.

روس ۔ یوکرین تنازع اور بین الاقوامی منافقت

شہزادہ ترکی الفیصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ہفتے سے جنگ کی دھول اڑاتا روس اور یوکرین تنازع دل بینا رکھنے والے ہر شخص کے سامنے عالمی منافقت کی پرتیں کھول کر بیان کر رہا ہے۔ منافقتوں کی اس طویل فہرست سے قابل ذکر مثالیں درج ذیل سطور میں بیان کی رہی ہیں۔

پہلی منافقت کا مظاہرہ اقوام متحدہ نے کیا۔ امریکہ نے 2003 کو اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر عراق پر حملہ کر دیا۔ حملے کی دنیا بھر سے مذمت ہوئی لیکن سکیورٹی کونسل امریکی ویٹو کی وجہ سے اس واقعے کی مذمت کرنے کی جسارت نہیں کر سکی۔ امریکی جارحیت کے بعد دنیا واشنگٹن پر اجتماعی پابندیاں بھی عائد نہ کر سکی۔

آگے چلتے ہیں ۔۔۔ 2014 میں روس نے یوکرین کے اندر کریمیا پر حملہ کیا۔ اس حملے کے لیے بھی اقوام متحدہ سے اجازت لینا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ اس بار اقوام متحدہ روسی ویٹو کی بنا پر صم بکم عمی کی تفسیر بنی رہی۔ تاہم روسی فیڈریشن پر امریکہ اور یورپی ملکوں نے پابندیاں ضرور لگائیں [یہ اقدام امریکی اور یورپی منافقت کی روشن مثال تھا]۔

روسی دوغلے پن کا ذکر کیے عالمی سطح پر منافقت کی شرمناک داستان مکمل نہیں ہوتی۔ شام میں بشار الاسد حکومت بچانے کے لیے روس نے لشکر کشی کی۔ بشار الاسد ان عرب رہنماؤں میں سرفہرست تھے کہ جنہوں نے اپنے ہی عوام پر بمباری کی۔ انہیں جیلوں میں ڈالا اور زندہ بچ جانے والوں کو مہاجرت کا عذاب جھیلنے کے لئے بے یار ومددگار چھوڑ دیا۔ شامی صدر کے مظالم تادم تحریر جاری ہیں۔

حالات کی ستم ظریفی دیکھیے اب روس اپنے عوام کے تحفظ کو بنیاد بنا کر یوکرین پر چڑھ دوڑا ہے۔ روس کا دعوی ہے کہ یوکرین اپنے ہاں بسنے والے ماسکو نواز شہریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے۔ ولادیمیر زیلنسکی کی بمباری سے یوکرین میں بسنے والے روس نواز شہری بے گھر ہوئے اور بچ جانے والوں سے جیلیں بھرنا شروع کر دی گئیں۔

امریکہ، یورپی یونین اور دیگر ملکوں کی منافقت کا تیسرا نمبر ہے۔ اسرائیل نے 1967 میں تین عرب ملکوں پر حملہ کیا جس کے بعد اقوام متحدہ میں منظور ہونے والی قرارداد نمبر 242 اور 338 میں یہ مطالبہ سامنے آیا کہ تل ابیب قبضے میں لیے گئے عرب علاقوں سے باہر نکل جائے کیونکہ ’’جن علاقوں پر جنگ میں ہاتھ صاف کیا گیا ہو انہیں بین الاقوامی قانون کے کسی ریاست میں ضم نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

اسرائیل نے اس مسلمہ بین الاقوامی قانون کو دیوار سے دے مارا۔ تل ابیب نے عرب۔اسرائیل جنگ کے دوران زیر قبضہ آنے والوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد سے آج تک صہیونی ریاست ٹکڑے ٹکڑے کر کے فلسطینیوں کی زمین چوری کا ارتکاب کر رہی ہے۔

امریکہ، یورپی یونین اور دوسرے ملکوں نے یوکرین پر حملے کی پاداش میں روس پر کڑی پابندیاں عاید کی ہیں۔ دنیا اگر چاہتی ہے کہ ہم غیر جانبدار رہیں تو مذکورہ بالا تنازعات سے متعلق منافقانہ طرز عمل ترک کرنا ہو گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور پر عمل کرتے ہوئے عالمی طاقتیں دوہرے معیار اور منافقانہ طرز عمل سے دست کشی اختیار کریں۔ بہ شکریہ عرب نیوز

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں