کیا ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ معذرت کرے گا؟

سلمان الدوسری
سلمان الدوسری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

امریکا کے موقر اخبار واشنگٹن پوسٹ نے گذشتہ دوماہ سے زیادہ عرصے سے جمال خاشقجی کے قتل کے بھیانک جرم کے بعد سے سعودی عرب کے خلاف ایک غیر معمولی مہم شروع کررکھی ہے۔

اس مہم کے دوران میں اخبار نے ہر قانونی اور غیر قانونی مواد استعمال کیا ہے، خواہ وہ کسی بے نامی ذریعے نے افشا کیا تھا،اسے مشتبہ ذرائع سے ملا تھا، وہ ذاتی آراء پر مبنی مضامین تھے یا بلاجواز اور بے بنیاد دعوے تھے،اخبار نے انھیں سعودی عر ب کے خلاف مہم میں اپنے صفحات کی زینت بنایا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے سعودی قیادت کی کردار کشی کے لیے مہم چلائی اوراس پر مذموم حملے کیے ہیں،حالانکہ اس کے سعودی عرب کے خلاف مواد اور آراء میں کوئی معروضیت نہیں تھی۔

اس امریکی اخبار کے مدیران کے بارے میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ وہ پیشہ ور ہوں گے لیکن انھوں نے سعودی مملکت اور اس کی قیادت کے خلاف ذاتی حملے کیے ہیں اور بے بنیاد الزامات پر مبنی مہم چلائی۔یقینی طور پر اخبار کو جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے سے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ایک اچھا موقع مل گیا تھا ۔خواہ ان کا تعلق ٹرمپ انتظامیہ سے تھا یا کسی اور سے، اور سعودی عرب تو اس معاملے میں ایک اچھا ہدف ہوسکتا تھا۔

بہرکیف ،یہاں یہ ہمارا ایشو نہیں۔ہمیں اس سے غرض سے ہے کہ اخبار نے اپنی ہفتے کے روز کی اشاعت میں ’’واشنگٹن پوسٹ اسکینڈل‘‘ کے نام سے کیا شائع کیا ہے،اس کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے۔اس کو کیا نام دیا جاسکتا ہے؟

اس سے تو یہ انکشاف ہوا ہے کہ مرحوم جمال خاشقجی کے وہ تمام مضامین،بہ شمول ان کی اپنے ملک پر تنقید اور ان کا نقطہ نظر ،جس کی بنا پر انھیں سعودی عرب کا نقاد بنا کر پیش کیا جارہا تھا ،وہ سب کچھ دراصل ان کے حقیقی لکھاری کی پردہ پوشی کے لیے تھا اور اس پردہ زنگاری میں کوئی اور بول رہا تھا اور وہ تھا دوحہ کا رجیم۔

اس کا یہ مطلب ہے کہ قریباً ایک سال کے دوران میں جن درجنوں مضامین کی اشاعت ہوئی،ان میں فراہم کردہ تمام معلومات من گھڑت اور جعلی تھیں اور وہ سب کچھ ایک لکھاری کے نام سے لکھا گیا ،اس کی تصویر استعمال کی گئی لیکن درحقیقت ان سب کی لکھاری ایک ریاست تھی جو سعودی عرب کے خلاف کام کررہی تھی۔

کیا بین الاقوامی میڈیا نے کبھی اس طرح کا کوئی اسکینڈل ملاحظہ کیا ہے؟یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ قطر سے اس قسم کی حرکت کی توقع کی جاسکتی تھی ،بالخصوص ان کے خلاف، جنھوں نے اس کا حقیقی چہرہ بے نقاب کیا اور اس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

دوحہ نے ایک شہری کو اپنے ہی وطن کے خلاف مخالفانہ مؤقف اپنانے کے لیے کھڑا کیا اور دنیا کے بڑے اخباروں میں سے ایک کو فریب دہی سے استعمال کیا۔مثال کے طور پر بیرون ملک رہنے والے وہ تمام لوگ جو خود کو سعودی عرب کے مخالف یا باغی قرار دیتے ہیں، دوحہ نے انھیں اپنے مذموم منصوبے کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس نے انھیں پلیٹ فارمز اور ذرائع مہیا کیے تاکہ وہ اپنے ہی ملک پر حملہ آور ہوسکیں۔

چناں چہ یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ سعودی عرب کو تقسیم کرنے کے لیے قطر کا مشہور زمانہ اور ثابت شدہ سازش میں ہاتھ کارفرما تھا لیکن حقیقی حیرت تو اس بات پر ہے کہ واشنگٹن پوسٹ ایسا اخبار اس کے دامِ تزویر میں اور بڑے منفرد انداز میں آگیا۔اس نے ایک جعلی نام سے بہت سے مضامین شائع کیے اور اس نے وہ سب کچھ شائع کیا جس سے اس (قطر) کے ایجنڈے کی کامیابی کو یقینی بنایا جاسکتا تھا۔

ممکن ہے اگر جمال خاشقجی ،اللہ ان کی مغفرت فرمائے ،کی ناگہانی موت واقع نہ ہوتی تو یہ سچائی کبھی بے نقاب نہ ہوتی اور قطر آیندہ برسوں کے دوران میں بھی اس طرح کے جھوٹے مضامین چھپوانے کا سلسلہ جاری رکھتا۔

یہ صرف سعودی عرب ہی نہیں تھا جس کو ان مضامین میں ہدف بنایا گیا تھا بلکہ خود امریکی انتظامیہ کو بھی قطر کے ناقدانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ دوحہ کے حکام نے سعودی عرب پر حملوں کے لیے دوسرے نامعلوم میڈیا ذرائع اور لکھاریوں کو بھی استعمال کیا ہے۔ اس نے امریکا اور ایسی کسی اور ریاست کے خلاف بھی یہی کام کیا ہے جو اس کے تخریبی منصوبے کی مخالف ہے۔

البتہ فرق صرف یہ ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے اسکینڈل کا تو پتا چل گیا ہے اور دوسرے میڈیا اداروں کے بارے میں ابھی انکشاف ہونا باقی ہے۔

اگر واشنگٹن پوسٹ کو ایسے جھوٹے مضامین کی اشاعت کے لیے دھوکا دیا جاسکتا ہے جن میں بہت سے غلط اندازے اور تخمینے لگائے گئے تھے،غلط نتائج اخذ کیے گئے تھے،جھوٹے نظریات اور الزامات کی تشہیر کی گئی تھی تو پھر اس کو اس پر معذرت کرنی چاہیے۔اگر اس کے مدیروں میں سے کوئی اس سازش میں شریک تھا تواس کو ایک سو مرتبہ معافی مانگنی چاہیے۔

معاملہ خواہ کچھ ہی ہو،اس اخبار کو اب ایک دلیرانہ اقدام کرنا چاہیے اور سعودی عرب ،اس کی قیادت اور عوام کے خلاف دشنام طرازی اور جارحانہ حملوں پر معافی مانگنی چاہیے۔

تو کیا واشنگٹن پوسٹ معذرت کرے گا؟

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں