.

پاک ۔ سعودی تعلقات ٹریک پر واپس

ڈاکٹر علی عواض العسیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی وزیراعظم عمران خان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اس اعلیٰ سطح کے دورے کے لیے زمین ہموار کرنے ریاض پہنچے تھے۔ میڈیا اس دورے کو پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دے رہا ہے، خاص طور پر معیشت، تجارت اور ماحولیاتی تعاون کے تناظر میں۔

اس سے دونوں برادر ممالک کا فائدہ بڑھتا ہے کیونکہ ان کی تاریخی دوستی کو گذشتہ سال بدقسمتی سے خلل کا سامنا رہا ہے۔ خوش قسمتی سے دونوں اطراف کی قیادت کافی سمجھدار تھی کہ انہوں نے اس چیلنج کو دیکھا اور سعودی-پاکستان تعلقات کو دوبارہ پٹری پر واپس لے آئیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس سمجھداری کی جڑیں عوام سے عوام کے تعلقات میں ہیں جو بالآخر انہیں عارضی خرابیوں پر قابو پانے اور باہمی تشویش اور دلچسپی کے امور پر تعاون کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس بار بھی کچھ مختلف نہیں ہوا۔ یہاں ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ایسا کیونکر ہوا۔
سنہ 2018 میں وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد عمران خان ولی عہد سے ایک ذاتی تعلق استوار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

انہوں نے اگلے دو مہینوں میں سعودی عرب کا دو دفعہ سفر کیا۔ دوسری بار ولی عہد کی ذاتی دعوت پر سعودی وژن 2030 کے تحت منعقد ہونے والی فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو میں شرکت کی۔

عمران خان کو ادائیگیوں میں توازن کا سنگین بحران ورثے میں ملا تھا۔ چنانچہ سعودی عرب نے 6.2 ارب ڈالر کے مالیاتی ریلیف پیکج کی پیش کش کی۔ جس میں 3 ارب ڈالر کا قرضہ اور 3.2 ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی شامل تھے۔ ریاض کے نقش قدم پر چلتے ہوئے متحدہ عرب امارات نے بھی پاکستان کو 6 ارب ڈالر کی اضافی مدد کی پیش کش کی۔

فروری 2019 میں جب سعودی ولی عہد نے پاکستان کا دورہ کیا تو عمران خان خود گاڑی چلا کر انہیں وزیراعظم ہاؤس تک لے کر گئے۔

ایک اور مثال جو دونوں کرشماتی رہنماؤں کے مابین ذاتی تعلق کی علامت ہے، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خوشی سے پاکستانی وزیراعظم سے کہا کہ ’میں سعودی عرب میں آپ کا سفیر ہوں۔‘ (اس سال کے آخر میں سعودی ولی عہد نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں جانے کے لیے عمران خان کو اپنے ذاتی جہاز کی پیش کش کی۔ یہاں تک کہ سنہ 2020 میں جب مختصر عرصے کے لیے سعودی-پاکستان تعلقات ایک مشکل دور سے گزر رہے تھے، عمران خان نے اعلان کیا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ قریبی دوست رہیں گے۔‘)

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سنہ 2019 کے تاریخی دورے کے دوران سعودی-پاکستان کے معاشی میدان میں تزویراتی تعلقات میں پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری کے اعلان کے ساتھ ایک بڑی تبدیلی دیکھی گئی۔ اس میں گوادر میں 10 ارب ڈالر کی آرامکو آئل ریفائنری اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس بھی شامل ہے۔ باقی سرمایہ کاری کان کنی اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں ہوئی۔

یہ باہمی تجارت کے حجم کو، جس کی مالیت دو ارب ڈالر تھی، بڑھانے کے لیے آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کی کوششوں کے متوازی تھا۔
ماضی میں دونوں ممالک نے سکیورٹی اور جیوپولیٹیکل معاملات پر ایک دوسرے سے قریبی تعاون کیا اور سعودی عرب کی معاشی مدد تیل مراعات تک محدود رہی۔ لیکن اب پہلی بار سعودی عرب پاکستان کی پاکستان کی طویل مدتی معاشی ترقی میں دلچسپی لے رہا تھا۔

خاص طور پر اس طرح کی سرمایہ کاری کے لیے گوادر کا انتخاب سعودی عرب کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) میں شمولیت کے رحجان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اب اگلا منطقی اقدام یہ ہوتا کہ پاکستان میں مجوزہ سعودی معاشی منصوبوں کے ترقیاتی منصوبوں پر مشترکہ طور پر کام کریں۔

بدقمستی سے بین الاقوامی قوتیں سعودی عرب کی مسلم دنیا میں غیر معمولی حیثیت اور سعودی-پاکستان کے تاریخی اتحاد سے پریشان ہیں۔ اس حقیقت کو ہضم نہیں کر سکیں کہ دونوں برادر ممالک اپنے تعلقات کو ایک مختلف سطح پر لے جا رہے ہیں، جہاں ان کے جیو-معاشی مفادات مستقبل میں ایک ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہماری موجودہ تاریخ کا ایک افسوس ناک حصہ ہے، جو یاد کرنے کے قابل نہیں۔

