.

امارات اور اسرائیل

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی عالمی برادری میں شامل 193 ملکوں میں سے 163 اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کے باہمی سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ ان اعداد وشمار کو دیکھ کر یہ باور کرنا مشکل نہیں کہ 13 اگست بروز جمعرات کو طے پانے والا اسرائیل۔امارات امن معاہدہ اتنا خطرناک نہیں، جتنا اسے خطرناک بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات مسئلہ فلسطین کے حل کی خاطر 27 برس قبل طے پانے والے معاہدہ اوسلو کے بعد قائم ہو رہے ہیں۔ نیز یہ پیش رفت 40 برس قبل اسرائیل بھیجے جانے والے پہلے مصری سفیر سعد مرتضی کی تل ابیب آمد کے بعد ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ 24 برس قبل، ملتی جلتی مگر غیر علانیہ، پیش رفت کے بعد قطر میں پہلے اسرائیلی عہدیدار تشریف لائے اور وہاں صہیونی ریاست کی چانسری پر نجمہ داؤد [ڈیوڈ سٹار] سے مزین اسرائیلی پرچم لہرایا گیا۔

اسرائیل اور عربوں کے سفارتی، تجارتی اور کھیلوں کے میدان میں رابطے اور تعلقات کبھی جمود کا شکار نہیں ہوئے۔ قطر اور بعض فلسطینی رہنماؤں کی جانب سے امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے پر تنقید دراصل عرب ملکوں کے درمیان تعلقات کے ضمن میں مترشح ہونے والے باہمی اختلافات کا مظہر ہیں، اس تنقید کا اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے نتیجے میں جنم لینے والے مبینہ خطرات سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔

اسرائیل سے تعلقات پر بات کرتے وقت ہم دو اہم باتیں یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔ پہلی یہ کہ کسی عرب شخصیت اور ریاست کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ فلسطینیوں کو یہ سبق پڑھائیں کہ انھوں نے اسرائیل سے اپنے تعلقات یا مسئلہ فلسطین کو کیسے لے کر چلنا ہے؟ یہ مسائل فلسطینیوں نے رام اللہ میں اپنی قانونی اتھارٹی کے ذریعے خود دیکھنے ہیں۔ انھوں نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اسرائیل سے ایک ریاست کے طور پر کیسے معاملات کرتے ہیں، انہیں اس مقصد کے لیے ایک یا دو ریاستیں بنانا ہیں۔

انھوں نے ہی یہ بات طے کرنا ہے کہ ان کی مملکت کا دارلحکومت القدس ہو گا یا کوئی اور علاقہ۔ فلسطینیوں کی وطن واپسی کے معاملے پر بھی ان کی رائے مقدم ہو گی۔ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ چاہتے ہیں یا امن؟ ان تمام امور کا فیصلہ فلسطینیوں نے خود ہی کرنا ہے۔ فلسطین کا فیصلہ فلسطینیوں نے کرنا ہے، اس میں شامیوں، ایرانیوں، قطریوں یا سعودیوں کو کچھ لینا دینا نہیں۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہر عرب ملک کو اپنے بین الاقوامی تعلقات بشمول اسرائیل سے روابط استوار کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہ معاملہ ہر آزاد وخود مختار ملک کو اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر طے کرنا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں وہ فلسطینیوں یا دوسرے عربوں کی چوائس کو خاطر میں لانے کے پابند نہیں۔

جب سوڈان کی عبوری حکمران کونسل کے چیئرمین عبدالفتاح البرھان سے عمر البشیر حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل سے راہ ورسم بڑھانے سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ ’’ایسا کرنا سوڈان کے سپریم قومی مفاد میں ہے۔‘‘ آج علاقائی بحرانوں میں گھرے متحدہ عرب امارات کو بھی اپنے وسیع تر قومی مفاد میں فیصلے کا حق ہے۔

خلیجی ملک قطر نے 1996ء میں اسرائیل کے لیے اپنے دروازے کیوں کھولے؟ دوحا نے اسرائیل کے تجارتی دفتر کا اپنے ہاں افتتاح کیوں کیا اور اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم شمعون پیریز کو قطر میں ریڈ کارپٹ خیر مقدم کیوں کیا؟ یہ سب اس وقت کے قطری حکمران حمد بن خلیفہ نے اپنے والد کا تختہ الٹنے کے صرف تین ماہ کیا۔ اس کا واضح سبب یہ تھا کہ وہ اپنے اقتدار کو مضبوط بنانا چاہتے تھے۔ ایک بڑے اسٹرٹیجک فریم ورک میں مصر کے سابق صدر انور السادات نے مصر کے سپریم نیشنل انٹرسٹ میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا اور تل ابیب سے سفارتی تعلقات استوار کیے۔

درحقیقت، عربوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا مرحلہ عبور کر لیا ہے۔ یہ کوئی انہونی بات یا صدمہ نہیں بلکہ اس قصہ پارینہ پر گفتگو ’بورنگ‘ ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیلی تمام عرب دارلحکومتوں کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر اتر رہے ہیں، جہاں ان کا سرکاری سطح پر بطور سفارتکار، کھلاڑی، سکیورٹی اہلکار یا صحافی خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔

ان تمام برسوں میں فلسطینی دراصل نقصان میں رہے۔ سب کچھ ان کا نام لے کر ہوتا رہا، مگر ان کے ہاتھ پلے کچھ نہ آیا۔ دنیا بھر میں پھیلے فلسطینی مہاجرین کی وطن واپسی ممکن ہو سکی اور نہ ان کی ریاست کو عالمی سطح پر پذیرائی اور اعتراف حاصل ہوا۔ نہ ہی فسلطینی عوام کو امداد اور دیگر سہولیات میسر آ سکیں۔ اب یہ فلسطینی قیادت کی اپنی پسند ہے کہ وہ خبریں دیکھ کر ان پر منفی طرز کے بیانات دے کر اپنی کرسی مضبوط رکھیں کیونکہ ان کے پاس اپنے عوام کو مطمئن کرنے کو کچھ نہیں۔

منصہ ظہور پر آنے والی حالیہ علاقائی پیش رفت کو روبعمل آنے سے روکنے پر فلسطینی اگر قادر نہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ ان سے فائدہ اٹھائیں۔ وہ مسئلہ فلسطین کے حل اور اپنے عوام کی ضروریات کی تکمیل کو مقدم جان کر قدم اٹھائیں۔ فلسطینی عہدیدار جب خود کو قطر اور ترکی کے مخالفانہ کھیل میں فٹبال کے طور پر پیش کرتے ہیں تو ہمیں ان کی حالت پر دکھ ہوتا ہے۔ زمینی حقائق کو منفی انداز میں دیکھنے سے فلسطینیوں کے دلدر دور نہیں ہوئے۔ انہیں سمجھنا چاہئے کہ کن حالات میں عربوں سے اسرائیل کے سفارتی تعلقات قائم ہو رہے ہیں۔ ان امور کا معروضی حالات کی روشنی میں ادراک اور فہم مسئلہ فلسطین کے حل میں ممد ومعاون ثابت ہو سکتا ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.