معاشروں میں تبدیلی کی ایجنٹس بنی ہیں۔امریکا میں پیپسی کولا کی سربراہ ایک بھارتی نژاد خاتون ہیں۔

میں مبالغہ آرائی نہیں کروں گا ،اگر میں یہ کہوں کہ یہاں سعودی عرب میں خواتین کے لیے سب کچھ ٹھیک ہے لیکن شہید شاہ فیصل کے دور حکومت میں بچیوں کی تعلیم کے لیے اداروں کے قیام اور مرحوم شاہ عبداللہ کے دور میں شوریٰ کونسل میں خواتین کی شمولیت کے بعد سے ان کی ترقی کا عمل دوچند ہوا ہے۔

خواتین کی ترقی کا عمل مسلسل جاری ہے اور حال ہی میں بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی شرکت اور ان کا منتخب ہونا اس بات کا مظہر ہے کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز خواتین کو سعودی معاشرے میں ان کا جائز مقام دلانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے۔

نصف آبادی

جو معاشرہ اپنی نصف آبادی کی کاروبار زندگی میں فعال شرکت کو نظرانداز کر دیتا ہے،ناکامی اس کا مقدر ٹھہرتی ہے۔جیسا کہ حال ہی میں ہلیری کلنٹن نے کہا ہے:''خواتین اور لڑکیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع دینے سے معیشتیں پروان چڑھتی ہیں اور اقوام محفوظ ہوتی ہیں۔یہ کرنے کی ایک اسمارٹ چیز ہے''۔وہ اس سے زیادہ درست نہیں ہوسکتی تھیں۔

سعودی خواتین دنیا بھر میں خواتین کے خاندان کا حصہ ہیں۔ان کے ساتھ بچوں ایسا بہت سلوک کیا جا چکا ہے۔وہ تعلیم یافتہ ہیں،وہ سماجی مہارتوں،ہنرمندی اور ٹیلنٹ کی حامل ہیں۔انھیں زیادہ دیر تک عقبی نشست تک محدود نہیں کیا جاسکتا ہے۔سماجی رسوم اور روایات کو انھیں پیچھے رکھنے کے لیے ایک ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔انھیں اپنا تحفظ کرنے کا اخلاقی اور روحانی اختیار حاصل ہے۔

خواتین اپنے مذہبی فرائض سے بخوبی آگاہ ہیں۔ہمارے یہاں بہت سے مرد حضرات ایسے ہیں جو ان پر بالادستی کی کوشش کرتے ہیں۔انھیں یہ طرزعمل اپنی بیویوں اور بیٹیوں کے ساتھ اختیار کرنے دیجیے مگر یہ طرز عمل اب زیادہ دیر تک چلے گا نہیں کیونکہ اب گھریلو تشدد اور ناروا سلوک کی روک روک تھام کے لیے قوانین موجود ہیں۔

1990ء کی دہائی میں ایک وقت میں چار مسلم خواتین اپنے اپنے ملکوں کی وزرائے اعظم اور صدور تھیں:ترکی میں تانسوچیلر ،پاکستان میں بے نظیر بھٹو اور بنگلہ دیش میں خالدہ ضیاء۔ان کے تھوڑے عرصے کے بعد انڈونیشیا میں میگاوتی سوئیکارنو پتری صدر منتخب ہوئی تھیں۔یہ تمام خواتین قدامت پسند مسلم اکثریتی ممالک میں ووٹوں کے ذریعے منتخب ہوئی تھیں۔

یہ تمام خواتین اور وزرائے اعظم اپنی اپنی کابینہ کے اجلاسوں میں اسی کمرے میں بیٹھا کرتی تھیں جہاں ان کے مرد وزراء بیٹھتے تھے بلکہ ان کمروں میں ہرطرف مرد ہی مرد نظر آتے تھے۔میں ہمیشہ سے یہ کہتا چلا آرہا ہوں کہ سعودی خواتین کا صلاحیت اور لیاقت میں مردوں سے اگر پلڑا بھاری نہیں تو وہ ان کے ہم پلّہ ضرور ہیں۔

خواتین کو اپنی بہنوں کی ترقی اور آگے بڑھنے کے لیے ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور مدد کرنی چاہیے۔مردوں کو بھی اپنی بیٹیوں ،بہنوں اور بیویوں کو تعمیری زندگیاں گزارنے کے لیے مواقع مہیا کرنے چاہییں۔یہی ہمارے ملک کی کامیابی اور ترقی کی کلید ہوگی۔

---------------------------------------
کہنہ مشق صحافی خالد المعینا اخبار ''سعودی گزٹ'' کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ان سے ان پتوں پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے:kalmaeena@saudigazette.com.sa اورTwitter: @KhaledAlmaeena

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.