.

روزہ: ایثار سے تزکیہ نفس تک

ڈاکٹر محمد آصف احسان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اضطراب و پریشانی اور راحت و سکون محض کیفیات کے نام ہیں، ان کا حقیقی وجود نہیں۔انسان اس وقت رنج و غم محسوس کرتا ہے جب کوئی شے اس کی توقعات کے برعکس وقوع پذیر ہو اور وہ خوش ہوتا ہے جب اس کی امیدیں برآئیں۔ زندگی ہر طرح کے جذبات و حالات سے عبارت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا ادھوری ہے یہاں نہ وسائل کی تقسیم برابر ہے نہ مسائل کی۔ اگر دنیا مکمل ہوتی تو ہر شے مساوی انداز میں موجود ہوتی اختیار، اقتدار، دولت، رتبہ، سلطنت، صحت، عزت حتیٰ کہ کرب و بلا میں بھی یکسانیت ہوتی۔کہیں فرق نہ ہوتا، کوئی تفاوت نہ ہوتا۔انسان حاکم ہوتا اور نہ محکوم، امیر ہوتااور نہ غریب،بالاتر ہوتا اورنہ کم تر، تن درست ہوتا اورنہ بیمار۔لیکن یہ بنانے والے کی تدبیر و حکمت کا حسن کمال ہے کہ اس نے ہر چیز میں تنوع اور رنگارنگی رکھی ہے تاکہ انسان نعمت کی قدر کرے، جو لوگ عاجز و محروم ہیں، ان کی دستگیری کرے اور کارگہ ہستی کے کام چلتے رہیں۔

آرام و آسائش اور فضیلت و رتبے کی مسلسل تگ و تاز نفسیاتی غلامی کی بدترین مثال ہے۔انسان کو ہمیشہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اس کی سماجی برتری زبوں حالی کا شکار نہ ہو جائے۔چناں چہ لوگوں کی قلیل تعداد کو چھوڑ کر اکثریت اپنے بہتر مستقبل کے لیے دوسروں کے حقوق سلب کرتی ہے اور ان کا معاشی استحصال کرتی ہے۔ یہی لیل و نہار اور تاریخ کا ناقابل فراموش سبق ہے جو بدقسمتی سے عرصہ دراز سے جاری و ساری ہے۔

اخلاق و کردار کی بلندی اور لوگوں کے ساتھ معاملات کی درستی کے لیے روحانی پاکیزگی کا حصول ضروری ہے۔ باطن عفونت زدہ ہو تو ظاہر سے خوشبو نہیں آ سکتی۔ایک خودغرض اور لالچی شخص سے ایثار و سخاوت کی توقع رکھنا فضول ہے۔اسی بنا پر ہر دور میں اہلِ کرم و معرفت نے خداشناسی کا درس دیا، جودوسخا کی تلقین کی اور واضح طور پر بتایا کہ لوگوں کی راہ نمائی کے منصب پر فائز ہونے سے پہلے ان کی خدمت کرنا لازم ہے۔

مثال کے طور پر رواقیت (Stoicism) کو دیکھیں۔اس کی ابتدا تیسری صدی قبل مسیح میں یونانی دارالحکومت ایتھنز میں ہوئی۔ممتاز فلسفی اور مفکر افلاطون، جو سقراط کا شاگرد اور ارسطو کا استاد تھا، کے افکار و نظریات نے اس دبستانِ فکر کے تصورات میں نئی روح پھونکی۔ رواقی مکتب فکر نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اچھائی اور نیکی دنیا کی فطری خاصیت ہے۔چناں چہ اخلاقیات اور ضبطِ نفس کے اصولوں کی پاسداری کرنا ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔ ہر کسی کو نعمت کے زوال کے لیے تیار رہنا چاہیے تاکہ اگر کبھی حالات خراب ہوں تو دھچکے کی شدت توقعات کے مطابق ہو۔ یہ لوگ ہر مہینے میں کچھ دنوں کو مختص کرتے۔ان دنوں میں پھٹے پرانے کپڑے پہنتے، بہت کم کھاتے اور پیتے اور اپنے گھر کی آسائشوں سے دور جنگلوں اور بیابانوں میں رہتے تھے۔