البتہ جو بات قابل بیان ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اسلام کا قلب ہے اور رہے گا اور کوئی دوسرا ملک اس کا دعویٰ نہیں کر سکتا ہے۔ تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) 57 مسلم ممالک کی واحد نمائندہ تنظیم ہے اور متبادل مسلم بلاک بنانے کی کوئی بھی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی-پاکستان تعلقات ان کے عوام کے ایک دوسرے سے محبت اور پیار سے پیوستہ ہیں اور ان کی قدرتی طور پر تاریخی شراکت داری میں کوئی سازش رکاوٹ نہیں بن سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کشمیر پر او آئی سی کے کردار سے متعلق جھوٹا بیانیہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکا۔ یہی وجہ ہے کہ آخر کار پاکستان کے لیے سعودی معاشی مدد کی مایوس کن تصویر کشی وقت کے امتحان میں ناکام ہو گئی۔

خوش قسمتی سے دونوں ممالک کے پاس رابطوں کے باضابطہ اور غیر رسمی چینل موجود ہیں تاکہ کسی بھی طرح کی غلط فہمی یا جان بوجھ کر غلط معلومات کے ذریعے تعلقات کو متاثر کرنے کی کوششوں پر قابو پایا جا سکے۔ ان کا رشتہ اٹوٹ ہے کیونکہ دونوں کے عوام کی مرضی پر قائم ہے۔

لہذا دونوں برادر ممالک مشکل وقت میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہتے ہیں۔ دونوں مقدس مساجد کے دفاع سے لے کر دہشت گردی کی لعنت کو شکست دینے تک پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کا اہم شراکت دار رہا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب نے بھی پاکستان کو اس کے مشکل وقت میں کبھی مایوس نہیں کیا ہے۔ چاہے وہ 9/11 کے بعد کی دہشت گردی ہو یا سنہ 2005 کا زلزلہ ہو۔

دونوں ممالک افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے بھی قریبی تعاون کرتے ہیں۔ سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ بڑھتا حالیہ ربط و تعاون اسلامی بنیادوں پر قائم انہی برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کا جدہ کا دورہ ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات اسی سطح پر واپس آ گئے ہیں جو دو سے زائد سال قبل سعودی ولی عہد کے دورہ اسلام آباد پر تھے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اگلے سال تک دو ارب ڈالر کے قرضوں کے حصول کا مطلب ہے کہ ان کے متعلقہ امدادی پیکجز کی بحالی کی ضرورت ہے۔ جس کی پاکستان کو کورونا کی تیسری لہر کی تباہ کاریوں کے اثرات سے بچانے کی اشد ضرورت ہے

اس دورے سے پاکستان میں 20 ارب ڈالر کے سعودی ترقیاتی منصوبوں، خاص طور پر گوادر میں آرامکو آئل ریفائنری اور پیٹرو کیمیکل کمپلیکس پر کام شروع ہونے کی امید ہے۔ دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے کسٹم تعاون کا ایک جامع معاہدہ بھی مبینہ طور پر ایجنڈے میں شامل ہے۔

مزید یہ کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے اپنے سعودی ہم منصبوں سے تقریباً ایک ہفتے کے طویل باہمی روابط اور لیفٹیننٹ ریٹائرڈ جنرل بلال اکبر کی حال ہی میں سعودی عرب میں بطور پاکستانی سفیر کے تعیناتی دونوں ممالک کے درمیان دفاع اور سٹریٹجک تعلقات میں بہتر ہم آہنگی کو یقینی بنائے گی۔

درحقیقت اس بار تعلقات کی خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی کے معاملات پر دفاع اور معیشت سے بالاتر گہرے تعاون کی توقع کی جا رہی ہے۔
عمران خان نے سعودی ولی عہد کا وژن شیئر کیا ہے، جنہوں نے حال ہی میں سعودی گرین اور گرین مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ جو پاکستانی وزیراعظم کی حکومت کے صاف اور گرین پاکستان اقدام کے مطابق ہے۔

خوش قسمتی سے سعودی-پاکستان تعلقات میں یہ پرجوش لمحہ علاقائی سیاست میں سازگار موڑ کے درمیان رونما ہو رہا ہے۔ جس میں سعودی عرب نے ایران کو امن کی پیشکش کی، قطر کے بحران کا خاتمہ ہوا اور کشمیر میں پاکستان اور انڈیا کا سیزفائر ہوا۔

اس پیش رفت سے سعودی عرب اور پاکستان کے لیے اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام پر اپنی مشترکہ کوششوں کو مرکوز کرنے کے لیے سفارتی جگہ یقینی طور پر بڑھ جائے گی۔ [بشکریہ اردو نیوز]

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.