مگر اسلام نے بے لوث طرزِ زندگی، روحانی بالیدگی اور تزکیہ نفس کے لیے روزہ تجویز کیا۔ ظہوراسلام کے ابتدائی برسوں میں قریشِ مکہ نے اپنے ظلم و ستم سے مسلمانوں کا ناطقہ بند کر دیا تھا۔عرب کے دیگر قبائل نے بھی اہل اسلام کے ساتھ تجارتی و معاشی روابط منقطع کر دیے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عملی طور پر نان شبینہ کے محتاج تھے۔ تنگ دستی اور خستہ حالی کی وجہ سے روزہ ،جو عرف عام میں فاقہ کشی کا نام ہے، رکھنا بہت آسان تھا۔ اس کے علاوہ روزہ ایک خاموش طریقہ عبادت تھا۔نماز کی علانیہ ادائی مشرکینِ مکہ کی آنکھوں میں خارمغیلاں کی طرح چبھتی تھی۔روزے میں نماز کے برعکس کسی مزاحمت کا اندیشہ نہیں تھا۔ چناں چہ مکی دور میں روزہ ہر اعتبار سے ایک موزوں ترین عبادت تھی۔باایں ہمہ رمضان المبارک کے روزے ہجرت کے دوسرے سال میں غزوۂ بدر سے پہلے فرض کیے گئے۔ کیا وجہ تھی کہ حالات و واقعات کی مناسبت کے باوجود روزے کی فرضیت کا حکم پہلے نازل نہیں ہوا؟ اس تاخیر کی حکمت بہت لطیف ہے۔ہجرت کے بعد مسلمانوں کو کفار مکہ کے جبرواستبداد سے نجات ملی۔انصار کے ایثار نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو فکرِمعاش سے کافی حد تک بے نیاز کر دیا تھا۔فتوحات کا سلسلہ شروع ہونے کے قریب تھا۔قیصر و کسریٰ کے خزانے لشکرِ اسلام کے تصرف میں آنے والے تھے۔سادگی اور فقر کے خوگر تونگری اور دنیا کی خیرہ سری کا مشاہدہ کرنے والے تھے۔ دراصل یہ حالات تھے جب مرض کی ولادت سے پہلے اسلام نے اس کے علاج کی تدبیر کی۔

روزہ ایک ایسی جسمانی عبادت ہے جو غریبوں کے ساتھ غمگساری کا درس دیتا ہے اور گناہوں کی غلاظت سے روح کو پاک کرتا ہے۔فکر و اندوہ اور نکبت و افلاس کا محض تصور کافی نہیں، ایک سچے مسلمان کی دردمندی اور فضیلت کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزے کی حالت میں ان مشکلات کا عملی طور پر سامنا کرے جن کا ان گنت لوگ شکار ہیں بھوک، پیاس برداشت کرنا زندگی کی بہت بڑی آزمائش ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ غربت کئی اخلاقی اور سماجی برائیوں کو جنم دیتی ہے روزی کفایت نہ کرے تو دھونس، دھاندلی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری ایسی اخلاقی برائیاں زور پکڑتی ہیں۔انسان بہتان تراشی، حسد اور دروغ گوئی جیسی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔آج کروڑوں لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ روزہ جس ایثار و ہمدردی کی تاکید کرتا ہے اگر اس پر عمل کیا جائے اور فقراء و مساکین کی مالی مدد کی جائے تو لاتعداد لوگوں کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔

رمضان کے بابرکت مہینے کی شروعات ہے۔ ہر کسی کو تزکیہ نفس کے ساتھ اپنی اور ایثار و سخاوت کے ساتھ دوسروں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ہم سب ایک کشتی کے مسافر ہیں۔ چناں چہ زندگی کا سفر مل جل کر طے کرنا چاہیے۔ یہی روزے کی غرض و غایت ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.